- الإعلانات -

ہم مذمت کرتے ہیں۔۔۔!

ملک کی سیاسی فضا عجب راہ پر گامزن‘ عوام خالص عوام‘ جن کا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں وہ تو صرف ووٹ دیتے ہیں، پھر’ امید ویاس‘ میں پانچ برس گزار دیتے ہیں ایک سوال ہمارے جیسوں کے ذہنوں میں ہلچل مچا ئے اپنے تسلی وتشفی جواب کا متلاشی ہے کہ ’ملک کی سیاسی فضا عجب راہ پر آخر گامزن کیوں ہے ؟ نواز شریف جیسا ’قدآور ‘ نابغہ ِٗ روزگار قائد ‘ جو ملک میں تیسری بار وزارتِ عظمی کے مقتدر عہدے پر فائز ہوئے! اُن میں یقیناًایسی کوئی سیاسی بصیرت کی علمی وعملی صلاحیت تھی نا، تبھی تو اُن پر یہ اہم ذمہ داری عائد کی ہے! یہی نہیں بلکہ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں اُن کے برادر عزیز شہباز شریف کے علاوہ اُن جیسا کوئی دوسرا اگر ہوتا تو یقیناًسامنے آتا ’میاں شریف ‘ خاندان کا رکھ رکھاؤ اور سیاسی برتاؤ کے اطوار علامہ اقبال یا قائداعظم محمد علی جناح کے ہم پلہ لگتے ہیں! علامہ اقبال جنہیں ہم ’ مفکرِ پاکستان ‘ کہتے اور مانتے ہیں ملت کی مشکلات کے تصورات میں ہمیں کئی مقامات پر وہ بھی ’پُرنم ‘ ملے، جیسے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف اپنے دورہ ِٗ رحیم یار خان کے موقع ملکی ہسپتالوں کی حالت زار کاذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے تھے!‘ آئیے ہمارے ساتھ مل کر اِس تحریری مذمتی تحریک کا حصہ بنئے اور عہد کیجئے کہ ہم مذمت کرتے ہیں ان عناصر کی‘ جنہوں نے تین مرتبہ وزیراعظم اور دو مرتبہ وزیراعلیٰ رہنے والے نوازشریف کو بلیک میل کر کے ملک بھر کے خصوصاً پنجاب کے ہسپتالوں کی حالت بدلنے سے اِنہیں روکے رکھا!‘ہم مذمت کرتے ہیں ان عناصرکی جنہوں نے گزشتہ30سال میں نوازشریف کے ہاتھ پاؤں باندھے رکھے اور ہسپتالوں میں ضروری طبی آلات کی بہتر اور وافر سہولیات فراہم کرنے کی اُن کی سرتوڑ کوششوں کو ناکام بنایا!‘ ہم مذمت کرتے ہیں ان عناصر کی جنہوں نے ’’گن پوائنٹ ‘‘پر نوازشریف سے ہسپتالوں کی بجائے’ میٹرو بس‘ جیسے منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کروائے‘ ہم مذمت کرتے ہیں ان عناصر کی جنہوں نے30سال تک نوازشریف کو مجبور کئے رکھا کہ وہ ہسپتالوں کے برآمدوں میں بچوں کی ولادت، موبائل فون کی روشنی میں آپریشنز، ایمرجنسی وارڈز میں ایک ایک بیڈ پر تین تین مریضوں کی خبریں سننے کے باوجود کوئی مدد نہیں کر سکے‘ ہم مذمت کرتے ہیں ان عناصرکی جنہوں نے ملک میں ایک بھی ایسا ہسپتال نہیں بننے دیا جس میں نوازشریف ہی اپنے دل کا علاج کروا پاتے! یا ماضی کے صدر زرداری صاحب اور اُن کے قریبی اعزاء و اقرباء سمیت تقریبا سبھی وفاقی وصوبائی وزراء ‘ اپنے معمولی امراض کا علاج کرواسکتے زرداری صاحب نے بھی نواز شریف کی طرح عوامی فلاح وبہبود کے لئے بڑی جان توڑ کوششیں کیں؟ ہم مذمت کرتے ہیں اُن عناصر کی جو ملکی اندرونی امن وامان کے سلسلے میں وزیر اعظم صاحب کو ملکی سیکورٹی اداروں کے ساتھ باہم مل کر دوٹوک انداز میں فیصلہ کن اقدامات اُٹھانے کی راہ میں ہمیشہ کانٹے بچھانے میں مصروف رہتے ہیں ‘ ہم مذمت کرتے ہیں وزیر اعظم صاحب اُن عناصر کی ‘جو ہمہ گیر جتھے بنا کر آپ کو کشمیر کے تازہ ترین سنگین حالات میں ٹھوس موقف اختیار کرنے سے پہلو تہی کی پالیسی اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں جو آپ پر ہمہ وقت دباؤ ڈالے رکھتے ہیں کہ آپ بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کی جانب اقوامِ متحدہ کے سربراہی اجلاس میں اشارہ کرتے ہوئے اُس کے انسانیت کش گھناونی حرکات وسکنات کا تذکرہ کرنے سے مانع رہیں! ‘ وزیر اعظم صاحب ہم اُن عناصر کی بھی مذمت کرتے ہیں جنہوں نے ’ میمو گیٹ ‘ سکنڈل کے حساس ایشو کو اعلیٰ ترین عدالت میں اُٹھانے پر آپ کو اکسایا تھا اور آپ کو بھی کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ جانے کا مشورہ دیا تھا جس کے نتیجے میں ملکی افواج کے سربراہ سمیت اُس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کو سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرنے پڑے تھے جن عناصر نے آ پ کو ایسے حساس موقع پر ذومعنی خاموشی اختیار کرنے کا مشورہ دیا جب سپریم کورٹ کی طلبی پر ’میمو گیٹ ‘ کے مرکزی ملزم ’حسین حقانی ‘ کو اُس وقت کے صدر زرداری نے ایوانِ صدر میں ’ مہمان ‘ ٹھہرایا جس کی ایوانِ صدر سے سپریم کورٹ تک کی آمدورفت پر اُس مرکزی ملزم کے تحفظ کے لئے بلیک واٹرز کی سیکورٹی ہوا کرتی تھی اُس وقت آپ کی پارٹی اپوزیشن بینچوں پر ہوا کرتی تھی لیکن ظالموں نے آپ کو صدر زرداری کے اِس ’ایکٹ‘ کے خلاف احتجاج تک کرنے نہیں دیا اور اب ’میمو گیٹ اسکنڈل ‘ کا کیس بھی نجانے کہاں گم پڑا ہے؟ یہ عناصر کون ہیں آپ پاکستان کے سچے جانثار اور بہت ہی ’جراّت مند‘ لیڈر وقائد ہیں آپ کبھی پاکستان کے لئے سیکورٹی رسک نہیں بن سکتے مگر یہ عناصر ہمیشہ ایسے وقتوں میں آپ پر چھا جاتے ہیں جب بھی آپ پاکستان کی مجموعی قومی اقتصادی بحالی کے لئے اپنے ہنگامی نوعیت کے فیصلے کرنے لگتے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں اُن چالاک وعیار عناصر کی جنہوں نے آپ کے گرد جھوٹ کے نیٹ بُن رکھے ہیں جنہوں نے مسلم لیگ (ن) کے صدارتی انتخاب میں آپ کی واضح کامیابی کے موقع پر آپ کو ’آلو‘ کی صحیح قیمت نہیں بتانے دی آج پاکستانی عوامی حلقوں میں اِس سلسلے میں جتنی بھی مذمتی مضحکہ خیز باتیں کی جارہی ہیں اِس میں واقعی آپ کا کوئی قصور نہیں ‘ ہم مذمت کرتے ہیں اُن عناصر کی ‘جو کہ حالیہ سنگین قومی سلامتی کے اجلاس کی اندرونی کارروائی باہر آکر آپ سے پوچھے بغیر انگریزی اخبار کے رپورٹر کو من وعن بتانے سے گریزنہیں کرتے ایسا رپورٹر جوپہلے بھی کئی من گھڑت خبریں اپنے اخبار میں شائع کرنے میں خاصا ’مشہور‘ ہے ہم مذمت کرتے ہیں اُن عناصر کی جو بظاہر آپ کے خیر خواہ بننے کی کوشش کرتے ہیں لیکن آپ کو مکمل’ قائدانہ یکسوئی‘ کے ماحول میں فوری فیصلہ کرنے کی مہلت نہیں دیتے ہم مذمت کرتے ہیں اُن عناصر کی جو آپ کو وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار سے یہ معلوم کرنے یا بطور وزیر اعظم اِس کی جوابدہی سے اب تک روکے ہوئے ہیں کہ ملک بھر میں’ قومی اثاثوں‘ مثلاً ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کی کروڑوں بلکہ کھربوں کی ار اضیوں کی گروی رکھنے کی باتیں کیوں ہورہی ہیں؟ وزیر خزانہ آپ کے بہت قر یبی رشتہ سہی آپ اُن سے جوابدہی کرنے کا آئینی حق رکھتے ہیں ہم مذمت کرتے ہیں ہم مذمت کرتے وزیر اعظم صاحب ! اُن عناصر کی جو آپ کو ’خامخواہ ‘ کے پانامہ لیکس جیسے تھرڈ کلاس’ عالمی‘ کرپشن کیس میں اپنی صفائی پیش کرنے نہیں دینا چاہتے، یہ عناصر نجانے کہاں سے عوام اور آپ کے درمیان فاصلہ پیدا کرکے نجانے کیا کیا مقاصد حاصل کرنا چاہ رہے ہیں ہم مذمت کرتے ہیں اُن عناصر کی جو توانائی کے ملکی بحران میں آپ کی اپنی متعین کردہ ایک مدت کو باہم ’گڈ مڈ‘ کرکے آپ کے انتخابی وعدوں کی راہ میں اور رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہیں آخر یہ عناصر ہیں کون ؟ ممکن ہے وزیر اعظم صاحب کو بھی اِن’ عناصر‘ کے بارے میں کوئی اتہ پتہ نہ ہو ’میمو گیٹ سکنڈل سے بیڈ گورنس کی انتہا تک ‘ قومی سلامتی کی متنازعہ خبر کی لیک سے جمہوری سسٹم کی تبدیلی ہوتی بادشاہت تک ‘ چند اہم اطلاعاتی قومی اداروں کی کھربوں کی املاک کو گروی رکھ کر ملک کے ’ریزرواکاونٹس کو عالمی مالیاتی اداروں کے لئے قابلِ اعتماد بنانے کی اعلیٰ سطحی وارداتوں کا ہوسکتا ہے یہ بھی ہمارے وزیر اعظم کو علم نہ ہو ‘ کیا یہ روش صحیح سمت کی نشاندہی کرتی ہے؟ ملک پُرسکون ہے یا اِس کی لہروں کی تہوں میں (خدانخواستہ ) کوئی طوفان خیز خاردار اور انہونا ہنگامہ تو نہیں پنپ رہا ؟لیکن پھر بھی ہم معذرت خواہ جنابِ وزیر اعظم ‘ آپ بالکل صحیح ہیں! ۔
****