- الإعلانات -

کشمیر ۔۔۔۔۔سا نحہ کو ئٹہ اور بھا رت

کو ئٹہ پو لیس ٹریننگ سنٹر پر حملہ کر نے والو ں نے 61جو انو ں کی جا ن لے لی اور 118کو زخمی کر کے خو د واصل جہنم ہو گئے ۔ کو ئٹہ لہو لہا ن ہر شہر میں لا شیں پہنچیں گی۔ بلو چستا ن کے ہر شہر میں ما تم ہو گا ! ہر قبیلہ کے جو ان کوئٹہ پولیس ٹر یننگسنٹر میں شہید ہو ئے ۔ ان شہا د تو ں سے پو را ملک میں صف ما تم بچھ گئی ہے ۔ ہر پا کستا نی اشک با ر ہے ۔ تر بت ہو کہ زیا رت ! پنچگور ر ہو کہ گو دار!پشین ہو کہ قلع سیف اللہ !چا غی ہو کہ نا را ن ! آوار ن ہو کہ خصلدار ! پسنی ہوکہ سبی! ہرشہر اور ہر قبیلے کے جوا نو ں نے کو ئٹہ پو لیس ٹر یننگ سنٹر میں قر با نی دی مگر دہشت گر داور ملک دشمن یا د رکھیں ! اب ان علا قو ں کے تما م جو انو ں میں دشمن سے بد لہ کا جذ بہ اور بڑ ھے گا! ہر شہر اور علا قہ دشمن کے خلاف مو ر چے کے طو ر پر استعما ل ہو گا ! کو ئٹہ میں تھو ڑ ے ہی دنو ں میں یہ دو سر ا بڑ ا دہشت گر دی کا و قعہ ہے۔ پہلے واقعہ میں بلو چستا ن ہائی کو رٹ با ر کے صد ر کو قتل کر کے دہشت گر دو ں نے ہسپتا ل میں دھما کہ خو د کش کر کے دنیا کی تا ریخ کے وکلا ء کے سب سے بڑ ے حا دثے کو جنم دیا تھا ! گو یا بلو چستان ہا ئی کو رٹ کے قر یباً تما م چو ٹی کے وکلا ء اس حملے میں شہیدہو گئے ۔ ابھی اس دہشت گر د ی کے واقعہ کے ملز ما ن تک پہنچا نہ گیا ۔ یعنی وکلا ء جیسی متحر ک اور قانو ن کی سمجھ دار رکھنے والی بر داری کو انصا ف نہ ملا تھا کہ قا نو ن کے رکھنے والو ں پر قیامت بر پا کردی گئی ۔ ان قا تلو ں اور دہشت گر دو ں کا پتہ کو ن کر ے گا ؟ان دہشت گر د و ں کا سر اغ کیسے لگا یا جاے گا ! کئی سا لو ں سے دہشت گر دو ں کے خلا ف لڑ ی جانے والی جنگ میں آ ج تک ہم دہشت گر دو ں کے ٹر یننگ سنٹر و ں تک بھی نہ پہنچ سکے ! کیا یہ ہما رے خفیہ ادارو ں کی نا کا می نہ بنے ؟ کیا اب تک دشمن کے مرا کز تک نہ پہنچنا ہما ری نا لا ئقی نہ ہے ؟ ہما ری فو ر سز ا۔ ہما رے خفیہ ادارے ۔ ہمارے حکمر ان اب تک کیا کر تے رہے ہیں؟ جبکہ دو سر ی طر ف دیکھا و غو ر کیا جا ئے تو نئی پر یشا نی کا سا منا کر نا پڑ تاہے !کہ جیسے آئی جی بلو چستان کے گھر کی چا ردیو ری کو تو بم پر و ف بنا یا جا رہا ہے۔ سیکر ٹری داخلہ جو ہر وقت ریڈ زون یعنی انتہا ئی محفو ظ علا قہ میں رہتے ہیں اور وہ بھی بلٹ پر و ف گا ڑی کو گھر اور دفتر میں استعما ل کر تے ہیں اور پو لیس ٹریننگ سنٹر کے پا نچ سو کے قر یب جو ان جس ہا سٹل میں رہ رہے تھے اس ہا سٹل کی حفا ظتی دیو ار نا م کی کو ئی شا ئے نہ ہے اور ان کی پا نچ سو افرا د کی حفا ظت پر صر ف ایک سپا ہی ما مورتھا ! جبکہ ایک ایک بیو ر و کر یٹ اور اعلیٰ افسر کی نگر انی کیلئے گا ڑ یو ں کے قا فلے اور جو انو ں کی پلٹنین لگی ہو تی ہے ۔ یہ اعلیٰ افسرا ن خو د کو زیا دہ محفو ظ دیکھنا چا ہتے ہیں ۔ قو م بھی ان کی حفا ظت کیلئے اپنے وسا ئل لگا رہی ہے مگر جو ان جو ملک اورحکمر انو ں اور اعلیٰ افسرا ن کی حفا ظت کیلئے اپنی جا نیں قربان کر رہے ہیں ۔ ان کو کم ا ز کم سو تے وقت تو تحفظ بخشنا حکام کی ذمہ دار ی ہے ! اعلیٰ افسر ان ہر دہشت گر دی کے واقعے کے بعد اعلا ن کر تے ہیں ا ب سیکو ر ٹی پہلے سے بہت بہترہو گئی ہے۔ مگر ہر ہو لنا ک واقعے کے بعد نیا ہو لنا ک واقعہ ہو جا تا ہے ۔ در جنو ں جو ان اللہ کو پیا رے ہو جا تے ہیں ! تو اعلیٰ و با لا افسرا ن پھر وہی فقرہ دو ہرا تے ہیں۔ کہ سکیو ر ٹی اب فو ل پر و ف کر دی گئی ہے ! گو یا یہ ڈرا مہ ہے ۔ دیکھتے ہیں کہ بڑ و ں کا یہ ڈرا مہ کب تک چلتا ہے ؟ بلو چستا ن میں ایر ان اور کا بل کے راستے ہند و ستان ، دہشت گر دی کرا نے میں مصر و ف ہے ہند و ستا ن ہمارا دشمن ہے ۔ وہ کشمیر سے ہماری اور دنیا کی تو جہ ہٹا نے کیلئے بلو چستا ن میں کل بھو شن جیسے دہشت گر دو ں کے معا و ن کو استعمال کر رہا ہے ۔ ہم نے کل بو شن کو ر نگے ہا تھو ں گر فتا ر کیا ۔ جس نے تما م کہا نی اور دہشت گر دی کی ہر ممکن معا ونت کو ٹی وی پر اگل دیا ۔ مگر ہمارے بڑ ے کل بھو شن جیسے دہشت گر د وں کے سر برا ہ کا ذکر اقوام متحدہ میں بھی نہ کر سکے ! گویا ہر گلی اور ہر شہر میں لا شیں دہشت گر د پہنچا رہے ہیں! اور ہم آ ج بھی دشمن بھا ر ت سے تجا ر ت دو ستی کر نے کیلئے منصو بے بنا رہے ہیں ۔ یہ ہما رے حکمر انو ں کا دو ہرا معیا ر ہے ۔ کشمیر یو ں کو جب تک اقوام متحد ہ کی قرا ر دادو ں کے مطا بق فیصلے کا مو قع نہیں دیا جا تا ۔ ہمیں اور مسلم مما لک کو انڈ یا سے تعلقات منقطع رکھنے چاہیں ۔ ور نہ ہند و ستا ن کشمیر کی آ زادی کی جنگ کر نے وا لو ں کے خلا ف کا رو ائی کر تے ہو ئے ہما رے حصے کا غم کبھی سا نحہ پشا ور اور کبھی سا نحہ کو ئٹہ کی صو رت دتیا رہے گا ۔
واقعہ۔۔۔۔۔شوق موسوی
ابھی یہ واقعہ تفتیش میں ہے
ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا
یہ ظاہر ہے کہ کچھ عرصہ لگے گا
پھر اس کے بعد ، بعد از وقت ہو گا

نظر رکھنے والے افسران اور اتھارٹی کہاں تھی کیڈٹ جب تربیت مکمل کر چکے تھے تو انہیں کس نے اور کیوں دو با رہ یہاں بلو ایا تھا تین دہشتگر دوں کیساتھ ساتھ ان تمام سے پوچھ گچھ اور ان کو سزا جزا بڑے سخت ہاتھوں سے ہو نا ضروری ہے اور ساتھ یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ ماضی کی جنگوں کے بر عکس اب جنگ کے انداز بدل چکے ہیں بھارت ہو یا کوئی اور سب کو معلوم ہے کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے اس لیے اب جنگوں کا انداز تبدیل ہو کر پو لیس ٹریننگ کالج جیسا ہو چکا ہے کہ محدود تباہی پھیلا کر مخالف کوہراساں و پریشان رکھا جائے اور یہ تحقیقات کر تے ہوئے بھارتی وزیراعظم اور وزیر دفاع کے بیانات اور کلبھوشن کے اعترافی بیان کی رو شنی میں اس سانحہ میں کچھ اس قسم کی تحقیقا ت ہونی چا ہیے کہ ظاہری دشمنوں کیساتھ ساتھ با طنی دشمن بھی بے نقاب ہوں اگر ایسا نہیں ہوا تو ہمیں پھر کسی سانحے کے لیے تیار رہنا ہو گا جو کہ ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہو گا ۔