- الإعلانات -

وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس

وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس بڑی اہمیت کا حامل قرار پایا۔ سیاسی و عسکری قیادت نے جہاں کالعدم تنظیموں کے خلاف موثر کارروائی کا فیصلہ کیا وہاں سانحہ کوئٹہ کے ذمہ داروں کو معاف نہ کرنے اور انہیں قرار واقعہ سزا دینے کا عزم بھی کیا اور اس طرح کے واقعات سے بچنے کیلئے صوبے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کوآرڈینیشن مضبوط بنانے کا بھی فیصلہ ہوا ۔ سیاسی و عسکری قیادت نے کہاکہ کوئٹہ شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیاجائے گا ۔ سانحہ کوئٹہ نے ایک بار پھر فضا کو سوگوار بنا دیا اور ملک بھر میں سوگ کی کیفیت ہے ہر آنکھ اشکبار اور ہردل رنجیدہ ہے۔ کوئٹہ پولیس ٹریننگ پر دہشت گردوں کے حملے نے قوم کو نڈھال کرکے رکھ دیا ہے۔ یہ حملہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں پر دشمن کا وار ہے لیکن سیاسی و عسکری قیادت پرعزم ہے وہ اس طرح کے بزدلانہ حملے آپریشن ضرب عضب کے مقاصد کو نہیں روک سکتے ہمارا المیہ یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان بنا تو دیا گیا لیکن اس پر کماحقہ عمل درآمد نہیں ہوا اگر عمل کیا جاتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی جہاں تک آپریشن ضرب عضب کا تعلق یہ کامیابی سے جاری ہے اورپاک فوج کی قربانیوں کے نتیجہ میں دہشت گردوں سے کئی علاقے واگزار کروائے جاچکے ہیں اور ان کے نیٹ ورک تباہ بھی کیے گئے ہیں لیکن کوئٹہ واقعہ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ دہشت گرد موجود ہیں ان کے تانے بانے افغانستان اور بھارت سے ملتے ہیں ۔ بھارتی دہشت گردانہ سرگرمیاں دراصل پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش ہے لیکن دشمن اپنے ان مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوپائے گا۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ اچھے اور برے دہشت گردوں کی پالیسی سے حکومت کو بے نیاز ہونا چاہیے تب جاکر ملک سے دہشت گردی کا قلع قمع ہوگا ورنہ دہشت گردی کا ناسور کبھی بھی ختم نہ ہو پائے گا ۔ نیشنل ایکشن پلان دہشت گردی کے مکمل خاتمے میں اس وقت موثر ہو پائے گا جب اس پر عملدرآمد ہوگا۔ دہشت گردی کی اجازت دنیا کا کوئی مذہب نہیں دیتا ۔ اسلام تو امن کا دین ہے سلامتی کا درس دیتا ہے اور اقلیتوں کے ساتھ حسن سلوک کا سبق دیتا ہے یہ کیسے طالبان اور تنظیمیں ہیں جو انسانیت کی دشمن ہیں اور معصوم شہریوں کو دھماکوں اور خودکش حملوں سے اڑا رہی ہیں۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اوردہشت گردی کے خلاف اس وقت فصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے ۔ پڑوسی ملک بھارت کا دہشت گردی میں ملوث ہونا افسوسناک ہے ۔ پاکستان میں جاری دہشت گردی میں ’’را‘‘ کا عمل دخل نمایاں ہے جس کی روک تھام کیلئے اقدامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے اور سیکورٹی کو فعال بنانے پر بھی توجہ کی ضرورت ہے اگر سیکورٹی موثر ہوتی تو 61 جنازے نہ اٹھتے آخر کب تک صرف اعلانات پر اکتفا کیا جاتا رہے گا ان اعلانات پر عمل کو یقینی بنایا جائے ۔ سانحہ کوئٹہ نے سیاسی وعسکری قیادت کو یہ پیغام دیا ہے کہ ابھی دہشت گردوں کا وجود ہے اور ختم کرنے کے دعوے دعوے ہی ہیں ۔ بہرحال پاک فوج کی قربانیوں کا یہ صلہ ہے کہ کافی حد تک دہشت گردی پر قابو پایا جاچکا ہے ۔سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خاتمے کے جس عزم کا اعادہ کیا ہے وہ قوم کی امنگوں کاترجمان ہے۔ حکومت اور فوج مل کر ہی دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ سکتے ہیں ۔ دہشت گردی کا خاتمہ ہی ملک کے امن کا باعث بن سکتا ہے۔ پاک سرزمین پر خون آلود مناظر اس کی فضا کو سوگوار بنائے ہوئے ہیں اندرونی و بیرونی سازشیں بھی پاکستان کو عدم استحکام اور افراتفری کا شکار کرنا چاہتی ہیں لیکن ان کی یہ ناپاک کوشش کبھی بھی کامیاب نہ ہوسکیں گی۔ پاکستان کو اس وقت دہشت گردی جیسے گھمبیر مسئلے کا سامنا ہے جس سے اس کی ترقی اور خوشحالی کی راہیں بھی متاثر ہورہی ہیں ۔ دہشت گردی نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے جس کے خلاف پاکستان بھرپور برسرپیکار ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے آپریشن ضرب عضب جاری ہے اور اس کا دائرہ وسیع کیا جاچکا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا جائے اسی سیاسی مصلحت اندیشی سے بے نیاز ہوکر تمام ایسی تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جائے جو دہشت گردی میں ممدومعاون ثابت ہورہی ہیں اور ایسی سوچ کو بھی لگام دینے کی ضرورت ہے جو انتہا پسندی کو فروغ دینے کا باعث بن رہی ہے۔پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے سیاسی و عسکری قیادت پرعزم ہے اور قوم اس کے ساتھ کھڑی ہے ۔ دہشت گردوں کو عبرت کا نشان بنانا ہی وقت کا تقاضا ہے ۔
تصادم سے گریز کیا جائے
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف پاکستان کیلئے سیکورٹی رسک بن گئے ہیں ہم جب بھی کچھ کرنا چاہتے ہیں تو کچھ نہ کچھ ہو جاتا ہے انہوں نے کہاکہ 2نومبر کا دھرنا کسی صورت ملتوی نہیں ہوگا ۔ کوئٹہ حملہ سیکورٹی لیپس ہے ۔ پانامہ لیکس کی تحقیقات ہو جائیں تو میر جعفر اور میر صادق سامنے آجائیں گے ۔ دوسری طرف حکومت نے تحریک انصاف کے 2نومبر کو اسلام آباد لاک ڈاؤن سے نمٹنے کیلئے مختلف آپشنز پر غور شروع کردیا ہے ۔فیض آباد سے زیرو پوائنٹ تک رہنے کی اجازت دینے کا فیصلہ ریڈ زون میں داخل کی کوشش پر کارکنوں کو پنجاب ہی روکا جائے گا کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلئے کارکنوں کی تلاشی لینے اور انتشار پھیلانے کی صورت میں گرفتاریاں بھی متوقع ہیں جبکہ تحریک انصاف نے بھی اپنا پلان تشکیل دیتے ہوئے دھرنے میں کارکنوں کی بھرپور شرکت کو یقینی بنانے کیلئے ضلعوں اور دھرنا گاہ میں کوارڈینیٹر مقرر کردئیے یہ صورتحال سیاسی موسم کو گرمانے کا باعث بنتی جارہی ہے ۔ پی ٹی آئی اور حکومت آمنے سامنے ہے اور سیاسی بادل طوفانی روپ دھارے جارہے ہیں احتجاج سیاسی جماعتوں کا حق ہے لیکن پرامن ساتھ ہی حکومت کی یہ ذمہ داری قرار پائی ہے کہ وہ بے جا پابندی اور پکڑ دھکڑ سے گریز کرے لیکن سیاسی جماعتوں کو ان کا جمہوری حق سے محروم رکھنا جمہوری تقاضوں کے منافی ہے۔ حکومت سیاسی جماعتوں کو ساتھ چلانے میں پوری طرح کامیاب نہ ہو پائی جس سے سیاسی ہلچل کا منظر ہے۔ پانامہ لیکس پر اٹھنے والی شعلہ اب ملک بھر میں پھیل چکا ہے اور عمران خان وزیراعظم کے استعفے یا اور احتساب کیلئے پیش ہونے کا تقاضا کررہے ہیں جبکہ حکومت سیاسی تدبر اور بصیرت سے کام نہیں لے رہی جس سے معاملہ بگڑ گیا اور ٹی او آرز پر اتفاق رائے کا پیدا نہ ہونا احتجاج کا باعث بنا وطن عزیز میں کثیر الجماعتی نظام ہے اور تمام جماعتوں کو ساتھ لے کرچلنا حکومتی ذمہ داری ہے ۔ پارلیمانی نظام حکومت میں حکومت عوام کے سامنے جوابدہ ہوا کرتی ہے ہم انہی کالموں میں کئی بار سیاسی بصیرت تدبر سے کام لینے پر زور دے رہے ہیں اور ہمارا استد لال یہ ہے کہ سیاسی معاملہ کا سیاسی حل ہی جمہوریت کیلئے نیک شگون قرار پاتا ہے اور بلا امتیاز احتساب سے ہی ملک کو کرپشن سے پاک کیا جاسکتا ہے۔ 2نومبر کے احتجاج کو پرامن ہونا چاہیے اور پرتشدد بنانے سے گریز کرنا دوطرفہ ذمہ داری ہے۔ حکومت برداشت کے جمہوری کلچر کو فروغ دے اور پانامہ کا معاملہ الجھانے