- الإعلانات -

ڈاکٹرزقوم کے مسیحا

ڈاکٹر کو کسی دور میں قوم کا مسیحا کہا جاتا تھا لیکن آج لوگ ڈاکٹر کو ڈاکو،قصائی، سنگدل، ظالم و دیگرکئی ناموں سے پکارتے ہیں۔ ڈاکٹر واقعی مسیحا ہوتے ہیں کیونکہ عوام کے زخموں پر پہلامرہم ہی یہی ڈاکٹرتو رکھتے ہیں۔ دکھی انسانیت کی خدمت اور اللہ کی مخلوق کے زخموں پر د کھ، درد اور تکلیف میں مرہم رکھنا یقینی طور پر بہت بڑے ثواب کاکام اور بڑی عبادت ہے مگر افسوس کہ آج کے ڈاکٹروں نے اس ثواب پرگناہ اور عبادت پر کاروبار کو ترجیح دے دی ہے۔رہی سہی کسر آج کے ینگ ڈاکٹرز کی غنڈہ گردی نے پوری کردی۔ اسی وجہ سے آج لوگ ڈاکٹروں کو مسیحا ماننے کیلئے تیار نہیں۔تقریبا 10روز قبل میو ہسپتال میں زیرعلاج ایک مریض وقاص امین اور اس کے بھائی وقار امین کے ساتھ ینگ ڈاکٹروں نے علاج نہ کرنے اور مریض پر توجہ نہ دینے کی شکایت پر مریض اور اس کے بھائی کے ساتھ بد سلوکی تلخ کلامی کی۔جب مریض کے بھائی وقار امین نے ڈیوٹی پر موجود ڈی ایم ایس کے کمرے میں جا کرمتعلقہ ڈاکٹروں کے خلاف تحریری شکایت کرنا چاہی تو اس دوران 15،20 ڈاکٹر اوران ساتھی پہنچ گئے اور قار امین کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر لے آئے اور اسے سر عام شدید زدوکوب کیا۔واقعے کی اطلاع پر حکومت نے وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میجر جنرل (ر) پروفیسر محمد اسلم ،پروفیسر (ر) عیس محمد اور سپیشل سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹر ساجد چوہان پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دی جس نے تمام گواہان کے بیانات اور دیگر ثبوتوں کو سامنے رکھتے ہوئے تحقیقات کیں کمیٹی کی انکوائری میں ڈاکٹروں کی جانب سے مریض اور اس کے بھائی پر تشدد ثابت ہو گیا اور وائی ڈی اے میو ہسپتال کے چےئرمین ڈاکٹر شہر یار نیازی اور ڈاکٹر مظہر رفیق کو مریض اور اس کے تیماردار پر تشدد کا الزام ثابت ہونے پر کمیٹی کی سفارشات کی ر وشنی میں محکمہ سیپشلائزڈ ہیلتھ کےئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے ان کی پوسٹ گرایجوایٹ ٹریننگ ایک سال کیلئے معطل کر دی اور میوہسپتال میں ان کی تربیت پر پابندی لگا دی ۔ اس افسوس ناک واقعہ میں ملوث ڈاکٹرز کے علاوہ ایک نرس ،فرائض میں غفلت برتنے پر ڈیٹا اپریٹر اور میوہسپتال پولیس چوکی کے انچارج کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی گئی ۔مزید برآں متعلقہ پروفیسر اور میو ہسپتال کے ایم ایس کو بھی اظہار ناپسندیدگی کے لیٹر جاری کئے گئے ۔مریض اور اس لواحقین پر ینگ ڈاکٹرز کے شدید دباؤ کے پیش نظر مریض کو شیخ زید ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔اگرچہ یہ ایک انفرادی واقعہ تھا اور میں ملوث دونوں ینگ ڈاکٹرز کے علاوہ دیگر سرکاری ملازمین کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے تاہم معطل ہونے والے ڈاکٹر شہر یار نیازی اور اس کے ساتھی خالصاً انتظامی کارروائی کو پوری ڈاکٹرز کمیونٹی کے خلاف ایکشن قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ اس واقعہ کو محکمہ کی جانب سے تمام ینگ ڈاکٹرز کے خلاف انتقامی کارروائی کا رنگ دے کر معطلی سے بچا جا سکے اور اس مسئلے کو ہوا دے کر دیگر ہسپتالوں میں بھی ہڑتال کروائی جا سکے۔ شہریار نیازی گروپ کی جانب سے میو ہسپتال کے آؤٹ ڈور میں ہڑتال کی جا رہی ہے اور اس گروپ کی کوشش ہے کہ دیگر ٹیچنگ ہسپتالوں میں بھی ہڑتال کروانے میں کامیاب ہو ں کہ حکومت ان کے خلاف کئے گئے فیصلے کو واپس لیکر انہیں بحال کرے۔ ڈاکٹروں کی اکثریت نے شہر یار نیازی گروپ کا ساتھ نہیں دیا ہے اورمیو ہسپتال کے علاوہ جناح ہسپتال میں جزوی طور پر آؤٹ ڈور میں علاج و معالجہ کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں ہیں ۔ عوامی حلقوں اور ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کا یہ مطالبہ ہے کہ حکومت مریضوں کے علاج و معالجے میں دلچسپی نہ لینے والے اور لواحقین پر تشدد کرنے والے سنگ دل ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کرے اور اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جائے تاکہ آئے روز لیبر یونین کی طرح ڈاکٹرز ہڑتال اور احتجاج کے نام پر مریضوں کا علاج و معالجہ معطل نہ کریں چند ڈکٹروں اور ملازمین کے خلاف انفرادی واقع پر قانونی کارروائی کو سیاسی رنگ دے کر اداروں کو بلیک میل کرنے کی کوشش