- الإعلانات -

آزاد میڈیا__یادہشت گردی کے خلاف جنگ کا رضاکار؟

بہت دنوں سے ایک سوال سوچ رہا ہوں: ’آزاد میڈیا‘ کہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی فکری ایکسٹینشن تو نہیں ہے؟اور انکل بش اور انکل اوبامہ نے جس جنگ کو آتش و آہن کے بے دریغ استعمال سے یہاں تک پہنچایاہے ان کے ہونہار بھتیجے اور بھتیجیاں آزاد میڈیا کے ذریعے اسی جنگ کے فکری محاذ پرتو دادِ شجاعت نہیں دے رہے ؟صرف اتنے فرق کے ساتھ کہ انکل اوبامہ کا ڈرون جسموں کو نشانہ بناتا ہے لیکن ان کے ہونہار بھتیجے اور بھتیجیاں وہ ڈرون ہیں جوسماج کے شعور کو نشانے پر لیے ہوئے ہیں۔
آزادی بجا، لیکن اس کا مطلب کیا یہ ہے کہ مکمل فکری پسپائی اختیار کر لی جائے اور اپنی اقدار کو سینگوں پر لے لیا جائے؟آج میڈیا اگر امریکی آنکھ سے چیزوں کو دیکھ رہا ہے اور اس کی جملہ اصطلاحات بھی امریکہ سے مستعار ہیں تو پھر اس سوال کا پیدا ہونا تو ایک فطری امر ہے کہ کیا یہ محض ایک اتفاق ہے؟امریکی موسیقی پر کسی سدھائے ہوئے چوپائے کی طرح سر ہلاتے جانا ہی اگر کامیابی کا معیار ہے تو الگ بات ہے ورنہ اللّٰہ نے دیکھنے ، سوچنے اور سمجھنے کی جو صلاحیتیں آدمی کو دی ہوئی ہیں ان کو استعمال کر لینے میں مضائقہ ہی کیا ہے؟آخر کیا وجہ ہے کہ جو بات امریکی موقف کے قریب ترین ہو یا اس کی تقویت کا باعث بنتی ہو اس پر آزاد میڈیا کی آنیاں جانیاں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں اور جہاں امریکی موقف کے برعکس حقائق ہوں وہاں آزاد میڈیا گونگا،بہرا اور اندھا ہو جاتا ہے؟ امریکہ آج جسے چاہتا ہے پل بھر میں ہیرو بنا دیتا ہے،بریکنگ نیوز چلتی ہیں پھر چہروں پر لیپا پوتی کر کے مخصوص احباب سکرینوں پر نمودار ہوتے ہیں اور سماں بندھ جاتا ہے۔یہاں تک کہ سماج کو بتایا جاتا ہے تم سب تو کاٹھ کے الو تھے مفکر تو بس ایک ملالہ ہی تھی تم میں سے۔کیا وجہ ہے کہ امریکہ جسے انتہا پسند کہتا ہے ہمارا میڈیا بھی اس کو انتہا پسند کہتا ہے؟اور اس تواتر سے کہتا ہے کہ عام آدمی بھی ایسا ہی سوچنا شروع کر دیتا ہے۔سوچیں بھی اسی کی، اصطلاحات بھی اسی کی۔اتفاقاتِ زمانہ ہوتے ہیں مگر کیا اتنی بھاری تعداد میں بھی ہوتے ہیں؟جب ہم امریکہ کی آنکھ سے دیکھ رہے ہوں ،اس کے کانوں سے سن رہے ہوں اور اس کی زبان بول رہے ہوں تو یہ سوال کیسے نہ پیدا ہو کہ کیا اتفاقات زمانہ نے میڈیا ہاؤسز کا گھر دیکھ لیا ہے؟
نواز شریف ، آصف زرداری یا عمران خان اپنی کوئی خوبی بیان کر دیں تو میڈیا گھنٹوں ان کا ماضی کھنگال کر انہیں آئینہ دکھاتا رہتا ہے لیکن امریکہ کے کسی اقدام پر میڈیا نے یہ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ حضور یہ لیجئے ، مقابل ہے آئینہ۔ نام چامسکی نے کہا تھا’’حقائق بہت کڑوے ہیں۔ صرف یہی نہیں کہ تعلیم یافتہ اور معقول لوگوں کو سچائی سے دور کر دیا گیا ہے بلکہ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ بد ترین حالات کی ذمہ داری مظلوموں پر ڈال دی گئی ہے۔‘‘یہی بات واشنگٹن پوسٹ کے مالک کیتھرین گراہم نے کچھ یوں بیان کی کہ:’’ ہم بڑی گندی اور خطرناک دنیا میں رہتے ہیں۔کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ عام آدمی کو نہ تو ان کو جاننے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس کو یہ اجازت دینی چاہیے کہ وہ انہیں جان سکے۔‘‘معلوم یہ ہوتا ہے کہ ہمارے آزاد میڈیا کے کانوں میں بھی کسی نے سرگوشی کر دی ہے کہ عام آدمی کو کن کن باتوں کا علم ہونا چاہیے اور کن کن باتوں کا نہیں۔چنانچہ آزاد میڈیا یہ تو بتاتا ہے کہ ملالہ کے ساتھ کیا ہو لیکن یہ نہیں بتاتا کہ وزیرستان میں ڈرون حملوں میں کتنی ملالائیں ماری گئیں۔ایک بیٹی کے لئے پریشان مغربی حکومتوں کا تو بتایا جاتا ہے تا کہ ان کی انسان دوستی ثابت ہو جائے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ کتنی بیٹیوں کی لہو سے ان حکومتوں کے ہاتھ رنگے ہیں۔’60منٹ‘امرکہ کا ایک مشہور ٹی وی شو ہے ۔اس میں میڈیلن البرائٹ سے سوال کیا گیا کہ عراق پر امریکیوں پابندیوں سے پانچ لاکھ بچے مر چکے ہیں تو کیا اتنی بھاری قیمت دینی چاہیے؟۔میڈیلن البرائٹ کا جواب تھا؛ جی ہاں یہ ایک مناسب قیمت ہے ۔دینی چاہیے۔‘‘فلوجہ میں کیا ہوا؟ ویت نام میں کیا ہوا؟ناگاساکی اور ہیروشیما میں کیا کوئی بچی قتل نہیں ہوئی؟کروڑوں بچے قتل کر نے کے بعد ایک بچی کی غم گساری کر کے امریکہ حقوق انسانی کا چمپئن بن گیا اور آزاد میڈیا تالیاں پیٹنے میں لگا رہا۔ہر معاملے میں تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کے جنون میں مبتلا آزاد میڈیا اس معاملے میں دوسرا رخ نہ دیکھ سکا۔ڈالر کی قیامت خیزیوں کی داستان بھی کتنی طویل ہے؟
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آزاد میڈیا آزاد رپورٹنگ کر سکا؟یا اس نے ’گندی غلیظ اور خطرناک دنیا‘ میں عوام کو بے خبر رکھنے کی کیتھرین گراہم کی ہدایت پر عمل کیا؟ہماری حساسیت کا عالم یہ ہے کہ خیر دین کا گدھا نور دین کی گدھی کو راہ چلتے دولتی مار دے تو ہم بریکنگ نیوز دیتے ہیں اور پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ تین چار بیپرز بھی چل جاتے ہیں جس میں کہنہ مشق رپورٹر گدھے اور گدھی کی عمریں ، رنگ اور ان کے آباؤ اجداد کے قدیم تنازعات کی پوری تاریخ بیان فرما دیتے ہیں لیکن اسامہ بن لادن درجنوں دفعہ اس خواہش کا اظہار کرتا رہا کہ امریکی عوام اپنے ہی دانشور ’ ولیم بلم‘ کی کتاب’’روگ سٹیٹ؛ اے گائیڈ ٹو دی ورلڈز اونلی سپر پاور‘‘کا مطالعہ کر لیں لیکن ہمارے آزاد میڈیا کو کبھی خیال نہ آیا کہ اس کتاب کو دیکھ تو لیں یہ ولیم بلم کہتا کیا ہے،اس کا کوئی اردو سلسلہ کہیں قسط وار شائع ہو سکا،نہ کسی نے اس کے مندرجات کو موضوع بحث نہ بنایا۔فریقین کے موقف کو صحیح طور پر پرکھنا اور عوام کے سامنے پیش کرناکیا میڈیا کی ذمہ داری نہیں؟
مرعوبیت بھی اپنی انتہا پر ہے۔صبح شام ہمیں یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ ہم تو دھرتی کا بوجھ ہیں ،ایک ناسور ہیں،اصل تہذیب تو اہلِ مغرب کی ہے۔ابھی کل ایک محترم خاتون نے اپنے کالم میں نرم گرم انداز میں مسلمانوں کو لعن طعن کرتے ہوئے کولمبس کی بحری مہم کے فضائل بیان فرمائے۔ اپنا تنقیدی جائزہ بہت ضروری ہے مگر ایسی بھی کیا خود سپردگی کہ اب کولمبس جیسے درندے کے فضائل بیان کئے جائیں۔کولمبس کو تو اب خود امریکہ میں ایک ڈاکو اور قاتل سمجھا جاتا ہے اور امریکہ کا سماج کولمبس ڈے منانے سے انکار کر چکا ہے۔تفصیلات درکار ہوں تو ’ہاورڈزن ‘ کی کتاب ’’پیپلز ہسٹری آف دی یونائیٹڈ سٹیٹس ‘‘ کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔مگرہم اس کی عظمت کا لاشہ ابھی تک اٹھائے پھرتے ہیں۔کیونکہ اجتہاد تازہ یہ ہے کہ امریکہ کی مدح اور اپنی ہجو کے بغیر بندہ دانشور نہیں بن سکتا۔ ہم بھی کیا کریں، مجبور