- الإعلانات -

معاشرہ اور اخلاقی تقاضے

آج کل مسلم لیگ نون کی خواتین و حضرات کی زبان پر ایک جملہ ہمیشہ موجود رہتا ہے کہ عمران خان نے سیاست سے شائستگی اور دھیمے پن سے گفتگو کا رواج ختم کردیا ہے اور آج کل اوئے اوئے کا کلچر ترویج پارہا ہے اسے کہتے ہیں دوسروں کونصیحت خود میاں فصیحت آج ایک لیگی رہنما کی ویڈیو کلپ دیکھی جس میں وہ ایک جلسے سے خطاب فرمارہے ہیں اور موضوع سخن بھی ایک ہی شخص جس کا فوبیا سب کے سروں پر سوار ہے اس جلسہ عام میں جناب اپنے مبارک ہاتھوں سے اس طرح کے اشارے فرمارہے تھے کہ جن دیکھ کر خواتین چھوڑیے حضرات کے دانتوں کو پسینہ آجائے اور جس کلچر کی ترویج موصوف فرمارہے تھے اس کا کوئی سراغ قلعہ لاہور کے آس پاس بھی شاید نہ مل سکے اور ان حضرت کی جانب سے فون پر کسی کو نوازے جانے والی مرصع اور جڑاؤ گفتگو یو ٹیوب پر موجود ہے جس کی گل کاریاں نہایت نایاب ہیں اور عام لوگوں کی گفتگو ان شہ پاروں سے اب تک محروم ہے جو ہمارے ممدوح موصوف کا خاصہ ہیں اور یہ صاحب اس نوع کی گفتگو کی ترویج کیلئے ہمہ وقت کوشاں ہیں۔ سنا ہے کہ موصوف کی وفاداریاں کسی دوسری پارٹی کیلئے وقف تھیں اور یہ ان قائدین کی گاڑی کے آگے مور بن کر ناچا کرتے تھے دروغ بر گردن راوی دوسری جانب ایک پارٹی کا میڈیا سیل جس کے ممبران کی بھاری مراعات بھی ہمارے مال سے جارہی ہیں لوگوں کی پگڑیاں نہ صرف اچھال رہا ہے بلکہ پگڑی کو لیرو لیر کرنے کے اہتمام میں بھی اس سیل کو یدطولیٰ حاصل ہے کہ ان کے اس فن لطیف یا کثیف میں یکتا ہونے کے باعث آخر میں پگڑی کی لیریں گلی گلی رل رہی ہوتی ہیں اور متاثرین انگشت بہ دنداں پریشان کھڑے اپنی بے بسی پر دل ہی دل میں رو رہے ہوتے ہیں اس سیل میں موجود ماہرین فن، لوگوں کی ذاتی زندگی پر حملے، کردار کشی اور deformation پھیلانے میں یکتا اور نایاب لوگ ہیں اس سیل کے ذریعے مختلف شخصیات سیایسی ایسی باتیں منسوب کی جاتی ہیں جن کا حقائق کی دنیا سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اس سیل کی سربراہ بھی ایک خاتون ہیں جو مستقبل کی کسی بڑی قومی ذمہ داری کی امیدوار بھی ہیں الزام لگانے والی اس پارٹی کے لوگ بغیر بریک اور بتی کے اندھا دھند گفتگو فرمانے کے عادی ہیں آنکھیں بند کرکے توپ نما منہ کا دہانہ کھول دیتے ہیں ان میں سے ایک موصوف کو کچھ عرصہ بعد میں سمجھ آتی ہے کہ ترنگ میں کیا کیا کہ گئے کہ ان کا یہ کہنا بر محل تھا یا محض چول، اور بعد میں بیرون ملک جاکر معافی نما وضاحتیں پیش کرتے رہے ہیں ہم نے جو ہے وہ جو ہے ایسا جو ہے نہیں کہا جو ہے ہماری جو ہے گفتگو جو ہے وہ جو ہے غلط جو ہے رپورٹ ہوئی ہے جو ہے انہیں موصوف نے جو پارلیمنٹ کے ممبر بھی ہیں ایک پڑھی لکھی دانشور خاتون ممبر کے بارے میں گھٹیا گفتگو کی جو کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں تھی جس کیلئے بعد میں انہیں معافی مانگنی پڑی ایک دو اور حضرات بھی ہیں انہیں موقع محل کی مناسبت سے لانچ کردیا جاتا ہے ان سے بہت کچھ بلوا کر اپنی بھڑاس نکال کر ان کی وقتی قربانی دے دی جاتی ہے کل کسی چینل پر خاتون اینکر کے سامنے وہی موصوف فلسفہ قربانی پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے اور خاتون اینکر نے بھی ان کے خوب لتے لئے حالانکہ موصوف مشہور و معروف بڑبولے ہیں اور اسی کام کیلئے ان کو بٹھا رکھا ہوتا ہے ویسے پاکستانی سیاست اس نوع کی شیریں گفتگو کی روایت خاصی قدیم ہے سابقہ صوبہ سرحد اور موجودہ خیبر پختونخواہ کے ایک بڑے لیڈر بھی بڑے شیریں دہن واقع ہوئے ہیں مرحوم جلسہ عام میں خان عبدالقیوم خان کا نام لیکر ہاتھوں سے ایسے پروقار اشارے فرماتے کہ عام سامع کا شرم سے سر جھک جاتا موصوف مرحوم کو ڈبل بیرل خان کے نام سے نوازتے ہوئے فرماتے تھے کہ خان عبدالقیوم کے نام میں خان کے آگے خان اور پیچھے بھی خان لگتا ہے اس سے ان کی مراد وہ خود جانتے تھے یا ان کارب خان عبدالقیوم نے ان کے فلسفے کو قبول نہیں کیا ان کے فرزند ارجمند بھی گفتگو فرماتے ہوئے احتیاط کا دامن ذرا کم ہی تھامتے ہیں اور وہ وہ پھلجھڑیاں چھوڑ جاتے ہیں کہ ہفتوں موضوع گفتگو رہتے ہیں ایک اور غیر محتاط شخص جس کو حالات کے جبر نے اسمبلی میں لا بٹھایا ہے پورا خاندان بمع سسرال مقتدر ہے اور عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے متمتع ہورہا ہے اسمبلی میں اس شخص کی گفتگو سے لگتا ہے کہ نریندر مودی نے اسے الیکشن جتوایا ہے اور یہ اسی کی نمائندگی کررہا ہوتا ہے یااس کی گفتگو باور کراتی ہے کہ مملکت پاکستان شاید افغانستان کا کوئی صوبہ ہے اور یہ شخص پاکستان میں وائسرائے ہے اس شخص کے متعلق یہ بات ریکارڈ پر ہے اور نادرا نے باقاعدہ وزارت داخلہ کو خط لکھ رکھا ہے کہ یہ شخص افغانیوں کو ناجائز طور پر پاکستان کی دستاویزات فراہم کرکے انہیں پاکستانی بنا رہا ہے بلکہ اداروں کے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ اس شخص کو ایران اور افغانستان نے پاکستان میں اپنے مقاصد پورے کرنے کیلئے رقوم فراہم کی ہیں یہ بھی بے ربط اور پاکستان کے خلاف گفتگو کرتا ہے اور مقتدر اس کے صدقے واری جاتے ہیں ماضی کے ایک مشہور لیڈر بھی جلسہ عام میں جذبات سے مغلوب ہوکر گالیاں دے دیا کرتے تھے اور پھر ایک لمحے بعد خود ہی آف دی ریکارڈ کہہ کر حذف کروادیا کرتے تھے ۔بہرحال معاشرے شائستگی اور برداشت سے فروغ پاتے ہیں باہمی احترام کئی سلجھی گتھیوں کو سلجھاتا ہے اور ہمارا دین حنیف بھی اعلیٰ اخلاق اور رواداری کی تعلیم دیتا ہے اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمارے اخلاق ،معاملات کام کاج میں برکت دے اور اللہ وطن عزیز اور اس کے باسیوں کی حفاظت فرمائے آمین۔