- الإعلانات -

لاک ڈاؤن /کریک ڈاؤن /یوم تشکریا پھر۔؟

میری ٹیلی ویژ ن سکرین سے نظر نہیں ہٹ رہی شاید آپ کی بھی یہ ہی کیفیت ہو ویسے تو یہ کھچڑی کافی دنوں بلکہ ہفتوں مہینوں سے پک رہی تھی لیکن مجھے لگتا تھا کہ یہ معاملہ انتہا تک نہیں پہنچے گا اور کوئی سیاسی جماعت یا پھر کوئی اور مداخلت کر کے دونوں کو کسی معاہدے ، فیصلے یا تصفیے تک لے آئے گا لیکن خلاف توقع ایسا نہیں ہوا اور جب ایسا نہیں ہوا تو نون اور جنون آمنے سامنے آ گئے نون کے پاس حکومتی طاقت بھی ہے اور اختیار اور اقتدار بھی ہے جبکہ جنون کے پاس کھلاڑی ہیں اور ایک صوبے کی حد تک اختیار اور اقتدار بھی ہے دونوں اپنی اپنی جگہوں پر ڈٹے ہوئے ہیں دوست کہتے ہیں کہ ایک وزیراعلیٰ کابینہ سمیت دوسرے وزیراعلیٰ کے سامنے آ گیا ہے اور بعض کاخیال ہے کہ وفا ق اور صوبہ آمنے سامنے ہے اور ان سب سے ہٹ کر اسے کچھ بھی کہہ لیں لیکن دیکھا جائے تو جو کچھ بھی ہو رہا ہے ملک و قوم کیلئے کسی صورت بھی اچھا نہیں ہو رہا جنون پانامہ لیکس کے معاملے پر تلاشی یا استعفیٰ پر اڑی ہوئی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ آئس لینڈ سے لیکر انگلینڈ تک اور دنیا کے ان تمام ممالک سے لیکر ہر سطح پر اس سکینڈل میں آنے والوں نے استعفیٰ دیا ہے یا پھر وضاحت پیش کی ہے تو پھر ہمارے ہاں ایسا کیوں نہیں ہو رہا وزیر اعظم اس معاملے پر بڑے وثوق سے کہتے ہیں کہ میرا نام تو ا س معاملے میں ہے نہیں بچوں کا نام ہے تو وہ بالغ ہیں اور دونوں فریق اس پر ڈٹے ہوئے ہیں جنون نے پہلے اسلام آباد لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کیا بڑے بلند و بانگ دعوے بھی کیے کہ سب کچھ جام کر دیں گے لیکن بنی گالہ پہنچ کر ان کے مشیروں اور دوستوں نے جو کچھ سمجھایا اور معروضی حالات نے جو کچھ بتایا انہیں دیکھ کر وہ کچھ نرم ہوئے تھے اور یہی موقع تھا کہ اسٹیبلشمنٹ یا عدلیہ یا کوئی سیاسی لیڈر یا سیاسی جماعت درمیان میں آتی جیسا کہ ماضی میں اس کی مثال بھی موجود ہے لیکن ایسا نہیں ہوا اور دو نومبر کی پیش بندی کے طور پر دو نومبر سے پہلے ہی حکومت نے صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی تمام اہم سڑکیں اور موٹر ویز کو کچھ اس طرح سے بند کر دیا کہ کانوائے کے ساتھ نوشہرہ جاتے ہوئے کنٹینرز دیکھ کر شام کے اندھیرے میں راستہ تلاش کرتے ایک خوبصورت لیفٹینینٹ کرنل شاہد شہید اور میجر جلال شدید زخمی ہوئے جبکہ دو تین واقعات میں عزیزوں کی نعشیں لے جانے والوں سے لے کر زخمیوں اور بیماروں تک اور ضروری کاموں سے جانے والوں سے لیکر سبزی فروٹ کے بیوپاریوں تک ہر کسی کو سخت تکلیف کا سامناکرنا پڑا جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کے قافلے کو موٹر وے پر دس گھنٹوں تک جس مذاہمت کا سامنا کرنا پڑا اور جس بیدردی کے ساتھ ان پر آنسو گیس ربڑ کی گولیاں اور لاٹھی چارج ہوا کہ جس میں دو کارکن شہید ہوئے اور پھر جو کچھ بنی گالا کے راستوں اور اسلام آباد کی سڑکوں پر عورتوں اور مردوں کے ساتھ ہوا یہ بھی ہماری سیاسی تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب ہو گا جو شاید ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور اب جبکہ میں یہ لکھ رہا ہوں تو ایک خبر چل رہی ہے کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر کمیشن بنانے اور معاملہ کو جلد از جلد حل کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر کسی ترقی یافتہ ملک میں یوں سرکاری فورسز سے ایسے تشدد کی کوئی چھوٹی سی مثال بھی سامنے آتی تو رات ہونے سے پہلے پتہ نہیں کیا کچھ ہو چکا ہوتا عام شہری اپنے گھر کی سڑک بند ہونے کے مقدمہ سے لے کر آنسو گیس کے زہریلے دھوئیں تک کو وجہ مقدمہ بنا کر انفرادی طور پر عدالتوں سے رجوع کرتے راستوں کی بندش شہری آزادیوں میں رکاوٹ یرغمالی کفیت تشدد اور آنسو گیس کے زہریلے دھویں کے اثرات پر حکومت اور حکومتی اداروں کے خلاف ریلف مانگتے تو صرف ٹی وی فوٹیج اپنے دعووں کے ساتھ بطور ثبوت لگا دیتے اور عدالتیں ان فوٹیج کی روشنی میں حرجانے کے دعوے ڈگری کرنے لگتیں تو شہریوں کو حرجانے دیتے دیتے مضبوط سے مضبوط حکومت بھی معاشی طور پر دیوالیہ ہو جاتی اور اگر انسانی حقوق کی تنظیمیں شہریوں پر اس وحشیانہ تشدد کے خلاف آواز بلند کرتیں تو رات ہونے سے پہلے پہلے بھاری سے بھاری مینڈیٹ تنکے کی طرح اڑ کر یوں غائب ہوتا کہ پھر کبھی اقتدار اس کے نصیب میں نہ آتا لیکن کیا کریں کہ ہم ترقی جمہوریت مضبوط میعشت اخلاقیات فراخ دلی اور عظیم سیاسی روایات کے دعوٰے تو بہت کرتے ہیں لیکن جب اپنے دامن میں ہاتھ ڈلنے لگے تو ہم جمہوریت سے امریت یا پھر بادشاہت کی طرف بھی بڑی جلدی لوٹ جاتے ہیں شاید اسی لیے اوران جیسے حالا ت کو دیکھ کر سپریم کورٹ کو بھی ابزرویشن دینا پڑ جاتی ہے کہ عوام کو ووٹ دیتے وقت دیکھنا چاہیے کہ وہ کسے منتحب کررہے ہیں۔حالات بہتری کی طرف جانے تو لگے ہیں لیکن حساب لگانا پڑے گاکہ کتنے ملین روپے کی آنسو گیس ربڑ کی گولیاں لاٹھیاں اور دیگر سامان عوام کی رقم اور عوامی خزانے سے عوام پر استعمال ہوامیرے خیال میں اتنا ہی کافی میرا اخبار پہلے ہی مجھے ہتھ ہولارکھنے اور زیادہ شورش کاشمیری بننے