- الإعلانات -

کوئٹہ پھر نشانے پر

کوئٹہ میں سریاب روڈ پر قائم پولیس ٹریننگ کالج پر دہشت گردوں کے حملے میں 60پولیس کیڈٹس شہیداور150 سے زائدزخمی ہوگئے۔دہشت گردی کی یہ کارروائی گزشتہ شب 11بجے کے بعد ہوئی۔جوابی کارروائی میں تینوں دہشت گردوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔کسی گروہ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم انسپکٹر جنرل فرنٹیئرکور (ایف سی)میجر جنرل شیرافگن نے آپریشن کی تکمیل کے بعد وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کیساتھ پریس کانفرنس میں بتایا کہ حملہ آور دہشت گرد افغانستان میں اپنے ساتھیوں سے مسلسل رابطے میں تھے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور ٹریننگ کالج کے پچھلے راستے سے عمارت میں داخل ہوئے تھے۔اڑی حملے کے بعد بھارتی حکمرانوں کی دھمکیوں سے اس بات کے خدشات بڑھ گئے تھے کہ پاکستان میں خصوصاً بلوچستان میں دہشت گردی کی کوئی بڑی کارروائی ہوسکتی ہے ۔ تھوڑے عرصہ کے وقفے کے بعد آخر بلوچستان کو نشانہ بنا ڈالا گیا۔بلوچستان بھارت کیلئے آسان ہدف اس لئے بھی ہے کہ افغانستان بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کا لانچنگ پیڈ بنا ہوا ہے۔ 26سو کلو میٹر طویل اور غیر محفوظ بارڈر پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہا ہے۔پاکستان کی طرف سے تمام تر اقدامات کے باوجود اس بارڈر کو مکمل طورپر محفوظ نہیں بنایا جاسکا ہے۔بھارت اس کمزور صورتحال اور افغان حکمرانوں کے مکمل تعاون کی وجہ سے بلوچستان کو ایک عرصہ سے اپنی شیطانی توجہ کا مرکز بنائے ہوئے ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں حالیہ تحریک میں شدت آنے کے بعد بلوچستان کے حوالے سے بھارتی سازشوں میں تیزی آگئی ہے۔ گزشتہ روز کا بہیمانہ حملہ اس سلسلے کی کڑی ہے۔ اس حملے کے تانے بانے بھی ماضی کے حملوں کی طرح افغانستان سرزمین سے ملنے کے شواہد ملے ہیں۔ آئی جی ایف سی کوئٹہ نے دو ٹوک الفاظ میں بتایا کہ حملے کے دوران مانیٹر کی گئی ٹیلیفونک گفتگو افغانستان سے ہورہی تھی اور اسکے ماسٹر مائنڈ افغانستان سے ہدایات دے رہے تھے۔ اگرچہ افغان حکام اسے محض الزام تراشی قرار دے کر مسترد کردیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہورہی ہے اور این ڈی ایس ’’را‘‘ گٹھ جوڑ اس کے پیچھے کارفرما ہے۔اشرف غنی حکومت اس گٹھ جوڑ کے سامنے مکمل طورپر بے بس ہے ۔ کئی بار پاکستان اس کی نشاندہی کرتا رہتا ہے لیکن بھارتی لابی کے زیر اثر غنی حکومت کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہے،جہاں تک گزشتہ روز کی کارروائی اور سیکورٹی کا تعلق ہے تو اس میں شبہ نہیں کہ کہیں نہ کہیں کوئی لیپس ضرور تھا کہ جس کے بعد دہشت گرد اس کارروائی کو انجام دینے میں کامیاب ہوئے۔ اڑی حملے کے بعد بھارت کی طرف سے جس طرح کی دھمکیاں دی جارہی تھیں اس کے بعد ضروری تھا کہ حساس نوعیت کے مقامات کی سیکورٹی چارگنا بڑھا دی جاتی لیکن مذکورہ پولیس سنٹر کے بارے جو اطلاعات سامنے آرہی ہیں کس طرح دہشت گرد عقبی دیوار پھیلانگ کر آئے ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیکورٹی اقدامات میں غفلت موجود تھی۔اتنے بڑے ٹریننگ سنٹر میں جہاں ایک ہزار کے قریب زیر تربیت نوجوان موجود تھے کی جامع سیکورٹی کا نہ ہونا مجرمانہ غفلت ہے۔ رواں برس کوئٹہ میں دہشت گردی کے درجنوں واقعات رونما ہوچکے ہیں۔اسی نوعیت کا ایک بڑا واقعہ 8 اگست کو ہوا تھا۔ کوئٹہ سول ہسپتال کے باہر دھماکے کے نتیجے میں 70 افراد شہید ہوئے تھے۔13 ستمبر 2016ء کو بھی سریاب روڑ پر پولیس ٹریننگ کالج کے قریب دھماکا ہوا تھا جس میں 2 پولیس اہلکارشہید تھے۔یہی پولیس ٹریننگ کالج ماضی میں 2008 اور 2006 میں بھی دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں آیا تھا جہاں کالج کے میدان میں راکٹ فائر کئے گئے تھے۔ صوبائی حکومت کو اس سلسلے میں چھان بین کرنی چاہیے، صرف یہی نہیں بلکہ بلوچستان میں موجود دیگر تمام ایسے حساس مقامات کی سیکورٹی کو دگناکردینا چاہیے۔یہ اقدامات عارضی نہیں مستقل بنیادوں پر اٹھائے جائیں ، پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جب سریاب روڈ کا علاقہ مسلسل ایسے حملوں کی زد میں رہتا ہے تو اس پورے علاقے کی سیکورٹی کاازسر نو جائزہ کیوں نہیں لیا جاتا۔ اس سلسلے میں حکومت سرجوڑ کر بیٹھے محض بیانات اور طفل تسلیوں سے بات نہیں بنے گی۔دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ہے تو پورے بلوچستان کی سیکورٹی پلان جنگی بنیادوں پر بنایا جائے تاکہ بلوچستان کا مستقبل محفوظ بنایا جاسکے۔
بھارتی اشتعال انگیز فائرنگ،عالمی برادری نوٹس لے
بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر سیزفائر کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق بھارتی فورسز نے لائن آف کنٹرول کے بھمبر سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ کی۔ گذشتہ روز سیالکوٹ کی ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں ایک سالہ بچی سمیت دو پاکستانی شہری جاں بحق ہوگئے تھے۔ پاکستان نے ہندوستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کرکے ورکنگ باؤنڈری پر بلااشتعال فائرنگ اور 2 شہریوں کے جاں بحق ہونے پر شدید احتجاج کیا ہے۔ اس سے قبل 19 اکتوبر کو بھی ہندوستان نے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیرالہ سیکٹر پر ایک دن میں متعدد مرتبہ بلا اشتعال فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق جبکہ 2 خواتین اور دو بچوں سمیت 5 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ 18 ستمبر کو ہونیوالے اڑی حملے کے بعد سے بھارتی اشتعال انگیزی میں تیزی آگئی ہے اور وہ مسلسل لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری کی خلاف ورزی کررہا ہے۔پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے اقوام متحدہ کے آبزرور تک لے کر جا کہ کس طرح روزانہ کی بنیاد پر اشتعال انگیزی کی جارہی ہے۔یہ اشتعال انگیز خدانخوستہ کسی بڑی کارروائی میں بدل سکتی ہے۔یواین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے۔ سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری لائن کے سات سیکٹروں پر بھارتی سیکورٹی فورسز کی طرف سے بلااشتعال فائرنگ وگولہ باری کے واقعات کی وجہ سے درجنوں پاکستانی دیہات کے 40 سے زائد سرکاری سکول بند ہیں اور ہزاروں طلبہ وطالبات تعلیم حاصل کرنے کیلئے سکولوں میں نہیں پا رہے۔ بھارتی سکیورٹی فورسز کی طرف سے بلااشتعال فائرنگ وگولہ باری کی وجہ سے پاکستانی دیہاتوں میں خوف وہراس پایا جاتا ہے اور طلبہ وطالبات کی جانیں بچانے کیلئے سرکاری وپرائیویٹ تعلیمی اداروں کے سربراہان نے حکام سے اجازت کے بعد سکولوں کو تالے لگادیئے ہیںیہ ایک سنگین صورتحال ہے ۔عالمی برادری بھی اسکا نوٹس لے۔
پلی بارگینگ کے ذریعے کلین چٹ
سپریم کورٹ نے نیب آرڈیننس 1999ء کے سیکشن 25a کے تحت ملزموں کو پلی بارگینگ کے ذریعے کلین چٹ دینے اور دوبارہ اپنے عہدوں پر جاکر کام کرنے کی اجازت دینے سے متعلق چیئرمین نیب کو اختیارات استعمال کرنے سے روکتے ہوئے حکم امتناعی جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے سرکاری ملازمین کی جانب سے قومی خزانے کو لوٹنے اور پلی بار گین کرکے دوبارہ عہدوں پر کام کرنیوالے افراد کی گزشتہ 10برس کی فہرست نیب سے طلب کرتے ہوئے سماعت 7نو مبر تک ملتوی کردی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے درست ریمارکس دیئے ہیں کہ نیب ان اختیارات کا استعمال کررہا ہے جو کہ عدالتیں بھی کرنے کی مجاز نہیں ہیں۔ایسے قوانین بنائے جاتے ہیں جن پر شرم آتی ہے دوسرے ممالک ہنستے ہیں کہ یہ قوانین ہیں جن پر ملک چلتا ہے۔ نیب قوانین 10کروڑ کی کرپشن پر کہتے ہیں 2کروڑ جمع کراؤ واپس نوکری پر بحال ہوکر کماؤ کھاؤ اور باقی قسطوں میں دو،نیب میں جاکرکافی کا ایک کپ پیو، مک مکا کرو ،سارے معاملات طے اور واپس اپنی نوکری پربحال ہوجاؤ۔سپریم نے یہ سلسلہ بند کرکے نہایت احسن اقدام کیا ہے ۔