- الإعلانات -

یہ بھارتی درندگی ۔ ۔۔ !

مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیر اور محبوبہ مفتی کے ترجمان نعیم اختر کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جس طرح عام شہریوں کے خلاف پیلٹ گنوں کا استعمال کیا گیا اس کا دفاع کسی بھی طور ممکن نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں پولیس کے ہاتھوں ایک 12 سالہ بچے کی شہادت کے بعد کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے ۔شہر کے بہت سے مقامات پر کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ شہادت کے بعد مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں ۔ یاد رہے 12 سالہ بچہ جنید محمد جمعے کے روز مظاہرے کے دوران زخمی ہو گیا تھا جو ہفتے کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا ۔ بچے کے والدین کا کہنا ہے کہ جنید ابھی محض 11 سال اور کچھ ماہ کا تھا۔ واضح رہے کہ اس بچے کی شہادت کے بعد تازہ کشیدگی کے دوران شہادتوں کی تعداد 109 سے تجاوز کر گئی ہے ۔ یہ مسلسل چودہواں جمعہ ہے جب مساجد میں جمعہ پڑھنے کی پابندی ہے ۔ یہاں تک کہ محرم میں بھی مسلمانوں کو اپنے مذہبی فرائض انجام دینے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ ایک دوسرے واقعے میں جمعے کی رات کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیاں میں بھارتی فوجیوں کے وحشیانہ حملے میں تین افراد زخمی ہو گئے ہیں ۔ یاد رہے کہ مقبوضہ ریاست میں ساڑھے تین ماہ سے کشیدگی کی لہر میں ہزاروں افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ جن کی اکثریت چھروں والے کارتوسوں کے استعمال سے زخمی ہوئی ہے اور ایک بھاری اکثریت کی بینائی مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے ۔ خیال رہے کہ آزادی کی تازہ لہر حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی آٹھ جولائی کو پولیس کے ہاتھوں شہادت کے بعد شروع ہوئی جس میں اب تک 113 سے زائد افراد شہید کر دیئے گئے ہیں جبکہ ہزاروں دیگر افراد زخمی ہیں۔ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بھارتی حکمران پچھلے ستر برسوں سے ہی ہر ممکن طریقے سے پاکستان کی بابت جارحانہ روش اپنائے ہو ئے ہے ۔ دوسری جا نب یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ بھارتی کانگریس کے نائب صدر ’’ راہل گاندھی ‘‘ نے مودی کو ’’دلال‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی انسانوں کے خون کا سوداگر ہے اور بھارتی فوجیوں کی موت کا ذمہ دار مودی ہے ۔ موصوف نے اترپردیش میں جلسے کے دوران کہا کہ مودی نے بھارتی عوام سے جھوٹے وعدے کیے،مودی ہر جگہ دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کی بات کرتے ہیں لیکن خزانے میں ایک روپیہ تک نہیں ہے،صرف مودی اور اس کے چیلے چانٹے خوش ہیں ملک میں کوئی اوران کی حرکتوں سے خوش نہیں ہے۔اس تمام صورتحال کا جائزہ لیتے انسان دوست مبصرین نے کہا ہے کہ اگر بھارتی سرکار نے اپنی روش تبدیل نہ کی اور انسانی حقوق کی پا مالیوں کا سلسلہ نہ روکا تو نسل انسانی کسی بد ترین سانحے کا شکار ہو سکتی ہے اور اس صورتحال کے لئے عالمی برادری کی بے حسی اور دہلی سرکار کی ہٹ دھرمی کے علاوہ کسی اور کو ذمہ دار نہیں قرار دیا جا سکتا ۔ مبصرین نے یہاں اس امر کو بھی خاصی توجہ کا حامل قرار دیا ہے کہ گیارہ اکتوبر کو بھارت کے طول و عرض میں دسہرے کا تہوار منایا گیا ۔ بھارتی وزیر اعظم مودی نے اس موقع پر لکھنؤ میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنی جنونی ذہنیت کا اعادہ کیا اور اس حوالے سے ایسی سر و پا باتیں کیں جن کا حقائق سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ۔ دوسری جانب رواں ہفتے کے شروع میں اتر پردیش کی سابقہ وزیر اعلیٰ ’’ مایا وتی ‘‘ نے دہلی سرکار کو روایتی جھوٹا قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ مودی سرکار کو جھوٹ کا دامن چھوڑ کر سچائی کو اپنانا چاہیے اور مقبوضہ کشمیر میں اور دلتوں کے خلاف مظالم ڈھانے کا سلسلہ بند کرنا چاہیے ۔
****