- الإعلانات -

ُپاکستان میں عدل کا نظام

پاکستان  میں انصاف کا حصول بہت مہنگا اور ایک تکلیف دہ عمل ہے خاص طور پر دیوانی مقدموں کی ایک لمبی تاریخ ہے کہ باپ کا دائر کیا گیا مقدمہ بیٹا اور کبھی پوتا بھگتتا ہے اور پوتا بھی اواخر عمر میں فیصلہ لے پاتا ہے کچھ لوگ ازراہ تفنن کہتے ہیں کہ دیوانی مقدمے دیوانہ کر دیتے ہیں مقدموں کی طوالت بے شمار سماجی اور اقتصادی مسائل پیدا کرتی ہے سائل بالعموم مالی طور پر بہت زیربار ہو جاتے ہیں وکلا کی فیسیں اور دیگر عدالتی اور غیر عدالتی اخراجات کمر توڑ دیتے ہیں ان تمام مسائل کا اعلی عدلیہ کو بھی ادراک اور احساس ہے ایک سے زائد مرتبہ مختلف ادوار کے معزز چیف جسٹس صاحبان اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ مقدموں کی طوالت کی وجہ جج صاحبان کی تعداد اور عدالت کے لئے بلڈنگوں کی کمی اور دیگر کئی مسائل سراٹھائے کھڑے ہوتے ہیں عدالتی تحویل میں جیل میں موجود ملزموں کے لئے بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے اور ان کے حالات نہایت زبوں ہیں جیلوں کی تعداد آبادی کے تناسب سے نہایت کم ہے اور بلا استثنا تمام جیلوں میں مزید قیدیوں کی گنجائش نہ ہونے کے باوجود مزید قیدی ٹھونسے جارہے ہیں کئی جیلوں کے مکین قیدی جیل کی موجودہ حالت کو دنیا میں دوزخ گردانتے ہیں حکومت کے لاکھ دعوں کے باوجود کہ جیلوں میں بند قیدیوں کے حالات بہتر ہیں اور کوئی خلاف قانون کام نہیں ہو رہا لیکن اصل صورت حال قطعی مختلف ہے جیلوں میں منشیات کا استعمال عام ہے قیدیوں میں درجے بندی اس طرح ہے کہ کچھ صاحب حیثیت ملزم تو وی آئی پی سہولتوں سے بہرہ ور ہو رہے ہیں اور کچھ کو پوری طرح سو سکنے کی جگہ میسر نہیں مناسب علاج تو چھوڑیے پیناڈول کی گولی تک منہ مانگی قیمت پر ملتی ہے بنیادی ضروریات کی اشیا بھی گئی گنا قیمتوں پر دستیاب ہیں ڈھنگ کا کھانا تو ایک طرف رہا ایسا کھانا تک میسر نہیں جو انسان کے کھانے قابل ہو جیلوں میں ٹیلیفون jammer لگانے کے حکومتی دعووں باوجود جیلوں کے اندر موبائل فون کا استعمال عام ہے جہاں بیٹھ کر جرائم پیشہ افراد جیل سے باہر موجود اپنا جرائم کا نیٹ ورک چلاتے ہیں ظاہر ہے ان سہولتوں کی فراہمی کے لئے رشوت اور سیاسی اور انتظامی اثر رسوخ ہی واحد ذریعہ ہے ایک جیل افسر سے ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ بالا حکام خصوصا جیل سے متعلق سیاسی قیادت کی اصلاح احوال میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے بس ان کی غرض اتنی ہی ہوتی ہے ان کے متعلقین میں سے کوئی جیل چلا جائے تو ان کی دلچسپی وہاں اس شخص کو سہولیات کی فراہمی تک محدود ہوتی ہے کچھ این جی اوز جیلوں میں موجود قیدیوں کی تعلیم جس میں دینی اور دنیاوی تعلیم شامل ہیں اور فنی تربیت کے پروگرام چلا رہی ہیں اصلاح اور قیدیوں کے حالات بہتر کرنے کوشش کر رہی ہیں تاکہ مستقبل میں ملک کے کار آمد شہری بن سکیں لیکن ان جی اوز کا scope محدود ہوتا ہے وہ ریاستی اداروں کا نعم البدل نہیں ہوسکیں بہرحال ان کا دم بھی غنیمت ہے۔عدالتی نظام بھی اصلاح طلب ہے سال ہاسال تک مقدمے چلتے رہتے ہیں اور کئی بے گناہ بھی بے پناہ مصائب اور آلام کا شکار بن جاتے ہیں تازہ ترین مثال مظہر حسین کی ہے جو 16 تک جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے اور کئی سالوں تک بطور سزائے موت کے قیدی کے موت و زیست اور امید و بیم کی صولی پر لٹکنے کے بعد داعی اجل کو لبیک کہ گیا اور دوسال بعد سپریم کورٹ نے ا سے بے گناہ قرار دے دیا تو کون اس کی زندگی کے 16 سال لوٹا پائے گا رحیم یار خان کے غلام قادر اور اس کے بھائی کو قتل کے الزام میں ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی ہائی کورٹ نے سزا کو بحال رکھا تھا اور انہیں پھانسی دے دی گئی تھی دوسال بعد سپریم کورٹ کے سو موٹو نوٹس پر ان کو بے گناہی کے سبب بری کرنے حکم دے دیا کیا جو پہلے ہی قید حیات سے رہائی پا چکے ہیں کیا یہ ہمارے بے حس معاشرے کے منہ پر طمانچہ نہیں ؟ گو یہ خبر دکھ سے سنی گئی لیکن نتیجہ کچھ بھی نہیں. کیا کسی حکومتی ادارے نے کوئی ایسا اقدام اٹھایا یا کم از کم کوئی ایسی کوشش کی اس طرح کے المیے کے دوبارہ پیش نہ آنے کی کوئی پیش بندی کی گئی جی نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا چند روز میڈیا میں دکھ درد کااظہار ہوتا رہا اور کل کے عدالتی فیصلے کے بعد دکھ کا مزید اظہار ہو رہا ہے جس طرح مظہر حسین کا معاملہ لوگوں کی ذہنوں سے محو ہو چکا ہے لوگ اس کو بھی بھول جائیں گے سال ہا سال تک عدالتی مسائل اور الجھا کا ایک سبب وہ پیشہ ور گواہ بھی ہوتے ہیں جو موقع