- الإعلانات -

بھارتی مواد پرپابندی،احسن فیصلہ،عملدرآمد یقینی بنایا جائے

وفاقی حکومت کی اجازت کے بعد پیمرا کو پاکستانی چینلز اورایف ایم ریڈیو پر بھارتی فلموں ڈراموں اور گانوں پرمکمل پابندی کا اختیار مل گیا ہے۔یہ ایک اچھا فیصلہ ہے تاہم ضروری ہے کہ اس پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔پیمرا نے اعلان تو کیا ہے کہ جو بھی چینل خلاف ورزی کرے گا 21اکتوبر کے بعد نوٹس دیے بغیر اس کا لائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔ممکن ہے بعض فلمی حلقوں میں اسے مناسب نہ سمجھا جائے لیکن سوال یہ ہے کہ اس کام کی ابتدا بھارت ہی کی طرف سے ہوئی ہے۔حالیہ کشیدگی کے باعث انڈین فلم ایسوسی ایشن نے پاکستانی فنکاروں پر ہندوستان میں کام کرنے پر نہ صرف پابندی عائد کردی بلکہ پاکستانی فنکاروں کو دھمکیاں بھی دی گئیں۔اسکے علاوہ ہندوستانی چینل زی زندگی نے بھی پاکستان کے ڈرامے نہ دکھانے کا اعلان کردیا۔بھارت کی طرف سے اس فیصلے کا ردعمل آنا تھا۔ردعمل میں پاکستانی سینما گھروں کی انتظامیہ نے بھی اپنے طور پر بولی وڈ فلموں پر پابندی لگادی۔سینما گھروں کے اس فیصلے کو سراہا گیااورعوامی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ گیا کہ پاکستانی چینلز اور ایف ایم ریڈیوز پر بھارتی مواد کی اشاعت پر مکمل پابندی عائد کردی جائے۔علاوہ ازیں غیرقانونی ڈی ٹی ایچ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی ایک عرصہ سے ہورہا تھا۔پیمرا نے گزشتہ ماہ اس حوالے سے پندرہ اکتوبر کی ڈیڈ لائن دی تھی چنانچہ اب ان ڈی ٹی ایچ کے خلاف آپریشن بھی شروع ہوگیا ہے۔ وہ حلقہ جو اس اقدام کیخلاف ہے انہیں یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ بھارتی حکومت نے پاکستان کے خلاف جو ماحول بنا دیا ہے ،جس طرح پاکستانی گلوکاروں اور فلم سٹاروں کے ساتھ دھمکی آمیز رویہ اختیار کررکھا ہے وہ قابل مذمت ہے۔لیکن کیا ہمارے فنکار اتنے لاوارث ہیں کہ انکے ساتھ جو کچھ ہوتارہے ہماری حکومت اور عوام تماشہ دیکھتی رہے۔بھارت تو اس معاملے میں انتہا پسندی کی تمام حدود پھلانگ چکا ہے ۔ابھی دوروز قبل ہی بھارتی فلم فیسٹیول میں ایک پاکستانی کلاسیکل فلم جاگو ہوا سویرا کی نمائش کو مظاہرین کی دھمکیوں کے بعدمیلے میں دکھائی جانے والی فلموں کی فہرست سے خارج کر دیاگیا۔انتہا پسند تنظیم کے مظاہرین نے فلم فیسٹیول کی انتظامیہ کو دھمکی دی تھی کہ اگر پاکستانی فلم کی نمائش نہ روکی گئی تو فلمی میلے کو چلنے نہیں دیا جائے گا۔ان دھمکیوں کے مامی ممبئی فیسٹیول کے منتظمین نے پاکستانی فلم کو نکال دیا۔یہ فلم انیس سو انسٹھ میں ریلیز ہوئی تھی۔،منتظمین کے مطابق یہ فیصلہ سنگھرش نامی ایک بھارتی این جی او کی شکایت کے بعد کیا گیا ہے۔ قبل ازیں اْڑی فوجی چھاؤنی پرحملے کے بعد ایک انتہا پسند سیاسی جماعت مہاراشٹر نو نرمان سینا( ایم این ایس) نے پاکستانی فنکاروں کو اڑتالیس گھنٹے کے اندر بھارت چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا تھا۔ایم این ایس نے ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ وہ فلم ہدایتکار کرن جوہر کی پروڈیوس کی جانے والی فلم ’اے دل ہے مشکل ‘ اور ایک دوسری فلم ’رئیس‘ کو بھی ریلیز نہیں ہونے دیں گے کیونکہ ان فلموں میں پاکستانی اداکار فواد خان اور اداکارہ ماہرہ خان کو کاسٹ کیا گیا ہے۔اسی طرح بالی وڈ اداکار نواز الدین صدیقی کو سٹیج ڈرامے ’رام لیلا‘ میں ایک کردار ادا کرنا تھا لیکن ہندو تنظیموں کے اعتراض کے بعد انھیں رام لیلا میں حصہ لینے سے منع کر دیا گیا ہے۔ شیو سینا کا کہنا ہے کہ رام لیلا میں کوئی بھی مسلمان کردار ادا نہ کرے جس کے بعد اسکا اہتمام کرنے والوں نے نواز الدین کو جواب دے دیا ہے۔رام لیلا ہندوؤں کی مقدس کتاب رامائن کی کہانی پر مشتمل ڈرامہ ہے جو ہر برس دسہرا کے موقع پر تقریباً سبھی شہروں میں سٹیج پر کھیلا جاتا ہے۔اس میں رام، سیتا اور راون جیسے مختلف کردار ہوتے جسے دیکھنے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے۔اداکار نوازالدین صدیقی کو رام لیلا سے صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے باہر ہونا پڑا ہے۔بھارت میں پاکستانی فلم آرٹسٹوں کے خلاف حالیہ انتقامی کارروائی کو پہلی دفعہ نہیں ہورہی ہے۔اس سے قبل بھی درجنوں بار پاکستانی فنکاروں اور گلوکاروں کو دھمکیاں دی گئیں۔غلام علی جیسے غزل کے عظیم گلوکار کے طے شدہ پروگرام منسوخ کرائے گئے ۔ پاکستانی کرکٹ کے وفد کے ساتھ کیا ہوا وہ بھی کوئی ماضی بعید کا قصہ نہیں ہے۔بنیادی طور پر بھارت کا خمیر انتہا پسندی اور دہشت گردی سے اٹھا ہے۔اسی بنا پر بانی پاکستان نے الگ وطن کا مطالبہ کیا تھا۔بانی پاکستان کی دور بیں نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ مسلمان متشدد ہندو ذہنیت کیساتھ نہیں رہ سکتے۔قائد کے یہ خدشات تب بھی درست تھے تو آج بھی درست ثابت ہورہے ہیں۔آج بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ مسلمان ہی نہیں ہر اقلیت کا جینا حرام ہوچکا ہے۔کیا مسلمان، کیا عیسائی، دلت، سکھ سب ہندو ذہنیت کا شکار ہیں۔اقلیتوں میں سب سے زیادہ ذلت آمیز رویہ دلت برداشت کر رہے ہیں۔اگلے روزایک دلت طالب علم کی درد بھری کہانی سامنے آئی کہ کس طرح اچھے نمبر لینے پر اس کی پٹائی کی گئی۔خبر رساں ادارے اے ایف پی