- الإعلانات -

جمہوریت یا بادشاہت

گزشتہ دنوں سپریم کو رٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے میٹرو اور اورنج کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوام سے جمہوریت کے نام پر مذاق ہو رہا ہے اور ملک جمہوریت کے نام پر با دشاہت قائم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو چاہئے کہ وہ اپنا نمائندہ منتخب کر اتے ہوئے ووٹ کا حق اختیاط سے استعمال کریں۔اگر چیف جسٹس کے بیان کو دیکھا جائے تو اُنہوں نے دو تین فقروں میں ملک میں مروجہ جمہوری نظام اور بُری حکمرانی کا ذکر کیا اور عوام سے استد عا کی ہے کہ ایسے نمائندوں کو چنیں کہ جو ایماندار، محبت وطن ذات پات سے دور ہوں۔مگر بد قسمتی یہ ہے کہ جمہوری نظام اُن ممالک میں احسن کر دار ادا کر رہا ہوتا ہے جہاں پر اکثریت لوگ زیور تعلیم سے آراستہ ہوں۔امریکہ، بر طانیہ، ڈنمارک جرمنی اور فرانس کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔اور بد قسمتی سے جہاں پر تعلیم کی کمی ہے وہاں پر جمہوری نظام اُس طریقے سے احسن کر دار ادا نہیں کر رہا ہوتا ہے جو مغربی اور زیادہ تعلیم یافتہ ممالک میں ادا کررہے ہوتے ہیں۔ جو ممالک تعلیم اور تحقیق پر زیادہ تو جہ دیتے ہیں وہاں پر جمہوریت اور جمہوری ادارے اچھے طریقے سے چل پاتے ہیں۔بد قسمتی سے مسلمان ممالک اس شعبے میں بُہت زیادہ پیچھے ہیں اور دنیا کے کم تعلیم یافتہ ممالک میں جو ٹاپ باٹم پر ہیں اُن میں سوڈان، افغانستان اور نا ئجر شامل ہے۔پاکستان میں شرح خواندگی 50 فیصد ہے اور ان میں وہ لوگ بھی خواندہ شمار اور تصور کئے جاتے ہیں جو صرف اپنا نام پڑ ھ اور لکھ سکتا ہو۔ حالانکہ یو رپ اور ترقی یافتہ مما لک میں خواندگی کی تعریف کچھ اور ہے۔ڈاکٹر عطا الرحمان اور ڈاکٹر عبد القدیر خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اُن 10 ممالک میں جہاں تعلیم صرف 2 فیصد خرچ کیا جاتا ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے۔بد قسمتی سے جو لوگ کم تعلیم یافتہ اور کم شعور والے ہونگے وہ کیسے اچھے دیانت دار اور ایماندار لوگوں کو منتخب کر سکتے ہیں۔ اُن میں اچھائی اور بُرائی کا تمیز کم ہوتا ہے۔اُنکا شعوری اورintelect لیول اتنا نہیں ہوتا جو اچھے اور بُرے میں فرق اور تمیز کرسکیں۔اگر ہم پاکستان کے سیاست دانوں قومی صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے ممبران پرنظر ڈٖالیں تو ان میں اکثریت مو روثی سیاست دانوں کی ہے جیسا کہ شریف خاندان، بھٹو خاندان، مفتی خاندان، باچا خان خاندان، چودھری برا دران اور اسکے دیگر اور بھی بُہت سارے نام اور خاندان ہیں۔ بُہت اختلاف کے باوجود کستان میں ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی دو ایسی سیاسی پا رٹیاں ہیں جہاں پر سیاست کا خاندانی اور مو روثی Conceptنہیں اور غریب سے غریب تر قومی سیاست اور ادھارے میں شامل ہو سکتے ہیں۔مو روثی سیاستدان اور سیاسی پا رٹیاں ایسے لوگوں کو سامنے اور آگے نہیں لاتے جو ان سے زیادہ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ہوں۔ویسے کیا عجیب لگتا ہے جب بلاول بھٹو زرداری کے پیچھے خور شید شاہ، اعتزاز احسن اور کائرہ اور مریم نواز کے پیچھے احسن اقبال ، خواجہ آصف اور سعد رفیق کھڑے ہوں اور یہ سب اپنے تقریروں میں بلاول بھٹو اور مریم نواز کو اپنا رہبر اور قائد کہتے ہوتے ہیں تو عجیب لگتا ہے۔موجودہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں اکثریت یعنی 100 کے قریب ایسے قانون سازوں کی ہے جو مشرف حکومت اور کابینے میں شامل تھے اور اب نواز شریف اور شہباز شریف کے دھن میں مگن ہوتے ہیں۔ہمارے قانون ساز کیا قانون سازی اور ملک کی بہتری کے لئے کام کریں گے جن میں اکثریت ان پڑھ اورکم پڑھے لکھوں کی ہوں اور جو تعلیم یافتہ ہیں وہ خلیج ٹائمز کے مطا بق ان میں100 کی ڈگریاں جعلی ہوں اور 189 قانون سازوں ڈگریاں تصدیق کرنے کیلئے پڑے ہوئے ہیں۔اگر ہم اپنے پڑوسی ملک ایران کے پارلیمان کے ممبران پر نظر ڈالیں تو ان میں 270 ایسے قانون ساز ہیں جو دنیاوی علم کے ساتھ دینی علوم سے بھی بہرہ ور ہیں اور یہ 270 قانون ساز حافظ قُر آن ہیں ۔ ان میں 20ما ہر اقتصادیات، پی ایچ ڈگری ہو لڈر 100 اور130ایسے ہیں جنکو 1000احادیث یاد ہیں۔بھارت کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ بھارت کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔بھارت کے پارلیمنٹ میں 30 پی ایچ ڈی،143 ایم اے ایم ایس سی،247 گریجو یٹ اور 55 ایف اے ایف ایس سی ہیں۔جبکہ اسکے بر عکس ہمارے ملک کے حکمرانان پڑھ جاہل اور ملک اور قوم کے ساتھ دھوکہ اور فراڈ کرنے والے ہیں۔قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ہمارے ان قانون سازوں کی باتیں سُننے والی ہوتی ہیں۔انگریزی میں کہتے ہیں:Democracy is the Govt of the people, by the people and for the peopleکہ جمہوری نظام ایک ایسا طرز حکومت ہے جوعوام کی ہے، عوام پر ہے اور عوام کیلئے ہے۔مگر اگر دیکھا جائے تو یہ سب کچھ غلط اور جھوٹ ہے نہ تو یہ عوام کیلئے ہے اور نہ پاکستان کیلئے بلکہ پاکستان میں جمہوری نظام اور جمہو ریت کے                                       نام پر عوام کے ساتھ مذاق کیا جاتا ہے۔بقول اقبال
اس راز کو ایک مر د فرنگی نے کیا فا ش
ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے
جمہوریت ایک طر ز حکومت ہے کہ
جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے