- الإعلانات -

شہداء کے لاشے اس طرح لے جاتے ہیں؟

سانحہ کوئٹہ کے بعد ایک سانحہ اور ہوا۔درد سے بوجھل آنکھیں اب کے برسات ہو گئیں۔
شہدا کے لاشے گاڑیوں کی چھتوں پہ دھرے تھے۔محسن حدید صاحب نے یہ تصویر فیس بک پر شیئر کی تو کنپٹیاں سلگنے لگ گئیں۔کیا کوئی قوم اپنے شہداء کو ایسے رخصت کرتی ہے۔
پھر اچانک ایک اور خیال آیا ۔۔۔۔درد کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ خیال یہ تھا کہ شہداء کا احترام کے نہیں ہو گا کیا بلوچستان کے پورے صوبے میں اتنی ایمبولینسز ہوں گی کہ سب شہداء کے وجود ان میں رکھے جا سکیں۔میرا خیال ہے ہم سارے بلوچستان کی ایمبولینسز منگوالیں پھر بھی آدھے شہدا کے وجود گاڑیوں کی چھتوں پر ہی جانے تھے۔
بلوچستان ہمارا صوبہ ہے۔ہمارے وجود کا حصہ۔وسائل سے مالا مال۔لیکن ہم سے غفلت ہوئی ۔ہمیں اس غفلت کا ازالہ کرنا ہو گا۔دہشت گردی کے محرکات بلا شبہ اور ہیں لیکن اس وقت میرا موضوع دہشت گردی میں پڑوسی ممالک کا کردار نہیں بلکہ وہ منظر ہے جس میں ہم شہداء کے وجود فاڑیوں کی چھتوں پر جاتے دیکھ رہے ہیں۔بلوچستان کو وسائل میں سے مناسب حصہ دیا گیا ہوتا تو آج وہاں ایمبولینسز موجود ہوتیں۔ہم سے بہت غفلت ہوئی اس کا ازالہ ضروری ہے۔
ہمیں اپنی نفسیاتی گروہوں کو کھولنا ہو گا۔کیا وجہ ہے کہ کل شیخ مجیب کو اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی بو آتی تھی اورآج ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ پوچھتے ہیں کہ تم نے مری تک تو گیس پہنچا دی مگر 80فیصد بلوچستان آج بھی اس سے محروم ہے؟آج بھی آپ بلوچستان چلے جائیں آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ آپ اس عہد جدید کی کسی بستی میں کھڑے ہیں۔وسائل کی تقسیم کا یہ حال ہے کہ جنرل عبدالقادر بتا رہے تھے کہ ان کا حلقہ تین ہزار کلو میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس کا ترقیاتی فنڈ انہیں مبلغ ایک کروڑ ملا ہے۔یاد رہے کہ یہ ایک حلقہ پورے خیبر پختونخواہ سے بڑا ہے۔ حالت یہ ہے کہ راولپنڈی کے نالہ لئی کا بجٹ بلوچستان کے کل بجٹ سے زیادہ تھا۔ایک دو اضلاع کو چھوڑ کر باقی کا حال یہ ہے کہ کوئی گائناکالوجسٹ نہیں ملتی۔ذرائع آمدورفت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔پورے بلوچستان میں اتنی یونیورسٹیاں نہیں جتنی صرف راولپنڈی کی مری روڈ پر ہیں۔۔۔ہم نے عملاً بلوچستان کو کب کا خود سے کاٹ کر پھینکا ہوا تھا۔فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ اب یہ سوتیلا پن بلوچوں کی رگوں میں زہر کی طرح اتر چکا ہے ۔ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کا کہنا تھا کہ آج وقت ہے معاملہ سنبھالا جا سکتا ہے۔معاملات تعلیمی اداروں میں نئی نسل کے ہاتھ میں جا رہے ہیں ۔یہ مکمل طور پر نئی نسل کے ہاتھ میں چلے گئے تو ہم بھی بے بس ہو جائیں گے۔اس سے مجھے حسین شہید سہروردی یاد آگئے۔ ایک روز وہ آرام کر رہے تھے اورشیخ مجیب ان کے پاؤں داب رہے تھے۔دابتے دابتے کہنے لگے’’سہروردی صاحب کیوں نہ ہم مشرقی پاکستان کو الگ ملک بنا لیں۔‘‘یہ سننا تھا کہ سہروردی صاحب غضبناک ہو گئے اور شیخ مجیب کو اتنی زور سے لات ماری کہ شیخ صاحب نیچے جا گرے۔بعد میں سہروردی صاحب ہر ایک سے یہی کہتے رہے کہ آج وقت ہے کچھ کر لو ورنہ معاملات نوجوانوں کے ہاتھ میں چلے جائیں گے اور ہم بے بس ہو جائیں گے۔سہروردی صاحب کی بات مگر کسی نے نہ سنی۔آج قومی اسمبلی میں بلوچستان کی صرف 17نشستیں ہیں ۔اور ایک نشست این اے 271(خاران،واشوک،پنچگور) کے ایم این اے کا علاقہ پورے خیبر پختونخواہ سے زیادہ ہے۔اور ترقیاتی بجٹ صرف ایک کروڑ۔اب ان تیرہ نشستوں میں سے بمشکل پانچ یا چھ نشستیں اوپن ہیں۔ باقی کچھ ہیوی ہیٹس کی پاکٹ سیٹس ہیں۔جب پورے صوبے سے قومی اسمبلی کی نشستیں ہی اتنی کم ہوں تو نواز شریف یا آصف زردای کو کیا پڑی ہے وہ کوئٹہ،ژوب اور لورا لائی کے دھکے کھاتے پھریں۔ چنانچہ آج ہمارے سیاست دانوں کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ بلوچستان کے جھنجھٹ میں پڑیں۔ سیاست دان حساب سودوزیاں میں بڑا کائیاں ہوتا ہے۔اگر یہ نشستیں پچاس ساتھ ہوتیں تو کیا عجب کہ نواز شریف صاحب اپنے اجلاس مری کی بجائے زیارت میں بلاتے اور محترم پرویز رشید ہمیں بتا رہے ہوتے کہ فیصلہ قائد اعظم کی محبت میں کیا گیا ہے کیوں کہ انہوں نے آخری ایام یہاں گزارے تھے۔جب مرکزی قیادت وہاں کا رخ کرتی تو وہاں کا احساس محرومی بھی کم ہوتا اور وہ قومی دھارے میں بھی آجاتے۔قومی قیادت اب ایک درجن نشستوں والے صوبے میں تو جانے سے رہی۔صوبہ بھی ایسا جہاں ایک ایک حلقہ ایک ایک صوبے کے برابر ہو۔تو کیوں نہ یہ نشستیں بڑھا دی جائیں؟ بلوچستان آخر پرایا نہیں، اپنا ہے۔آپ کا بھی ہے۔میرا بھی ہے۔
دہشت گردی سے تو فوج انشاء اللہ نبٹ ہی لے گی۔کیا ہماری سیاسی قیادت اس سیاسی مسئلے کو حل کر سکتی ہے۔دشمن کی سازشوں کو ناکام کرنے کے لیے ضروری ہے بلوچستان میں