- الإعلانات -

سیاسی منظر نامہ اورتاریخ کے جھروکے

سال رواں کے ماہ مار چ سے شروع ہو نے والے پانامہ لیکس کے بارے میں سیاسی پا رٹیوں کا عمل اور رد عمل اور اسی اثنا ء میں وزیرا عظم پا کستان کاقوم اور پا رلیمنٹ میں خطاب کے دوران اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کر نے کا وعدہ اور اسی لئے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کیلئے حکومت کی طر ف سے عدالت عظمیٰ کو استدعا کی گئی لیکن عدالت عظمیٰ نے حکومت کو TORکے با رے میں واپس تحر یر کر دیا یہ پہلا مرحلہ تھا کہ حزب اختلا ف اور خاص کر تحر یک انصاف کے شد ید تحفظاات کو سامنے رکھتے ہو ئے ایک پارلمیانی کمیٹی جو حکومت اور حزب اختلا ف کے نما ئندو ں پر مشتمل تھی بنائی گئی لیکن بد قسمتی سے عر صہ چھ ماہ کی بیکار بحث و مبا حثہ کے بعد بھی TORپر اتفاق رائے نہ ہو سکا اور آخر کا ر تحر یک انصا ف اور حزب اختلاف کی دیگر پا رٹیوں جن میں جما عت اسلامی اور عوامی مسلم لیگ نے عدالت عظمیٰ میں درخواستیں دائر کر دی تاکہ پا نا مہ لیکس میں وزیر اعظم اور اُن کے بچوں کے با رے میں چونکا دینے والے انکشا فات کے بارے میں انصاف اور قانون کے تقاضے پور ے ہو ں ، لیکن اس سارے عرصہ میں PTIاور اُس کے قائد عمران خان نے پا نا مہ لیکس کے معاملے کو عوام کی آ گاہی کے لئے میڈ یا وار اور عوامی جلسوں ، ریلیوں اور کا ر نر میٹنگ کے ذ ریعے بہت زیادہ تحر یک دی اور عوام کو بھر پور طریقے سے متحرک کیا گیا جس سے دیہی اور شہری علا قوں کی عوام کی ہر لیول اور فورم پر کر پشن آگا ہی مہم چلا کر عوام کو ایک شعوری بید اری کا بھر پور پیغام دیا گیا اور پر زور مطا لبہ کیا گیا کہ کر پشن کے خاتمے کیلئے کڑا احتساب کیا جا ئے اور سب سے پہلے حکمران اشرافیہ جس کا مر کز نگاہ وزیر اعظم اور اُس کے بچے ہیں سے شروع کیا جا ئے اور ساتھ ہی تلا شی دو یا استعفیٰ دو کا نعرہ لگایا گیااسی پس منظر میں متعدد شہروں میں PTIنے کا میا ب جلسے کیے جس میں آخر ی بڑا جلسہ رائیو نڈ کا تھا اور پھر اُسی دن 30اکتوبر اسلام آباد میں دھر نے کی کال دی گئی جو کہ بعد میں 2نو مبر کر دی گئی اور اس کے نتیجے میں تیز ی سے رونماہونی والی سیا سی رسہ کشی نے حکو مت اور PTIکے درمیان نہا یت خطر نا ک صورت حال پید ا کر دی اور ایسا نظر آر ہا تھا کہ سیا ست دانوں اور اُن کی پارٹیوں کے درمیان سیا سی دنگل کی بجا ئے غارت گر ی کا میدان کار زار ہو نے والا ہے ، اس سلسلے میں پر نٹ میڈ یا اور الیکٹر انک میڈ یا نیز دیگر صا ئب الرائے طبقات اور قومی زند گی کے محب وطن اور ذی شعور عوام نے اپنے اپنے طور پر سیا سی قیا دتوں اور اُنکے پا رٹی اراکین کو حوصلے ، تحمل ، دانشمندی اور سیا سی بصیرت سے کا م لینے کا مشور ہ دیا گیا اور ساتھ ہی ہمارے اعلیٰ قومی ذمہ دارے ادارے جن میں اعلیٰ عدلیہ خاص کر عدالت عظمیٰ اور قومی سلا متی کے اداروں کو بھی درخواست کی گئی کہ معاملات کو گہر ا اور معا ندانہ بنانے کی بجا ئے افہا م و تفہیم اور ذمہ داری سے اُس کا حل نکا لا جا ئے کیو نکہ ہما ری سر حدو ں پر بھارت کی پید ا کر دہ صورت حال جو کشمیر کی تحر یک آزادی کو ظالمانہ طریقے سے کچلنے کی دن رات کو شش کر رہا ہے کو مد نظر رکھا جا ئے ۔ لہٰذا ملک ایک بڑا محاذ کھو لنے اور خطر نا ک صورت حال کیلئے سب کو دانشمندی کا مظاہرہ کر نے کا کہا جا رہا تھا اسی دوران عدالت عظمیٰ نے تمام پیٹیشنز پر متعلقہ فر یقین کو طلب کیا تاکہ ملک کو اس ہیجانی اور تباہ کن صورت حال سے نجا ت دلائی جا سکے۔
اس سار ے منظر نا مے کو اگر صحیح تنا ظر میں دیکھیں تو 2نو مبر کے دھر نے کا نہ ہو نا ہی صحیح فیصلہ تھا اگر چہ PTI اسلام آباد کو لا ک ڈاؤ ن تو نہ کر سکی لیکن خود حکو مت نے پنجاب اور پور ا فیڈر ل ایر یا لا ک ڈاؤن کر دیا ورنہ جس طر ح میدان سج رہا تھا تو اس شدید محاذ آرائی اور صف آرائی کی کیفیت میں فساد وجانی و ما لی نقصان کا ہو نا واضح نظر آرہا تھا جو عدالت عظمیٰ کی بر وقت مداخلت سے ٹل گیا اور قوم کو بقول عدالت عظمیٰ ہیجانی کیفیت سے نکا لنا مقصو د ہے ۔ دھر نے کے مو خر ہونے اور اُس کے نتیجے میں متوقع بڑے سانحے سے قوم بچ نکلی ورنہ نظام بھی تلپٹ ہو جا تا اور تمام سیا سی پا رٹیاں اور اُنکے لیڈران کفِ افسوس ہی ملتے رہ جا تے جس کی تلا فی آئندہ طویل عرصے تک نہ ہو سکتی لیکن اس تمام تر گھمبیر صورت حال نے ملکی سیا سی کلچر پر کچھ منفی اثرات بھی مر تب کیے ہیں جیسے اول الذکر خوا تین سیا سی کارکنوں کے ساتھ پو لیس کا تشدد اور بد سلو کی جس کو میڈیا کے ذریعے ہر کسی نے دیکھا جس نے ہماری مذہبی ، معاشرتی اور مشرقی اقدار کو بھی نقصان پہنچایا اب آئندہ بھی جب ایسی صورت حال ہو گی تو پھر ایسی روش نہ اپنائی جا ئے اور سیاسی مخالفین کو دبانے کا یہ اوچھا ہتھکنڈا کبھی استعمال نہ ہو نے پا ئے اس سارے سلسلے میں افسوس ناک منظر وہ تھا جب مفکر پا کستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کے پو تے جناب ولید اقبال کے ساتھ پو لیس کی غنڈہ گر دی ، بد سلوکی اور ہتک آمیز رویہ عوام کیلئے خاصی دل آزاری کا با عث بنا ، کم از کم مفکر پا کستان کا ہی کچھ لحاظ کر لیا جا تا اور پور ی دُنیا میں اس کا کو ن سا تا ثر دیا گیا۔ حالانکہ کسی شاعر نے اقبال کے بارے میں کیا خوب کہا تھا :۔
اے پنجا ب تجھ پر نازل ہوں خدا کی رحمتیں
اے کہ تو اقبال کی دولت سے ما لا مال ہے
اسی طر ح خیبر پختوانخوہ کے وزیر اعلیٰ پرو یز خٹک اور اُسکے ساتھ غیر مسلح تقریباً 500گا ڑیو ں کے جلوس کو بنی گلہ آنے سے روک دیا گیا ۔ صوابی سے پنجاب کی طر ف روانہ ہو نے والا یہ جلو س پنجا ب پو لیس اور FCکی بے تحا شہ شیلنگ اور چپے چپے پر کھڑی رکاو ٹوں کے باعث پیچھے کی طرف دھکیل دیا گیا اس سارے پس منظر میں ایک غلط قسم کا پیغام بین الصوبائی حکومتوں اور عوام کو دیا گیا جو منفی تاثر کو اجاگر کرتا ہے ۔ حالانکہ خا دم اعلیٰ پنجاب کا تو دوسرا سسرال بھی پشاور میں ہے لہٰذا پرو یز خٹک کے قافلے کو روک کر اُسے واپس ہو نے پر مجبور کر کے غیر دانشمندانہ پیغام KPKکی حکو مت کو ہی نہیں بلکہ عوام کو دیا گیا جس کی تلا فی کر نا ہر سطح پر بہت ضروری ہے ۔ اگر تاریخ پنجاب کا مطالعہ کیا جائے تو ریجیت سنگھ کا دورِ حکومت اور اس خطے میں اُس کا طر ز حکمرانی ملاحظہ کریں تو کہیں کہیں کی مماثلت نظر آ ئے گی ۔ کہا جا تا ہے کہ با دشاہ ظل الہیٰ یعنی روئے زمین پر اﷲ تعالیٰ کا سایہ ہو تا ہے لیکن ہما رے ہاں دیگر ترقی پذ یر ممالک کی طر ح انداز حکمرانی اور اصول حکمرانی خواص کیلئے اور ، عوام کیلئے اور ہے جس سے مختلف طبقات کا استحصال جس میں غر بت اور پسماند گی اپنی اتنہائی حدوں کو چھو رہی ہے سب کے سامنے ہے ۔
اگر چہ مغل با دشاہ ظہیر الد ین با بر کو ہندوستان پر حکمرانی کر نے کیلئے زیا د ہ عرصہ نصیب نہ ہوا لیکن اُنہوں نے اپنے تاثرات اپنی مشہور کتاب تز کِ با بری میں اس خطے کے لوگوں کے بارے میں بیا ن کیے ہیں اور کہا ہے کہ میں نے اس خطے کے اہلیا ن کو غلامی پر قناعت کر نے والا پا یا اور پھر کہتے ہیں کہ اس خطے کے لوگ حکمران ہو نے کی بجا ئے صرف اچھی رعایا ہیں پور ے بر صغیر اور خاص کر پنجاب کو قدیم تاریخ سے آریہ ورت کا دل کہا گیا ہے جس کو اپنی مشہور تصنیف غبارِ معطرّ ( Scented Dust) میں پاکستان کے سابق وزیرا عظم ملک فیر وز خان نون نے پنجاب کے آریائی با شندوں کا ذکر کیا ہے البتہ سکھا شاہی کے دور میں رنجیت سنگھ کا دورِ حکومت جو سکھوں کے ہیرو کہلا تے ہیں پنجاب کے حکمرانوں کی تاریخ میں مذ ہب سے ہٹ کر