- الإعلانات -

پاکستانی فنکار ، بھارت اور ۔ ۔ ۔ !

بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف اپنی دیرینہ شر انگیزی کی تازہ کڑی کے طور پر نئی پراپیگنڈہ مہم شروع کر رکھی ہے ۔ اسی پس منظر میں بی جے پی کے ممبر لوک سبھا ’’ ساکشی مہاراج ‘‘ نے کہا ہے کہ پاکستانی فنکاروں کو کسی بھی طور بھارتی فلموں میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ کوئی ایسی فلم نمائش کے لئے پیش کی جائے گی جس میں کوئی پاکستانی اداکار یا اداکارہ ہو ۔
اسی تناظر میں مبصرین نے کہا ہے کہ بھارت کے مشہور فلمساز ’’ کرن جوہر ‘‘ نے اپنی فلم میں پاکستانی اداکار ’’ فواد خان ‘‘ کو کچھ عرصہ قبل کاسٹ کیا تھا اور یہ فلم ہر لحاظ سے مکمل بھی ہو چکی ہے مگر ایک جانب اس کی نمائش کی اجازت دینے سے منع کیا جا رہا ہے تو دوسری جانب ایک دوسرے ہندو اداکار ’’ اوم پوری ‘‘ کے خلاف بھی صرف اس وجہ سے ایک طوفان کھڑا کیا گیا ہے اور ان کے خلاف بھارت کے تقریباً تمام ٹیلی ویژن چینلوں پر ایسی زبان استعمال کی جا رہی ہے جو اس قابل نہیں کہ اسے احاطہ تحریر میں لایا جا سکے ۔
اسی کے ساتھ ساتھ بھارت نے نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کا جو دعویٰ کیا تھا وہ پوری طرح سے بے نقاب ہو چکا ہے اور اب اس حوالے سے کسی حد تک بھارت کے ہندی اور انگریزی میڈیا کو دفاعی پوزیشنز اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے کیونکہ ان کا جھوٹ ہر آنے والے دن کے ساتھ مزید بے نقاب ہوتا جا رہا ہے اور اس کی دھجیاں اڑتی جا رہی ہیں ۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پچھلے دو ہفتوں کے دوران خود بھارت کے بعض مبصرین بھی اس تلخ حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ دہلی سرکار کے کھیل کی قلعی پوری طرح سے کھل گئی ہے جس کا سب سے بڑا مظہر ہے کہ ایک طرف تو راجیو گاندی نے مودی کو ’’ سب سے بڑے جھوٹے ‘‘ کے خطاب سے نوازتے ہوئے انہیں ’’ خون کا سوداگر ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ مودی دعوے تو بڑے کرتے ہیں مگر زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ انھوں نے سارے وسائل ہتھیار جمع کرنے پر صرف کر دیئے ہیں ۔ جس کی وجہ سے بھارتی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو چکا ہے ۔ یاد رہے کہ کانگرس کے ترجمان ’’ ترپاٹھی ‘‘ اور ’’ سورج والا ‘‘ نے مودی کو جن خطابات سے نوازا ہے انھیں جان کر تو شاید وقتی طور پر خود بھارتی وزیر اعظم اور ان کے ہمنواؤں کو بھی تھوڑی دیر کے لئے خفت محسوس ہوئی ہو گی ۔
اسی صورتحال کا جائزہ لیتے قدرے اعتدال پسند بھارتی مبصرین نے اس بات کو بھی انتہائی سنجیدہ اور اہمیت کا حامل قرار دیا ہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں یو پی کی سابق وزیر اعلیٰ اور بی ایس پی پارٹی کی سربراہ ’’ مایا وتی ‘‘نے بھی انتہائی تلخ لہجے میں بھارت کے موجودہ حکمرانوں کو کھری کھوٹی سنائی ہیں ۔ علاوہ ازیں اتر پردیش کے موجودہ وزیر اعلیٰ ’’ اخلیش یادو ‘‘ نے کہا ہے کہ ’’ مودی جی نے جتنی توانائیاں دلتوں اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف صرف کی ہیں اگر اس کا دسواں حصہ بھی بھارت کے حقیقی مسائل کے حل کی جانب صرف کرتے تو آج صورتحال قدرے مختلف ہوتی ۔
اسی تناظر میں انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ بھارت ایک جانب اسلحہ اور گولہ بارود کے بے پناہ ذخائر جمع کر رہا ہے تو دوسری طرف نہتے کشمیریوں کے خلاف جس بربریت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ بہر کیف اگر دہلی کے حکمران گروہ نے اپنی روش نہ بدلی تو اس صورتحال کے منطقی نتائج بھگتنے کے لئے انھیں تیار رہنا چاہیے ۔ علاوہ ازیں غیر جانبدار ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اس صورتحال میں خود پاکستانی فنکاروں کے لئے بھی سامانِِ عبرت یہ ہے کہ صرف دھن دولت سب کچھ نہیں ہوتا بلکہ قومی غیرت و حمیت بھی کوئی چیز ہوتی ہے اور وطن عزیز سے تعلق رکھنے والے فنکار ٹولے کو بھی اپنی روش کی اصلاح کی جانب

ذکردراندازی کا۔۔۔ شوق موسوی
مودی! ہواؤں سے تم اُٹھ اُٹھ لڑ رہے ہو
کہتے ہو سرحدوں پر آگے بھی بڑھ رہے ہو
میدان میں تو تم سے کچھ بھی نہ ہو سکے گا
اپنی بہادری کے خود قصے گھڑ رہے ہو