- الإعلانات -

اصل دھرنا۔۔۔۔۔!

اس سے قبل اصلی اور جعلی ڈگری کے بارے سنا تھا ۔ ڈگری کے بارے میں سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم خان رےئسانی کی بات زبان عام ہوئی کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے جعلی ہو یا اصلی لیکن اب توبلاول بھٹو زرداری نے اصل دھرنے کی نوید بھی سنادی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان نے تقر یباً چار ماہ دھرنا دیا تھا لیکن اب بلاول بھٹو ذرداری ہی بتا سکتے ہیں کہ وہ چار مہینے کا دھرنا اصلی تھا یا جعلی۔غالباً اس کے پاس اصلی یا جعلی دھرناماپنے کا پیمانہ موجود ہے۔ سادہ لوح لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی ہے کہ اصلی اور جعلی دھرنے میں کیا فرق ہوتا ہے۔بلاول بھٹو زرداری اس کی وضاحت سادہ اور عام فہم زبان میں کریں تاکہ عام لوگ اس منطق کو سمجھ سکیں۔کیا بلاول بھٹو زرداری پاکستان تحریک انصاف جتنا طویل اصل یا نقل دھرنا دے سکے گا؟ بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ تو بہت بڑا کیا ہے کہ "ہمارے چار مطالبات نہ مانے گئے تو ہم دکھا ئیں گے،اصل دھرنا کیسے ہوتا ہے۔حکومت جانتی ہے کہ ہم شکار کیسے کرتے ہیں۔میں پارٹی میں تبدیلی لے آیا اور ملک میں بھی لاؤں گا۔شیر کا شکار تیر کرے گا، یہ بلے والے کا کام نہیں۔”بلاول بھٹو زرداری کو بھی دھرنا دینا چاہیے کیونکہ دھرنے کے کچھ فائدے بھی ہوتے ہیں جیسے عمران خان نے دھرنے کے بعد شادی کرلی تھی۔بلاول بھٹو زرداری بھی دھرنے کے بعد شادی کرلیں گے لیکن ان کو ساتھ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ دھرنے کی شادی زیادہ عرصہ نہیں چلتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کوبھی تجربہ کرنا چاہیے، شاید اس کا تجربہ کامیاب ہوجائے اور شادی زیادہ عرصہ چلے ۔بلاول بھٹو زرداری کو معلوم ہونا چاہیے کہ دھرنوں سے معاملات حل نہیں ہوتے ہیں۔ دھرنوں سے پارٹی ورکرز کو صعوبتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔جیالوں کو آزمائشوں میں نہ ڈالیں۔بہتر طریقہ یہی ہے کہ ٹیبل ٹاک کے ذریعے معاملات کا حل تلاش کریں۔عمران خان بھی بار بار پارٹی کے ورکرز کو کال دیتے رہے ہیں۔بڑے بڑے اعلانات کی باتیں بھی کرتے رہے ہیں۔ واضح رزلٹ برآمد نہ ہو تو ایسا کرنے سے پارٹی ورکرز تھک جاتے ہیں اوران میں مایوسی پھیل جاتی ہے۔ عمران خان نے 1996ء سے عملی سیاست کا آغاز کیا۔انھوں نے اپنے آبائی حلقے سے الیکشن لڑا ہے اور جب بھی لڑا، کامیاب ہوا ہے ۔عمران خان کو سب سے پہلے آبائی حلقے کی جانب خصوصی توجہ دینی چاہیے تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب تک توجہ نہیں دی ہے جوان کا حق تھا۔عمران خان کو ضلع میانوالی کے خٹک بیلٹ میں بہت زیادہ پذیرائی حاصل ہے لیکن اس نے گذشتہ دورہِ ضلع میانوالی کے دوران اس علاقے کی طرف رخ کرنا بھی گوارا نہیں سمجھا اور خٹک علاقے کی طرف نہیں گیا۔ میانوالی سے عیسیٰ خیل تک گیا لیکن خٹک بیلٹ کے علاقے تبی سر اور ٹولہ بانگی خیل کی طرف نہیں گیا۔اب ضلع میانوالی میں مسلم لیگ ن کی حکومت میانوالی سے درہ تنگ کارپٹ روڈ بنا رہی ہے اور متعدد دیہاتوں کیلئے بھی کارپٹ روڈ زبنائے ہیں اور دیگر ترقیاتی کام کررہے ہیں۔ اور ہوسکتا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت ضلع میانوالی میں یونیورسٹی بھی بنالی اور ضلع میانوالی کو ماڈل ضلع بنائے تو پھر عمران خان کیلئے مشکلات کے پہاڑ کھڑے ہوسکتے ہیں۔ آج کا ووٹر بہت سیانا ہوگیا ہے ،صرف ناچ گانے پر اکتفا نہیں کرتا ہے۔عملی اور ترقیاتی کام بھی مانگتا ہے۔ خیبر پختوانخواہ میں گزشتہ تقریباً ساڑھے تین سال سے تحریک انصاف کی حکومت ہے لیکن عمران خان نے اس طرف بھرپور توجہ نہیں دی ہے۔ عمران خان کو چاہیے تھا کہ سب سے پہلے ضلع میانوالی کی جانب توجہ دیتے اور خیبر پختوانخواہ کو ماڈل صوبہ بناتے اور دنیا کو دکھاتے کہ آئیے دیکھئے کہ میں نے آبائی ضلع اور صوبے کو کیسے ترقی دی ہے۔اب بھی عمران خان کے پاس وقت ہے کہ وہ باقی ماندہ ڈیرھ سال میں خیبر پختوانخواہ میں ترقیاتی کام کریں ورنہ آئندہ الیکشن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔اسی طرح بلاول بھٹو زرداری کو بھی چاہیے کہ وہ صوبہ سندھ میں ترقیاتی کام کریں اور لوگوں کی زیست میں بہتری لائے۔صوبہ سندھ میں بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے۔ دیہاتوں میں عوام کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے ۔ سب کیلئے بہتر یہی ہے کہ وہ آرام دہ دفاتر اور گھروں سے نکل کر غریب عوام کے کام کریں۔ ان کی زندگیوں میں خوشیاں لائیں۔ خالی جلسوں اور دھرنوں پر اکتفا نہ کریں۔دھرنے اصلی ہوں یاجعلی، غریب عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے ۔ غریب عوام کو دو وقت کی روٹی ، کپڑا اور مکان چاہیے۔ تعلیم اورصحت چاہیے۔ امن اورروز گار

بیان پر بیان۔۔۔ شوق موسوی
کئی معاملے ایسے ہیں خاموشی بھلی ہوتی ہے
ملزم اور مجرم میں کچھ تفریق نہیں ہو گی
چونکہ اُنہیں وزارت سے پہلے ہی چھٹی دے دی
اب پرویز رشید پہ کچھ تحقیق نہیں ہو گی