- الإعلانات -

اپوزیشن لیڈرتو شیخ رشیدہوئے؟

تحریک انصاف اور حکومت آمنے سامنے ہیں۔لازم ہے کہ اس ماحول میں معاملہ نفرت یا عقیدت کی بنیاد پر نہیں بلکہ انصاف اور دیانت کے ساتھ ہونا چاہیے۔
رات عمران خان کے یوتھ کنونش پر پولیس نے دھاوا بول دیا اور اس وقت جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں شیخ رشید کے جلسے کی تیاریاں ہیں اور پکڑ دھکڑ جاری ہے ۔
دونوں معاملوں کا سنجیدگی سے جازہ لینے کی ضرورت ہے ۔
پہلے عمران خان کا کنونشن ۔سواال یہ ہے کہ اس پر دھاوا کیوں بولا گیا۔ابھی تک عمران خان نے کون سا قانون توڑا تھا کہ اسے نون غنیت کی سان پر لے لیا گیا.
یوتھ کنونشن پہلے سے طے تھا اور دفعہ 144 بعد میں لگائی گئی. بالعموم ان حالات میں جلسہ ہونے دیا جاتا ہے اور ذمہ داران کے خلاف مقدمہ قائم کر لیا جاتا ہے. ایسا نہیں ہوتا کہ جلسے پر دھاوا بول دیا جائے۔پھر یہاں ایک اور بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ جب ایک اجتمار چار دیواری میں ہو رہا ہو تو اس پر دفعہ ایک سو چوالیس کا اطلاق نہیں ہوتا۔
سعد رفیق صاحب نے آج پریس کانفرنس میں سخت کلامی کا مظاہرہ کیا اس سے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کی ذہنی کیفیت کیا ہے. صاحب نے اپنیناموزوں انداز کلام کا جواز یہ پیش کیا کہ انہیں ایسا کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے. اگر مجبوری جواز بن جائے تو مشرف بھی یہی کہتے ہیں کہ انہیں مجبور کر دیا گیا تھا کہ صاحب کو واش روم میں بند کر دیا جائے. یا اٹک جیل بھجوا دیا جائے یا جدہ روانہ کر دیا جائے یا ادھر سے واپس پاکستان نہ آنے دیا جائے۔خود عمران خان بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہانہیں مجبور کر دیا گیا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف اس انتہا تک جائیں کہ اسلام آباد بند کر دیں۔
ن لیگ کو یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ اگر وہ اپنی انتظامی قوت کے نام. پر انتقام لینا چاہتی ہے تو حسب استطاعت اس کی مزاحمت کی جائے گی اور یہ مزاحمت صرف تحریک انصاف کی جانب سے نہیں بلکہ ہر ذی شعور کی جانب سے ہو گی۔. یہ جمہوری ملک ہے کسی کی موروثی بادشاہت نہیں ہے.اس کے حکمرانوں کو آئین کے دائرہ کار میں رہنا ہو گا ۔ان کے ناتراشیدہ مزاج آئین؂ نہیں بن سکتے۔
اسلام آباد بند کرنے کے اقدام کی حمایت نہیں کی جا سکتی ۔احتجاج کسی بھی جماعت کا حق ہے لیکن اسلام آباد بند کر دینا تو ایسے ہی ہے جیسے ملک میں الاقا نونیت کا راج ہو گا۔فلاں شہرپر فلاں گروہ نے قبضہ کر لیا۔یہ یہاں نہیں چل سکتا۔لیکن فی الوقت یہ ایک پر امن کنونشن تھا. یہ لوگ اسلام آباد بند کرنے نہیں آئے تھے. ان پر طاقت کا استعمال جمہوری نہیں آمرانہ رویہ ہے.
ویسے بھی حکومت اسلام آباد بند کرنے کے معاملے پر عدالت جا چکی تھی اور عدالت عمران کو طلب کر چکی تھی. عمران کے وکلاء وہاں جواب دینے کو تیار ہیں. عدالت نے آج کے آرڈر میں پر امن سیاسی اجتماع کے حق کی تو ثیق کی ہے. اس کے بعد اس تشدد کا کیا جواز ہے؟
دنیا بھر میں ستائیس اکتوبر کو مظلوم کشمیریوں نے یوم سیاہ منایا. اقوام. متحدہ کے دفتر کے باہر بھی مظاہرہ ہوا. کم از کم اسایک دن ہمارے سیاسی بیانیے کا موضوع کشمیر ہونا چاہیے تھا.لیکن پولیس گردی نے سارا بیانیہ ہی بدل دیا۔
اور اس وقت جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں عدالت کے واضح حکم کے باوجود کنٹینرز لگائے جا چکے ہیں۔یہ بات تو طے ہے کہ لال حویلی میں اجتماع کرنا شیخ رشید کا آئینی حق ہے اور انہیں اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔خود نواز شریف اس وقت کوہاٹ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کر رہے ہیں۔اگر نواز شریف جلسہ کر سکتے ہیں تو شیخ رشید کیوں نہیں کر سکتا۔جہاں تک اسلام آباد بند کرنے کی بات ہے تو اس میں دو باتیں بہت واضح ہیں۔ایک تو لال حویلی میں ہونے والا جلسہ اسلام آباد بند نہیں کر رہا اس لیے اس کو اسلام آباد کی بندش قرار نہیں دیا جا سکتا یہ ایک سیاسی سرگرمی ہے جو ان کا حق ہے۔
دوسری بات یہ کہ حکومت یہ معاملہ عدالت لے کر گئی ہے اور عدالت نے پر امن اجتماع کا حق دیا ہے عمران کو ایسے میں کیا حکومت توہین عدالت نہیں کر رہی۔
بہر حال ایک بات طے ہے۔اس وقت ملک میں قائد حزب اختلاف شیخ رشید ہیں اور یہ منصب انہیں نواز شریف نے خود دیا ہے۔
*****