- الإعلانات -

سانحہ بھوپال اور زمینی حقائق ۔ ۔ ۔ !

بھارتی حکمرانوں نے ہندوستانی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف مکروہ عزائم پر مبنی جو سلسلہ عرصہ دراز سے شروع کر رکھا ہے وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں مگر بد قسمتی سے بھارت نے خود پر مصنوعی سیکولر ازم کا جو خول چڑھا رکھا ہے اس نے بظاہر حقائق کو پوشیدہ کیا ہوا ہے ۔ حالانکہ سبھی سنجیدہ اور انسان دوست حلقے اس بات کو اچھی طرح جانتے بھی ہیں اور مانتے بھی کہ بھارت کی مسلم اقلیت اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیاں جاری ہیں اور یہ سلسلہ ہے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ۔ اسی پس منظر میں غیر جانبدار مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ بھارت کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں بھوپال جیل سے مبینہ طور فرار ہونے والے سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا کے آٹھ کارکنوں کی پولیس مقابلے میں ہلاکت پربجا طور پر سیدھے سوال اُٹھائے جا رہے ہیں ۔مقتول افراد کے وکیل نے اس مبینہ پولیس مقابلے کی تحقیقات سی بی آئی سے کروانے اور اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کی بات کہی ہے۔یاد رہے کہ بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ آٹھوں شدت پسند ایک تصادم میں مارے گئے لیکن کانگرس سمیت تمام بھارتی حزب اختلاف نے مدھیہ پردیش حکومت اور پولیس کے دعووں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔مدھیہ پردیش میں کانگریس کے صدر ارون یادو نے کہا ہے کہ آٹھوں لوگوں کا دیوالی کی رات فرار ہونا اور پھر بھوپال کے پاس ہی آٹھ نو گھنٹے تک چھپا رہنا مشتبہ ہے۔ واضح رہے کہ بھوپال کا سینٹرل جیل بھارتی کے سب سے محفوظ جیلوں میں سے ایک ہے۔ پولیس کے مطابق پیر کی صبح دو سے ڈھائی بجے کے درمیان آٹھ قیدی بھاگ گئے اور ان کا تعلق کالعدم تنظیم سیمی سے تھا۔آٹھ گھنٹے بعد پیر 11 بجے خبر آئی کہ پولیس نے سبھی کو مار دیا ہے۔پھربھارتی ٹی وی چینلز پر اس واقعہ کا مبینہ موبائل فوٹیج دکھایا گیا جس میں کچھ لوگ زمین پڑے دیکھے جا سکتے ہیں تاہم اس فوٹیج کی صداقت پر بجا طور پر سنجیدہ حلقوں نے شبہ ظاہر کیا ہے ۔ ویڈیو میں دیکھے جانے والے مناظر میں ایک سکیورٹی اہلکار بظاہر گولی چلاتا ہے۔مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور کے مرکزی جنرل سیکرٹری ڈگ وجے سنگھ نے کہا ہے کہ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ کیا یہ لوگ ‘سرکاری جیل سے بھاگے یا پھر کسی منصوبہ بندی کے تحت انھیں مار دیا گیا ۔ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ بھوپندر سنگھ نے اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے گریز کیا ہے۔ وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے اپنا بھانڈا پھوٹنے کے بعد جیل کے کئی سینئر افسران کو معطل کیے جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ بہت سارے بھارتی سیاستدان اس تصادم پر سوال اٹھا رہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ یہ بھارت کی ملکی سلامتی کا معاملہ ہے اور اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔جب غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے ان سے پوچھا کہ ابھی تو ان کا معاملہ عدالت میں تھا اور ان کا جرم ثابت نہیں ہوا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ جیل توڑ کر پہلے بھی بھاگے تھے۔ مجلس اتحاد المسلمین ( ایم ایم آئی ) کے سربراہ اور بھارتی لوک سبھا کے رکن ’’ اسد الدین اویسی ‘‘ نے دہلی سرکار کو اس سارے معاملے میں قصور وار ٹھہرایا ہے ۔ واضح رہے کہ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ 2001 میں بھارت نے تنظیم ’’ سیمی ‘‘ کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور تب سے لے کر اب تک سو سے زائد بھارتی مسلمان مختلف مواقع پر ہلاک کیے جا چکے ہیں اور دہلی کی اس دہشتگردی تا حال جاری ہے ۔ ہیومن رائٹس آف انڈیا نے اس حوالے سے بھارتی پولیس کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیق کا مطالبہ کیا ہے ۔
****