- الإعلانات -

ڈان لیکس ، کمیٹی تشکیل دینے کا حکومتی اعلان

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے منافی خبر کی انکوائری حکومت کی اعلان شدہ پالیسی کے تحت ایک کمیٹی کرے گی ۔ پارلیمنٹ نہیں تحقیقات پرویز رشید کے خلاف نہیں بلکہ ایک حساس اور جھوٹی خبر کے افشاء ہونے کے بارے میں کی جارہی ہے اس کی سربراہی ہائیکورٹ کے ایک سابق جج کریں گے ۔کمیٹی کے ممبران سینئر افسران اور ایسے لوگ ہونگے جن پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے ۔ چوہدری نثار کا یہ بھی کہنا ہے کہ کمیٹی کے ناموں پر مشاورت ہوچکی ہیں جو وزیراعظم کو پیش کردئیے گئے ہیں۔ حکومت معاملے کی ایک شفاف غیر جانبدارانہ انکوائری چاہتی ہے تاکہ حقائق قوم کے سامنے آئیں انتہائی اہم اورحساس ایشو پر سیاست کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوسکے۔ وزیر داخلہ نے بجا فرمایا یہ حساس ایشو ہے اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے لیکن سوال یہ ہے کہ ایک ماہ ہونے کو ہے سیکورٹی لیکس کی تحقیقات نہ ہونے پر سیاسی حلقوں میں یہ معاملہ زیر بحث آنے لگا اب حکومت نے ڈان لیکس کی تحقیقات کیلئے کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کرکے اپنا وعدہ ایفا کردیا لیکن یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو اپنی حساسیت کے باعث نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ قومی سلامتی سے متعلق اس طرح کا ایشو حکومت کیلئے ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے ۔ اس معاملہ پر نہ تو مٹی ڈالی جاسکتی ہے اور نہ ہی اس سے پہلو تہی کی جاسکتی ہے اس معاملہ کی تحقیقات جلد ازجلد کرکے قوم کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے عناصر کو منظر عام پر لاکر ہی انصاف کے تقاضے پورے کیے جاسکتے ہیں ڈان لیکس پر حکومت اپنا دامن اس طرح ہی چھڑا سکتی ہے کہ وہ صاف و شفاف تحقیقات کرائے اورذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے اس وقت ایک طرف پانامہ لیکس اور دوسری طرف ڈان لیکس کا معاملہ حکومت کیلئے درد سر بنا ہوا ہے ان معاملات سے نمٹنے کیلئے حکومت کو اپنی ذمہ داری کو انتہائی فرض شناسی سے پورا کرنا چاہیے اس وقت ملک کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے ایک طرف دہشت گردی ہے تو دوسری طرف سرحدی کشیدگی کا معاملہ سر اٹھائے ہوئے ہے ان حالات میں سیاسی عدم استحکام کا متحمل وطن عزیز نہیں ہوسکتا ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاسی بصیرت تدبر اور برداشت کے جمہوری کلچر کو اپنائے اور سیاسی جماعتوں کے تحفظات کو دور کرے ۔ جمہوریت میں حکمران عوام کے سامنے جوابدہ ہوا کرتے ہیں ۔ ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کیلئے ضروری ہے کہ حکومت سیاست میں رواداری کو فروغ دے اور تمام ایشوز پر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر چلے ۔ یہ ملک کی خوش قسمتی ہے کہ اس کوبے باک عسکری قیادت اور بہادر افواج ملی ہے جو کسی بھی جارحیت اور سازش کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ یہ پاک فوج کا طرہ امتیاز ہے کہ اس نے دہشت گردی پر قابو پالیا ہے اور اس وقت جاری آپریشن ضرب عضب اپنے اہداف کو پورا کرتے دکھائی دے رہا ہے ۔ پاک فوج نہ صرف دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی ہے بلکہ سرحدوں پر بھی اس کی کڑی نگاہ ہے ۔ بھارت پاکستان میں عدم استحکام اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن مکار دشمن کی دہشت گردانہ کارروائیاں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکیں گی ۔ ڈان لیکس پر کمیٹی کا قیام ایک مستحسن اقدام ہے اس حساس معاملے کی فوری تحقیقات کرکے ملوث عناصر کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ اس طرح کا ایشو پھر دیکھنے اورسننے میں نہ آسکے۔
چارٹرڈ فرم فرگوسن کی رپورٹ
سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ لیکس کے حوالے سے دائر درخواستوں کے معاملے پر پاکستانی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرگوسن سے طلب کی گئی رائے سامنے آگئی ہے ، یہ سابق اٹارنی جنرل اور وزیراعظم کے اس کیس میں وکیل سلمان اسلم بٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائینگے۔رپورٹ کے حوالے سے حاصل دستاویز میں شریف گروپ آف کمپنیز کے منیجر اکاؤنٹس و ٹیکس افیئرز سید اجمل سبطین کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا کہ یکم اکتوبر 2016کو آپ کی جانب سے وزیراعظم محمد نوازشریف کی جانب سے ٹیکس2011کے ویلتھ سٹیٹمنٹ میں اپنے اثاثوں کا جو ذکر کیا تھا اس حوالے سے رائے مانگی گئی ، ہماری معلومات کے مطابق ٹیکس سال 2011میں ٹیکس دہندہ نوازشریف نے اپنی بیٹی مریم صفدر کے نام سے اثاثہ خریدا ، وہ ایک بالغ ہے اور خود ٹیکس فائلر ہے ، اپنی ویلتھ سٹیٹمنٹ میں ٹیکس سال 2011میں ٹیکس دہندہ نوازشریف نے اثاثہ ظاہر کیا جو ان کی بیٹی کے نام پر خریدا گیا تھا۔ یہ ویلتھ سٹیٹمنٹ کے متعلقہ فارم کے سیریل نمبر12میں درج ہے۔ اسکالم کا عنوان ہے ’’اثاثے‘‘ اگر کوئی شریک حیات ، چھوٹے بچے یا دوسرے انحصار کرنے والوں کے حوالے سے ہے ، یہ اثاثہ بیٹی کے حوالے سے سال 2011کی ویلتھ سٹیٹمنٹ کے فارم کا حصہ نہیں جبکہ ہمارے پاس دستیاب معلومات کے مطابق ٹیکس سال 2012 میں ٹیکس دہندہ کی بیٹی نے اس متعلقہ اثاثے کی بینک ذرائع سے ٹیکس دہندہ کو منتقل کی۔ نتیجتاً ٹیکس دہندہ کی ویلتھ سٹیٹمنٹ سے اثاثے کو مٹا دیا گیااور بیٹی کی ویلتھ سٹیٹمنٹ اس کے اپنے اثاثے کے طور پر شامل کی گئی۔مندرجہ بالا حقائق اور کیس کی صورتحال ، آرڈیننس کی پروویڑنز اور ہمارے نقطہ نظر کے مطابق ٹیکس دہندہ اور اس کی صاحبزادی جیسا کہ ویلتھ سٹیٹمنٹ میں قراردیا گیا یہ ٹیکس سال 2011-12کے مطابق درست ہیں اور اس سے آرڈیننس کی اس حوالے سے نافذ پروویڑن کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ہمیں اس بات پر اعتماد ہے کہ یہ رپورٹ آپ کے مقاصد پر پوری اترے گی ، اگر مزید بھی ضرورت پڑی تو اے ایف فارگوسن اینڈ کمپنی مکمل تعاون کرے گی۔ ہماری رائے ، حقائق، اور ماخوذات پر مبنی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ہماری رائے آج تک کے قانون کے مطابق ہے کیونکہ قوانین دن بدن تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور کوئی بھی تبدیلی اس رائے کو متاثر کر سکتی ہے۔ مزید کہا گیا کہ ایڈوائس ، قانون کی تشریح اور ٹیکس حکام کے ساتھ ہمارے تجربات پر مبنی ہیں ، یہ ضروری نہیں کہ ٹیکس حکام اوپر دی گئی رائے کو تسلیم کریں۔رپورٹ کے نتائج میں کہا گیا کہ بیٹی (مریم نواز) پلاٹ کی خریداری کے وقت خود بھی ٹیکس فائلر تھیں اور انہوں نے بینک ذرائع سے رقم ادا کرکے پلاٹ اپنے نام کرایا، انہوں نے ٹیکس سال 2012۔13کے گوشواروں میں اپنا نام ظاہر کیا۔ گوشواروں کے فارم پر تبدیلی 2015میں ایف بی آر نے کی۔ فرگوسن کے مطابق ٹیکس دہندہ ( وزیراعظم نوازشریف ) اور بیٹی( مریم نوازشریف) کے ٹیکس گوشواروں میں کوئی تضاد نہیں وہ قانون کے مطابق ہیں۔ 2011میں مریم کا نام پلاٹ گوشواروں کے درست کالم میں درج کیا گیا۔ٹیکس گوشواروں میں مریم کا نام زیر کفالت افراد میں شامل نہیں تھا، خود کفیل اولاد کا کالم نہ ہونے پر مریم کا نام کالم نمبر12میں لکھنا پڑا۔ یہ رائے سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کے حوالے سے دائر درخواستوں کے معاملے پر شریف خاندان کی طرف سے پاکستانی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم فرگوسن اینڈ کو سے طلب کی تھی جو آجسپریم کورٹ میں سابق اٹارنی جنرل اور اس کیس میں وزیراعظم کے وکیل سلمان اسلم بٹ کی جانب سے جمع کرائی جائے گی۔ فرگوسن کی رپورٹ پر کوئی رائے دینا قبل از وقت ہوگا یہ کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت