- الإعلانات -

سیاسی بحران کا حل عدلیہ ہی نکالے گی

سیاسی اُفق پر منڈلاتے طوفانی بادل رفتہ رفتہ چھٹنے لگے ہیں جس سے عوام الناس نے سکھ کا سانس لیا ہے ایک طرف تحریک انصاف حکومت کے خلاف پانامہ لیکس پر مورچہ زن ہے تو دوسری وفاقی وزراء جلتی پر تیل چھڑکنے میں کوئی ثانی نہیں رکھتے ان حالات میں سیاسی خلیج اپنی جگہ جوں کی توں برقرار ہے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں عمران خان نے لاک ڈاؤن کو یوم تشکر میں بدل دیااور گزشتہ روز پریڈ گراؤنڈ میں عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نواز شریف اپنے خلاف سپریم کورٹ میں کیس چلنے پر استعفیٰ دیں ججز نے کہہ دیا پانامہ لیکس بارے جلد فیصلہ کریں گے ۔ یہ استعفیٰ نہ بھی دیں تو سینٹر کی وکٹ اُڑتی ہوئی نظر آرہی ہے نومبر میں چھٹکارا مل جائے گا دس ہزار لوگ ملک کا خون چوس رہے ہیں۔ کرپٹ حکمرانوں کو دفنانے آئے ہیں ۔ سپریم کورٹ ملک کو بحران سے نجات دلائے گی۔ دوسری طرف وزیراعظم محمد نواز شریف وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ الزام لگانے والے شرمندہ ہونگے ۔2014ء کمیشن کے فیصلوں کے بعد بھی ان کو شرمندہ ہونا پڑا تھا۔ وفاقی وزراء کہہ رہے ہیں کہ یوم تشکر کے نام پر سرکس کا انعقاد کیا گیا ۔ پی ٹی آئی کا لاک ڈاؤن شو فلاپ ہوگیا درج بالا بیانات کے تناظر میں دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سیاستدانوں نے ماضی سے سبق حاصل نہیں کیا ۔ سیاست میں رواداری ، تدبر اور برداشت کا ہونا لازم ہے ۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ حکومت اور سیاسی جماعتیں آپس میں الجھ رہی ہیں اور ایک دوسرے پر الزام در الزام کا ایک لامتناہی سلسلہ چل پڑا ہے جو جمہوریت کیلئے کبھی بھی نیک شگون قرار نہیں پاسکتا۔ پانامہ لیکس پر جو شور وغوغا اٹھ رہا ہے اس کا حل پارلیمنٹ کے ذریعے نہ نکلنا لمحہ فکریہ ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کا متفقہ ٹی او آرز پر اتفاق رائے پیدا نہ کرنا اس امر کا عکاس ہے کہ سیاسی بصیرت کا فقدان ہے ۔ حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے اور ان کے تحفظات دور کرتی ہے لیکن تعجب ہے کہ ایسا نہ کیا گیا عمران خان اور دیگر سیاسی جماعتیں وزیراعظم کے احتساب کا تقاضا کرتی رہیں اور بات لاک اپ تک آپہنچی اور اب خدا کا لاکھ شکر ہے کہ عدالت عظمیٰ نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے جو پی ٹی آئی اور حکومت کیلئے قابل قبول قرار پایا اور سیاسی دھول اور گردوغبار سے عوام محفوظ ہوگئے ۔ حکومت اور سیاسی جماعتیں برداشت کے جمہوری کلچر کو فروغ دے کر ہی ملک کو ترقی و خوشحالی کے راستے پر ڈال سکتی ہیں ۔ پانامہ لیکس کا کیس سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے اب ایک دوسرے پر الزام تراشی اور پروپیگنڈے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔ وقت کا انتظار کریں پوری قوم کی نظریں عدلیہ پر لگی ہوئی ہیں اور عوام یہ امید رکھے ہوئے ہیں کہ عدالت کی طرف سے ایک مستحسن فیصلہ آئے گا جو ملک و قوم کی امنگوں کا ترجمان ہوگا ۔ ملک کوموجودہ بحران سے سپریم کورٹ ہی نکال سکتی ہے ۔ پارلیمنٹ سے یہ مسئلہ حل نہ ہوا سیاسی ناخداؤں کی ناکامی کے بعد عدلیہ سے رجوع کرنا درست فیصلہ ہے۔ اس وقت ملک کو کئی بحرانوں اور چیلنجز کا سامنا ہے ایک طرف دہشت گردی ہے تو دوسری طرف بھارتی جارحیت اور سرحدی کشیدگی دشمن پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے دہشت گردی کروا رہا ہے اور عدم استحکام پیدا کرکے دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانے کی کوشش کررہا ہے ان حالات پر سیاستدانوں کا آپس میں لڑنا اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے گالم گلوچ کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے حکومتی وزراء اور پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا انتظار کریں اور قانونی جنگ لڑیں ، احتجاجی سیاست اور محاذ آرائی ملک و قوم کیلئے نقصان دہ ہوگی ۔ حکومت بھی ہوش کے ناخن لے اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے اس وقت سماجی نا انصافی ہے ، بیروزگاری اور مہنگائی ہے۔ تعلیم و صحت کی سہولتوں کا فقدان ہے اور لوگ عدم تحفظ سے دوچار ہیں۔بجلی اور توانائی کابحران اپنی جگہ جوں کا توں ہے جس سے عوام متاثر ہورہے ہیں۔ ہماری رائے یہ ہے کہ حکومت اپوزیشن اور سیاسی جماعتیں سیاسی تدبر کا عملی مظاہرہ کریں اورملکی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کیلئے مل جل کر کام کریں ۔ سیاسی استحکام پیدا کریں تاکہ یہ مسائل زدہ اور مصائب زدہ عوام اپنی پریشانیوں سے نجات پاسکیں۔ سیاسی استحکام کے بغیر ملک ترقی کے راستے پر گامز ن نہیں ہوسکتا۔
ٹرین کا المناک حادثہ
کراچی لانڈھی جمعہ گوٹھ کے قریب ٹرین کے المناک حادثے میں 18 مسافر جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے ۔ اس حادثے کا پیش خیمہ غلط سگنل قرار پایا جس کی وجہ سے زکریا ایکسپریس اور فرید ایکسپریس ایک ہی پٹڑی پر آگئیں اور تصادم کے نتیجہ میں کئی ہنستی بستی زندگیوں کا چراغ گل ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ٹرین کا یہ حادثہ ڈیوٹی میں کوتاہی برتنے کے نتیجہ میں رونما ہوا ۔ ٹرین کا سفر آرام دہ ہوا کرتا ہے اور اسے وسیلہ ظفر کہا جاتا ہے لیکن اب ریل کا سفر بھی غیر محفوظ ہوتا جارہا ہے اور بڑھتے حادثات عوام کیلئے پریشان کن بنتے جارہے ہیں ۔ ریلوے حکام اس حادثے کی فوری تحقیقات کراکے غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ایک طرف ریلوے حادثات میں اضافہ ہورہا ہے تو دوسری طرف ریل کی بحالی کے دعوے کیے جارہے ہیں لیکن ان دعوؤں کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔ ریل کی بحالی عوام کی خوشحالی ہے لیکن بند ٹرینوں کی بحالی ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ وزیراعظم کوہاٹ جلسے میں راولپنڈی تا کوہاٹ چلنے والی ریل کار کی بحالی کا اعلان کرچکے ہیں اس طرح میانوالی ایکسپریس اور بلال ایکسپریس کی بحالی بھی وقت کی ضرورت ہے ، برانچ لائن پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے ۔ ٹرین حادثے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے اور حادثے کے شکار افراد کے لواحقین کو فوری مالی امداد دی جائے اور پسماندگان کی ڈھارس بندھوانے کیلئے یہ امداد کوئی اہمیت نہیں رکھتی لیکن دکھ کی اس گھڑی میں پسماندگان کیلئے مالی امداد ضروری ہے۔ خداوند کریم حادثے میں جاں بحق افراد کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبروجمیل عطا فرمائے ۔
خبر ایشوپر ایکشن ضروری ہے
پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی سے پروگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز رشید کوقربانی کا بکرا بنایا گیا ۔ ڈان لیکس کے معاملے کو حکومت لٹکانا چاہتی ہے خبر جس نے دی وہ خبر رکوانے والے سے زیادہ طاقتور ہے یہ طے ہے کہ خبر لیک نہیں ہوئی فیڈ کی گئی ہے۔ متنازعہ خبر منصوبے کے تحت فیڈ کی گئی ۔ انکوائری اس وجہ سے نہیں ہورہی کہ خبر دینے والا زیادہ طاقتور ہے اور یہ خبر حکومت کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی ۔ خبر ایشو پر ایکشن نہ ہوا تو حالات خراب ہوسکتے ہیں۔ اعتزاز احسن نے بے کم وکاست فرمایا قومی سلامتی اس ایشو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ڈان خبر کی لیکس کا معاملہ حل کرنے کی ضرورت ہے جو بھی اس میں ملوث قرار پائے اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ اس قسم کا واقعہ رونما نہ ہو۔ پاک فوج کی قربانیاں لازوال ہیں جن کو قوم فخر سے دیکھتی ہے ڈان لیکس کی انکوائری کو جلد ازجلد مکمل کرکے ملوث عناصر کیخلاف تادیبی کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں قومی سلامتی کے معاملے کو نظر انداز نہ کیا جائے۔