- الإعلانات -

ایک ہوں مسلم حر م کی پاسبانی کیلئے-

پاکستان کے یوں تو چار ہمسائے ہیں جن میں انڈیا ،چین ،ایران اور افغانستان شامل ہیں ان میں دو مسلم اور دو غیر مسلم ملک ہیں مسلم ممالک یوں تو ایک مذہبی رشتے ہیں ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور جڑنا بھی چاہیے کیونکہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو مسلما نوں کو آپس میں جوڑتاہے مگر یہاں معاملہ کچھ الٹ ہے اس کی بڑی وجہ انڈیا کو ان دو مسلم ملکوں ایران اور افغانستان پر اثر انداز ہونا بھی ہے بھارت ان دو ملکوں کو پاکستان سے بد زن کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑ رہا اور ان دو ملکوں کو ہر طرح سے یہ باور کرانا چاہتاہے کہ وہ ان کا دوست ہے جبکہ پاکستان ان کا دشمن ملک ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ ان ملکوں کی قیادت وقتی طور پر پاکستان سے ناراض ضرور ہے مگر وہ بھروسہ صرف مسلم ملک پر ہی کرتی ہے بات کی جائے اگر افغانستان کی تو اس ملک پر پاکستان کے بہت سے احسانات ہیں اور جس طرح پاکستان نے اس ملک کا ساتھ دیا کوئی برادر ملک ہی دے سکتا ہے پاکستان نے ہر مشکل وقت میں افغانستان کا ساتھ دیا یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے عوام پاکستان کے بارے میں بہت نرم رویہ رکھتے ہیں پاکستان نے تیس سال تک افغانیوں کی مہمان نوازی کی اور اب بھی کر رہا ہے افغانستان کے بحران کی وجہ سے اس کی معیشت ،کاروبار ،اور دیگر معاملات پر برے اثرات مرتب ہوئے مگر پاکستان نے ہر قربانی دی حالیہ دور میں جس طرح انڈیا ایران اور افغانستان کی پاکستان کے درمیان خلیج ڈال رہا ہے وہ صرف پاکستان دشمنی ہی ہے جو اس کے سینے میں ہمیشہ تازہ رہتی ہے وہ خود تو پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا مگر اپنے مزموم مقاصد کے تکمیل کے لئے افغانستان کے راستے پاکستان کے حالات خراب کرنے کی کوشش میں ہے اور افسوس کے ساتھ کے اس میں افغانستان کے حکمران زرا سی لالچ میں اس کے آلہ کار بنے نظر آتے ہیں دونوں ملکوں کے تعلقات کی موجودہ سطح پر عوام میں سخت تشویش پائی جاتی ہے پاکستان پڑوسی ملک افغانستان میں قیام امن کے لئے اہم کردار ادا کر سکتا ہے پاکستان کی افغان پالیسی بالکل واضح ہے پاکستان نے پہلے دن سے ہی افغانستان پر واضح کیا تھا کہ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ پاکستان نے افغانستان کیلئے پچاس کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا تاکہ اسے اپنے مسائل پر قابو پانے میں مدد مل سکے یہ امداد پہلے دی گئی پانچ سو ملین ڈالر کی امداد سے الگ ہے پاکستان جانتا ہے کہ افغانستان میں استحکام پاکستان اور خطہ میں استحکام کے لئے اہم ہے پاکستان اپنے سائز اور محل وقوع کی وجہ سے خطے میں اہم کردارادا کر سکتا ہے۔دوسری طرف بھارت جو ہر وہ حربہ استعمال کرتا ہے جس سے پاکستان کو نقصان ہو وہ اب ان دو پڑوسی ملکوں ایران اور افغانستان میں پاکستان دشمنی کا بیج بو رہا ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ جب یہ بیج تیار ہوگا تو خود اس کے لئے کتنا نقصان دہ ہو گا ۔بھارت ہر طرح سے ایران اور افغانستان کو پاکستان دشمن ملک بنانا چاہتا ہے ۔دوسری طرف اسے چین کی ترقی بھی ہضم نہیں ہو رہی چین نے جس طرح پاکستان میں پاک چائینہ اکنامک کاریڈور تیار کرنے اور پاکستان کو خطے میں جائز مقام دلاوانے کی کوشش کی ہے وہ بھارت اپنے لئے خطے کی گھنٹی سمجھتا ہے وہ اس معاملے میں چین کی برابری کرنے کی ناکام کوشش کررہاہے اور ان دو ملکوں میں ایک بڑی انوسٹمنٹ کر کے ان دو ملکوں کو اپنا زیر اثر کرنا چاہتا ہے تاکہ جب بھی پاکستان کی طرف سے اسے کسی پریشانی کا سامنا ہو وہ ان دو ملکوں کے ذریعے پاکستان کو دباؤ میں لا سکے شاید یہی وجہ ہے کہ اس نے ان دوملکوں میں کئی منصوبے جن میں سڑک ،ہسپتال اور دیگر کئی بڑے منصوبے شامل ہیں شروع کیے ہوئے ہیں تاکہ ان ملکوں کی مسلم عوام کو پاکستان کے خلاف اپنا ہم پلہ بنا سکے بلا شبہ پاکستان بھارت کی اس انوسٹمنٹ کے خلاف نہیں اور نہ ہی ایران اور افغانستان میں لگنے والے ترقیاتی منصوبوں کے خلاف ہے ہاں مگر پاکستان اپنی سلامتی اور استحکام کے لئے تمام تر اقدامات کرنے میں حق بجانب ہے بھارت ان دو وملکوں میں اپنے کئی کونسل خانے کھول چکا ہے اورا تنی بڑی تعداد میں کونسل خانے کھولنے کا ایک ہی واضح مقصد نظر آتا ہے کہ وہ ان کو پاکستان کی سلامتی کے خلاف استعمال کرنے کی پلاننگ کر رہا ہے ۔افغانستان میں پکڑے جانے والے کلبھوشن کی مثال سب کے سامنے ہے جو بھارتی عزائم کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے پاکستان نے ایران اور افغانسان میں ہر طرح سے کوشش کی ہے کہ وہ ان ممالک کے قریب ہو سکے اور پاکستان اس میں کامیاب بھی ہو اہے لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے بھارت کابل اور تہران میں اپنا اثرورسوخ بڑھا کر ان تعلقات کو سبوتاڑ کرنے کی کوششیں کررہا ہے بھارت کے مسلم کش رویے کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ وہ جہاں مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہا ہے وہاں بھارتی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کیلئے بھی اس نے زندگی مشکل بنا دی ہے اسے افغانستان کے مسلمانوں سے کوئی لگاؤ نہیں محض پاکستان دشمنی میں افغانستان کو استعمال