- الإعلانات -

امریکہ حقوق انسانی اور معصوم مقتول

امریکی حملے میں افغانستان کے معصوم بچوں کے ننھے وجود ٹکڑوں کی سورت بکھر گئے۔
سوشل میڈیا سے ان کی تصاویر دیکھیں تو دل دہل گیا۔
ملالہ یوسف زئی یاد آگئی۔
خیال آیا اس ایک بیٹی کیلئے غیر معمولی درد دل کا مظاہرہ کرنے والا امریکہ بچوں کو کیسے نشانہ بنا سکتا ہے۔
اس نفسیاتی گرہ کو کھولنے کے لیے میں نے امریکی پالیسیوں مطالعہ شروع کیا تو حیرتوں کا ایک جہاں آباد ہو گیا۔یقین نہ آیا کہ امریکہ نے ابھی تک’’کنونشن آن دی رائٹس آف چائلڈ‘‘یعنی بچوں کے حقوق کے کنونشن کی توثیق نہیں کی۔دلچسپ بات یہ کہ اس کنونشن کے سات آرٹیکلز خود امریکہ نے لکھے تھے جن میں سے تین براہِ راست امریکی آئین میں سے لیے گئے اور خود صدر ریگن نے تجویز کیے تھے۔( بحوالہ،نینسی ۔ای۔واکر، کیتھرین بروکس، لارنس ایس رائٹسمین، Children Rights in the United States: In Search of National Policy ، (ایس اے جی ای) 199، صفحہ 40 1-)
افغانستان کو اس نے امن کے نام پر برباد کردیا ۔ یہی نہیں بلکہ آدمی حیرت اور صدمے سے دوچار ہوجاتا ہے جب وہ یہ خبر سنتا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجی مرنے والے معصوم شہریوں کے اعضاء کاٹ کر’’یادگار‘‘کے طور پر محفوظ کر لیتے ہیں اور فخر سے دوستوں کو دکھاتے ہیں ۔
جرمن روزنامے ’’درسپیگل(Der Speigal)اور امریکی میگزین’’رولنگ سٹون‘‘ (Rolling Stone)نے ایسی تصاویر بھی شائع کیں جن میں امریکی فوجی مقتول افغانوں کی لاشوں کے پاس فاتح کے طور پر کھڑے ہیں جن کے سر کاٹے جاچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان سروں کی یہ فوجی ٹرافیاں بناتے ہیں ۔جیسے شکاری کبھی ہرن شکار کرکے ٹرافیاں بناتے تھے۔
(بحواالہ، ایشین ٹریبون، یشین ٹریبون، US War Crimes In Afhanistan: Severed Human Heads Brandished25 اپریل 2011ء )
ایشین ٹریبیون(Asian Tribune)کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں تعینات’’ففتھ سٹرائیکربرگیڈ‘‘کے ’’تھرڈ پلاٹون‘‘کی’’براوو کمپنی‘‘کے ایک فوجی کارپورل جرمی مارلوک (Jermy Marlock)نے ایک پندرہ سالہ نہتے افغان لڑکے گل مدین کو قتل کرنے کے بعد اس کی انگلی یاد گار کے طور پر اپنے پاس محفوظ کرلی( بحوالہ ،ایشین ٹریبیون،25 اپریل2011)
جنگی جنون جتنا بھی بڑھ جائے ، یہ وہ جرم ہے جس کا کوئی انسان تصور تک نہیں کر سکتا لیکن امریکہ کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے یہ امریکی فوجی پہلی بار اس گھناونے جرم کے مرتکب نہیں ہو رہے بلکہ وہ اس سے قبل جاپانیوں کو بھی اسی ’’حسنِ سلوک ‘‘کا نشانہ بنا چکے ہیں۔
وحشت و بربریت کے ان مظاہر کا تعلق اگر محض امریکی فوج کے نچلی سطح کے اہلکار وں تک محدود ہوتا تب بھی ایک ناقابل برداشت اور شرمناک اقدام تھالیکن ہمیں یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ امریکی کا نگریس کے اراکین تک مرنے والوں کے اعضاء ایک دوسرے کو تحفے میں پیش کرتیرہے۔امریکہ کی’’سدرن الینائس یونیورسٹی(Southern Illinois)‘‘کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر جیمز ۔ جے ۔وینگارٹنر کا کہنا ہے کہ ایک رکن کانگریس نے امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ کو ایک (Letter opener) تحفے میں دیا جو ایک مقتول جاپانی فوجی کے بازو کی ہڈی سے بنایا گیا تھا(بحوالہ، جیمز،جے۔ویگارٹنر، Trophies of War: US Troops and the Mutilation of Japanese war Dead ’’یونیورسٹی کیلیفورنیا پریس جرنل 1992 ‘‘صفحہ 65)
ایک اور رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی جاپانی فوجیوں کے سر کاٹ کر پکاتے اور کھاتے بھی رہے۔ اور یہ رپورٹ بھی کسی دوسرے حریف ملک کی نہیں بلکہ امریکہ کی اپنی یونیورسٹی آف السٹر (University of ULSTER) کے پرفیسر سمن ہارے سنSimon Harrison), )کی ہے (بحوالہ، ہاری سن سمن،Skull Trophies of the Pacific War جرنل آف دی رائل انتھروپولوجیکل انسٹی ٹیوٹ، یونیورسٹی آف السٹر۔ 2008 ، صفحہ 827 )
یہ برائی اتنی عام ہو گئی تھی کہ امریکی شاعر ونفیلڈ ٹاونلے سکاٹ جس اخبار میں ملازمت کرتا تھا اس اخبار کے دفتر میں بھی ایک جاپانی فوجی کے سر کی بنی ہوئی ٹرافی آویزاں کردی گئی۔ سکاٹ نے اس پر ایک نظم بھی لکھی:
The US Soldier with the Japanese Skull( دی یو ایس سولجر ود دی جاپانیز سکل)۔( بحوالہ،ہاری سن سمن،Skull Trophies of the Pacific War جرنل