- الإعلانات -

حکومتی کریک ڈاؤن ،غیر جمہوری اقدام

تحریک انصاف کے ای الیون میں یوتھ کنونشن پر پولیس اور ایف سی کے دھاوے لاٹھی چارج تشدد اور پکڑ دھکڑ ۔ بنی گالہ کا محاصرہ اور لال حویلی کے سیل کرنے کے بعد سیاسی صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے۔ حکومت 2نومبر کے احتجاج سے بوکھلاہٹ کا شکار دکھائی دے رہی ہے اور حالات کو سدھارنے کے بجائے الٹا ان کو خراب کرنے کے اسباب پیدا کررہی ہے۔ جمہوریت میں احتجاج، مظاہرے اور دھرنے سیاسی جماعتوں کا حق گردانے جاتے ہیں ان کو طاقت کے زور پر کچلنے سے جمہوریت کو ہی کاری ضرب لگتی ہے۔ حکومت دور اندیشی اور تدبر کا مظاہرہ کرنے کی بجائے انتقامی کارروائی پر اتر آئی جس کے نتائج جمہوریت کیلئے نیک شگون قرار نہیں پاسکتے ۔ پنجاب بھر سے کارکنوں کی گرفتاریوں کا کوئی قانونی جواز نہیں اس طرح کے ہتھکنڈے اور حربے حکومت کی ناکامی کے عکاس گردانے جائیں گے سیاست میں برداشت اور بصیرت سے کام لیا جاتا ہے اورہر مسئلے کا حل سیاسی طریقے سے نکالا جاتا ہے پانامہ لیکس پر اٹھنے والا طوفان اور اس کے اثرات ملک گیر پھیلتے جارہے ہیں ۔کچھ وزراء جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کررہے ہیں جس سے حکومت کیلئے مسائل بڑھیں گے ۔ عمران خان پانامہ پر وزیراعظم کا احتساب یا استعفیٰ چاہتا ہے ۔ حکومت کا دامن صاف ہے تو خود کو احتساب کیلئے پیش کردے اس طرح مخالف آوازیں خود بخود دم توڑ جائیں گی ۔ جمہوریت میں وزیراعظم عوام کے سامنے جوابدہ ہواکرتا ہے اور حکومت کا یہ فرض قرارپاتا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلے اور ان کے تحفظات دور کرے اس طرز عمل سے جمہوریت فروغ پاتی ہے ۔بادشاہانہ طرز حکومتی وقار اور ساکھ پر منفی اثر ڈالتا ہے آج جو سیاسی منظر نامہ بنتا جارہا ہے یہ ملک و قوم کیلئے سود مند نہیں۔ حکومت سیاسی جماعتوں کے احتجاج کو طاقت کے بل بوتے نہ روکے کیونکہ یہ ان کا حق ہے ہاں اگر یہ احتجاج سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتا ہے یا اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہے تو پھر ان کے خلاف ایکشن لیا جاسکتا ہے ۔ ماضی کے دریچوں میں جھانکا جائے تو مسلم لیگ(ن) پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں حکومت مخالف جلسے ، جلوس اور احتجاج کرتی رہی ہیں اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہوا کرتا ہے۔ حکومت برداشت کے جمہوری کلچرکو اپنائے اور آمرانہ طرز نہ اپنائے کارکنوں کی گرفتاریاں بند کرے اورپرامن احتجاج کو پرتشدد بنانے سے گریز کرے ۔ ریاستی طاقت سے سیاسی جماعتوں کو دبانا جمہوریت میں ناپسندیدہ شمار کیا جاتا ہے۔ بلاول بھٹو نے بھی یوتھ کنونشن پردھاوے کو حکومتی بوکھلاہٹ قرار دیا ہے کوئی بھی سیاست دان پرامن احتجاج پر لاٹھی چارج کو صحیح قرار نہیں دے سکتا۔ جمہوریت میں رواداری ہوا کرتی ہے ۔جذباتی وزراء معاملات کو سلجھانے کی کوشش کریں اور ایسا طرز عمل اختیار نہ کریں جس سے معاملات الجھ جائیں ۔ حکومت دور اندیشی سے کام لے اورسیاسی جماعتیں بھی اپنے احتجاج کو پرامن رکھیں یہی جمہوریت کیلئے نیک شگون ہوگا۔ حکومت سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں سے گریز کرے ورنہ خود حکومتی ساکھ ہی متاثر ہوگی سیاسی لیڈروں کی شہرت بڑھے گی جمہوریت میں آمرانہ طرز حکمرانی کو کوئی بھی جمہوریت پسند اچھا نہیں گردانتا۔ بنی گالہ اور لال حویلی کو سیل کرنے سے جو تاثر ابھر رہا ہے وہ حکومت کے مخالف جارہا ہے اس طرح کے اقدامات انتقامی گردانے جاتے ہیں ۔ حکومت بوکھلاہٹ سے باہر نکلے اور صبروتحمل کا مظاہرہ کرے اور دور اندیشی سے کام لے تحریک انصاف اور عوامی مسلم لیگ کے خلاف کریک ڈاؤن کو ختم کیا جائے سیاسی جماعتوں کو ان کے جمہوری حق سے محروم نہ کیا جائے ۔ ملک میں سیاسی استحکام کی ضرورت ہے اس کے بغیر ملک کو ترقی اور خوشخالی کے راستے پر نہیں ڈالا جاسکتا۔
سرحدی قوانین کی بھارتی خلاف ورزی
بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ اور مسلسل لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں سے سرحدوں کے بعد سفارتی محاذ بھی گرم دکھائی دینے لگا ہے۔ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے سفا رتکار نکال دئیے بھارت نے جنگی معاہدے کی جس طرح دھجیاں اڑا رہا ہے اس طرز سے پاک بھارت تعلقات خراب ہوتے جارہے ہیں بھارتی فوج کو پاکستان کی طرف سے منہ توڑ جواب دیا جارہا ہے اور اس کو منہ کی کھانا پڑ رہی ہے لیکن یہ اپنی حرکات سے باز نہیں آرہا جس سے سرحدوں پر کشیدگی بڑھتی جارہی ہے ۔ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرکے بھارت جو اشتعال انگیزی پیدا کررہا ہے اس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑے گا ۔ بھارت ایک طرف سرحدی قوانین کو پامال کررہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کے اندر دہشت گردی میں بھی اس کا ہاتھ ہے۔ بھارت کا جارحانہ رویہ اور پاکستان سے دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے وہ ہر طریقے سے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کررہا ہے لیکن بھارت اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگا کیونکہ پاک فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارت مسئلہ کشمیر کو بھی سردخانہ میں ڈالتے ہوئے ہے اورکشمیریوں کو حق خودارادیت نہیں دے رہا اور ریاستی جبر سے تحریک آزادی کو کچلنے کی کوشش کررہا ہے لیکن اس طرح کے تشددانہ کارروائیوں سے تحریک آزادی کونہیں دبایا جاسکتا ۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور بھارت سے خوشگوار تعلقات کا خواہاں بھارت اس کو پاکستان کی کمزوری نہ گردانے مسئلہ کشمیر کا حل ہی خطے میں پائیدار امن کا ضامن قرار پائے گا ۔ بھارت پاکستان کی برداشت کا امتحان نہ لے اور اپنی مکارانہ اور مخاصمانہ کارروائیوں سے باز رہے بھارتی جارحیت خطے کا امن تباہ کرسکتی ہے۔
دہشت گردی کیخلاف پاک فوج کا قابل تقلید کردار
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے انسداد دہشت گردی مرکز پبی کے دورہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی ممالک دہشت گردی کے خلاف ہمارے تجربات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ تجربات شیئر کرنا عالمی امن کیلئے ہماری ذمہ داری بھی ہے ۔ چین کے ساتھ مشقیں تعلقات مزید مستحکم کرتی ہیں انسداد دہشت گردی کیخلاف پاک فوج جو کردار ادا کررہی ہے دنیا کیلئے قابل تقلید ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے جس کے خاتمے کیلئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر دنیا کا امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ پاکستان واحد ملک ہے جو دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے اور اس جنگ میں اس کو کافی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ پاک فوج کے تجربات دنیا کے امن کیلئے دوررس نتائج کے حامل قرار پاسکتے ہیں دنیا کو پاک فوج کے تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے یہ عالمی امن کیلئے بھی ناگزیر ہے۔ پاک فوج ملک میں امن کیلئے دن رات کوشاں ہے اور اس کی قربانیوں کے صلہ میں امن واپس لوٹتا دکھائی دے رہا ہے کئی علاقے دہشت گردوں سے واگزار کروالئے گئے ہیں اور ان کا نیٹ ورک تباہ کردیا گیا ہے۔ پاک فوج کا کردار دنیا کیلئے قابل تقلید ہے، دنیا کو پاک فوج کے تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔