- الإعلانات -

عالمی تپش۔۔۔۔!

افریقی ملک روانڈا میں امریکہ ، چین، پاکستان ، ایران ، بھارت ، عراق سمیت تقریباًڈیڑھ سو ممالک کااکٹھ ہوا جس میں انھوں نے گلوبل وارمنگ میں اضافے کو روکنے کیلئے ایک معائدے پر دستخط ثبت کیے۔عالمی گرماؤ گذشتہ دو تین عشروں سے عالمی ایشو بن چکا ہے اور اس مسئلے کیلئے بہت سے ممالک پریشان ہیں۔توقع کی جارہی ہے کہ روانڈا معاہدہ کے اثرات بہتر ہونگے کیونکہ اسکو قانونی حیثیت دی گئی ہے ۔ معاہدے کی ضرورت اس لئے پڑی کہ گذشہ ایک سو سال میں دنیا کے اوسط درجہ حرارت میں 0.8فی صد اضافہ ہوا ہے جبکہ گذشتہ تین عشروں میں 0.6 فی صددرجہ حرارت میں اضافہ ہوا۔دنیا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار کے سبب عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے۔فضا میں مختلف گیسیں موجود ہیں۔ان گیسوں کی بڑھنے کی باعث سورج کی کرنیں زمین سے ٹکرانے کے بعد خلاء میں نہیں جاسکتی ہیں۔ان کے باعث فضا کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور زمین کا درجہ حرارت بھی بڑھ جاتا ہے۔ زمین کادرجہ حرارت بڑھنے سے قطبی برف کی تہہ اور پہاڑوں پر گلیشےئر پگھل رہے ہیں۔ گذشتہ چند عشروں سے یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سمندروں کی سطح3ملی میٹر سالانہ کے حساب سے اونچی ہورہی ہے۔جنگلات کاٹے جارہے ہیں اورقدرتی ایندھن جلاکر کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافہ ہورہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر صورت حال یہی رہی تودنیا میں2050ء تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اضافہ دوگنا ہوجائے گا جس کے بعد زندگی کا وجود خطرے میں پڑجائے گا۔ 2013ء میں عالمی چینل ماحولیاتی تبدیلی نے ایک تخمینہ پیش کیا تھا کہ اس صدی کے اختتام تک دنیا کا درجہ حرارت 1.5 ڈگری اضافہ ممکن ہے اور دو درجے تک درجہ حرارت کا اضافہ خطرناک تبدیلی کا ابتدا ہوگا۔اب روانڈا معاہدہ کے مطابق امریکہ اور یورپی صنعتی ممالک نے2019 تک دس فی صد اور 2036 تک پچاسی فی صد گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی کا عندیہ دیا ہے۔یہ خوش آئند ہے کہ عالمی تپش کو کم کرنے کیلئے ڈیرھ صدکے قریب ممالک نے سر جوڑ دیے۔آپ کو معلوم ہوگا کہ گلوبل وارمنگ سے گزشتہ بیس سالوں میں صرف یورپ میں لو لگنے سے ایک لاکھ اڑتیس ہزار لوگ زندگی کی بازی ہار گئے ۔اگرعالمی تپش کا یہ سلسلہ چلتا رہا تو موسموں میں نمایاں تبدیلی آجائے گی جس کے نتائج بھیا نک ہونگے۔ساحل کے قریب شہر صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔طوفان اور سونامی آئیں گے جس سے کروڑوں افراد ہلاک ہوجائیں گے۔فصلوں ، پودوں اور درختوں پر بھی برے اثرات پڑیں گے۔عالمی تپش کی باعث سمندروں کی بلند ہونی والی سطح زمین کو نگل رہی ہے۔ مالدیپ کے جزائرتیس سے چالیس سال میں سمندر میں غرق ہوجائیں گے۔ چین کا شہر شنگھائی بھی دھیرے دھیرے زمین میں دھنس رہا ہے اس لئے اب وہاں کثیر منزلہ عمارتوں کی تعمیر پر پابندی لگائی گئی ہے ۔ بنگلہ دیش کا رقبہ بھی سکڑتا جارہا ہے کیونکہ خلیج بنگال کی موجیں زمین کو نگل رہی ہے۔بھارت کی ساحلی پٹی تقریباً سات ہزار کلومیٹر ہے۔تامل ناڈو اوراڑسیہ میں نوے سال میں سمندر بارہ کلومیٹر کی پٹی نکل چکا ہے اور کیرالہ کے مشرقی سمندر ہر سال چھ میٹر پٹی کھا جاتا ہے۔بھارت کا اب تک 36 فی صد ساحلی پٹی کو سمندر نگل چکا ہے۔اس طرح باقی دنیا کے ممالک کے ساتھ بھی مسئلہ درپیش ہے۔ مستقبل میں عالمی تپش بڑے پیمانے پر انسانی ہجرت کا سبب بنے گی۔ساحلی شہر سمندر برباد ہوتے جائیں گے تولوگ وہاں سے ہجرت کریں گے۔ عالمی تپش کی باعث اوزون کی تہہ تباہ ہوجائے گی جس سے سکین کے امراض، کینسر سمیت طرح طرح کے امراض پھوٹ جائیں گے اور انسانی حیات کٹھن ہوجائے گی۔اگر دنیاکو بچانا ہے تو عالمی تپش کو کم کرنے کیلئے سب ممالک کو کوشش کرنی چاہیے۔کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیے۔ کوئلہ سے چلنے والے صنعتیں بند کرنی چاہیے ۔کارخانوں کے دھواں کو کم کرنے کیلئے جدید آلات نصب کرنے چاہیے۔ اسلحہ بنانے والی فیکٹریاں بند کرنی چاہیے ۔جنگوں کو ختم کرنے کیلئے عالمگیر معائدہ ہوناچاہیے۔درختوں کی کٹاؤ پر پابندی ہونی چاہیے حتیٰ کہ نجی اراضی میں بھی درخت کاٹنے کیلئے حکومت کی اجازت مشروط ہونی چاہیے۔ناگزیر صورت میں درخت کاٹنی کی اجازت دینی چاہیے لیکن اس کے ساتھ یہ شرط عائد کرنی چاہیے کہ ایک درخت کاٹنے کے بدلے کم ازکم پانچ نئے پودے لگائے۔ ہرگھر میں درخت یا گملوں میں پودے لازمی قرار دینے چاہیے۔کچن گارڈن کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔دھواں نکالنے والی گاڑیوں پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ زمین کو بچانے کیلئے ہم سب کو سعی کرنی چاہیے اور عالمی تپش کو کم کرنے کیلئے
ذکردراندازی کا۔۔۔ شوق موسوی
مودی! ہواؤں سے تم اُٹھ اُٹھ لڑ رہے ہو
کہتے ہو سرحدوں پر آگے بھی بڑھ رہے ہو
میدان میں تو تم سے کچھ بھی نہ ہو سکے گا
اپنی بہادری کے خود قصے گھڑ رہے ہو
واردات سے کوسوں دور ہونے کے باوجود چشم دید گواہ بن جاتے ہیں جن کی قانونی گرفت کا کوئی نظام نہیں اگر ہے تو یا تو عمل درآمد نہیں ہوتا یا مفاد آڑے آجاتے ہیں۔انصاف کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ استغاثے کی کمزور تفتیش بھی ہے جس میں رشوت کے عوض تفتیش میں دانستہ سقم چھوڑدئے جاتے ہیں اس وجہ سے ملزم بری ہو جاتے ہیں۔ کراچی میں بدامنی کیسوں میں ملوث ملزموں کے مکمل چالان تک پیش نہیں کئے جاسکے اور کئی ایسے ملزم جن کے خلاف واضح ثبوت موجود ہونے کے باوجود ان کو ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے اسی طرح کی شکایات کا اظہار رینجر بھی متعدد مرتبہ کر چکی ہے اور کئی جج حضرات بھی یہ کہتے پائے گئے ہیں ہم بغیر ثبوت کے کیسے سزا دے سکتے