- الإعلانات -

’را‘اور افغانستان سی پیک کو ناکام بنانے کے درپے

ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی کابینہ سیکرٹریٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک منصوبے کو ناکام کرنے کیلئے را، این ڈی ایس، لشکر جھنگوی، تحریک طالبان پاکستان سرگرم عمل ہیں جن کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ گزشتہ 3سال میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر 5 ہزار 2 بیسڈ آپریشن کیے،865 دہشت گرد گرفتار اور 171 مارے گئے۔ ائرپورٹس کی سیکورٹی میں نقائص کی نشاندہی کر رہے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تکنیکی معاونت بھی کی ہے۔
ڈائریکٹر آئی بی کے بیان کے بعد اندازہ ہورہا ہے کہ سی پیک کے خلاف سازشوں کا جال کتنا مضبوط ہے اور اس کے ڈانڈے کہاں کہاں ملتے ہیں۔ بعض کالعدم تنظیمیں بھی اِس راہداری کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لئے سرگرم ہیں۔ یقیناً اْن کے رابطے ’’را‘‘ سے بھی ہوں گے، کیونکہ ’’را‘‘ کے پیشِ نظر بھی سی پیک کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا مذموم مقصد ہے۔ بلوچستان سے ’’را‘‘ کا جو افسر(کلبھوشن) گرفتار ہوا ہے وہ بھی اعتراف کر چکا ہے کہ وہ سی پیک کے منصوبے کے راستے میں روڑے اٹکانے کے لئے سرگرم عمل تھا اور اْس نے بلوچستان میں جاسوسی کی سرگرمیوں کا نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔ اِسی طرح افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے کہ وہ بھی سی پیک کے منصوبے کو ناکام بنانے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ گزشتہ دِنوں ایک افغان افسر بھی گرفتار ہو چکا ہے جس نے تفتیش میں تسلیم کیا تھا کہ وہ ’’را‘‘ کے ساتھ مل کر سی پیک کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔
آفتاب سلطان نے جن دو کالعدم تنظیموں کے نام لئے ہیں وہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں اور عین ممکن ہے کہ اْنہیں اپنی سرگرمیوں کے لئے درکار سرمائے کے لئے بھارتی ادارے کی معاونت حاصل ہو۔ کراچی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں یہ بات کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ کرپشن سے حاصل کی ہوئی دولت دہشت گردی کے مقاصد میں استعمال ہوتی رہی ہے اِس لئے جو لوگ پاکستان کے اندر کسی نہ کسی انداز میں سی پیک کی براہِ راست یا بالواسطہ مخالفت کر رہے ہیں اْن کے غیر ملکی روابط کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ افغان حکومت اِس منصوبے کی حمایت کر رہی ہے مگر بھارت کے ساتھ مل کر وہ سی پیک کو سبوتاژ کرنے کے لئے کوشاں ہے۔
گزشتہ دِنوں بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری نے بھی ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بھارت سی پیک کو ناکام بنانے کے لئے بلوچستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے۔ اْن کے پاس شواہد موجود ہیں اور وہ اِس سلسلے میں وزیراعظم سے بات بھی کریں گے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے کہا ہے کہ چائنا پاکستان اقتصادی راہداری خطہ کا اہم ترین منصوبہ ہے اس کے نتیجے میں پاکستان میں لاکھوں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے میں مدد ملے گا۔ سی پیک منصوبوں میں گوادر کو اولیت دی جارہی ہے گوادر کو پہلی ترجیح دی جا رہی ہے۔ گوادر پورٹ سرمایہ کاری کے لحاظ سے پرکشش ہے۔ یہاں پر سرمایہ کاری کرنے والے کمپنیوں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کی جائے گی۔ وزیراعظم پاکستان گوادر پر خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ گوادر 2013 میں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا تھا اب 2016 میں گوادر کی تقدیر ہماری حکومت نے بدل کر رکھ دی۔ گوادر میں بہت سے ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔ کچھ منصوبے زیر تعمیر ہیں گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ اور ایکسپریس وے کے منصوبوں پر پاکستان کی جانب سے تمام کاروائیاں مکمل ہو چکی ہیں لیکن چین کی طرف سے منظوری لینے ہیں۔ چین کی تعاون سے تین سو میگا واٹ بجلی کا منصوبہ بہت جلد شروع کیا جائے گا۔ چین کی تعاون سے گوادر میں تین سو میگاواٹ بجلی کا منصوبہ بہت جلد شروع کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں ایک سو میگاواٹ بجلی گوادر کی ضرورت کے مطابق پیدا کیا جائے گا جو کہ گیس سے چلے گا۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس منصوبے کو ناکام کرنے والی تنظیموں کے خلاف انٹیلی جنس ایجنسیاں سخت اقدامات کریں اور مخالف دشمن دہشت گردوں کی میڈیا پر عام تشہیر کر کے دنیا کو اصل حقائق سے آگاہ کریں اور پاکستان