- الإعلانات -

قائد اعظم کا پاکستان اور اقبال کا خواب

                                                             کیا اس لئے تقدیر نے چنوائے تھے

                                                             تنکے بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے

70سال سے اس ملک کے غریب عوام اپنی زندگیوں میں تبدیلی کے سہانے سپنے سجائے آج بھی کسی رحم دل اور نیک حکمران کے جو ایک عام پاکستانی کے مسائل سے با خبر ہو کے بر سر ا قتدار آنے کی امید میں اپنے زندگیاں بتا رہے ہیں ۔نظام میں ایسی تبدیلی کا وعدہ لیکر آنے والے ہر اس جماعت یا اس کے قائد کی جانب یوں لپکتے ہیں جیسے سیلاب کے دنوں میں متاثرین سامان سے بھرے ٹرک کی جانب دوڑتے ہیں ۔پاکستان میں تبدیلی کا حکمرانوں کے نزدیک شائد صرف اور صرف یہ رہ گیا ہے کہ اربوں روپے انویسٹ کر کے انتخابی مہم چلاؤ،لوگوں کی زندگیوں کو قائد اعظم کے نظریات اور اقبال کے خواب کی عملی شکل دکھا کر اسمبلیوں میں اپنی عددی برتری ثابت کر کے مزید پانچ سال کیلئے کرسی اقتدار سے چمٹ جاتے ہیں ۔مگر سوچنے والی تو بات تو یہ ہے کہ ملک کے اندر تمام تر سیاسی جماعتوں کے ہوتے،چاہے یہ سیاسی جماعتیں موروثی ہوں یا جنونی ،ملک کے اندر تمام تر بڑے بڑے سیاسی گرو ہوں کی موجودگی کے باوجود عام پاکستانی کی ذندگی کے شب و روز میں کسی قسم کی تبدیلی اتنا عرصہ گذر جا نے کے باوجود دیکھنے میں نہیں آتی۔اداروں کا وجود تو اس ملک میں قائم و دائم ہے مگر آج تک جس قدر حزیمت اور مصیبت اس ملک کے عوام کو ان اداروں سے اٹھا نا پڑ رہی ہے ،شائد ہی وہ کسی اور مسئلے سے اٹھا نا پڑتی ہو۔عمران خان نے دو نومبر کو اسلام آباد بندکرنے کا عندیہ دیکر پھر اس دھرنے کو سپریم کورٹ کی طرف سے یقین دہانی سے مشروط کرتے ہوئے ختم کر نے کا اعلان کیا تو ابتداء میں تو شائد ان کیلئے اور ان کی جما عت کیلئے اس فیصلے سے پیدا شدہ صورتحال کافی حد تک دگر گوں نظر آرہی تھی مگر میرے ذاتی خیال میں ان کے اس فیصلے کے مثبت نتائج کو نہ صرف خود ان کے ورکرز نے یوم تشکر کے دن ایک بہت بڑی تعداد میں شمولیت کر کے مہر تصدیق ثبت کی تو دوسری طرف دوسری اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا۔عمران خان اور اس کے ہمنوا تقریبا سات آٹھ ماہ سے پانامہ لیکس کے ا نکشافات سامنے آنے کے بعد سے مسلسل اس بات کی دو ہائی دے رہے تھے۔کہ ملکی احتساب کے ادارے قانون و آئین کے کے تحت نواز شریف اینڈ فیملی کی آف شور کمپنیوں کی تحقیقات کرائین ،تاکہ ملک میں جاری اس شور کو کسی حد تک تعین بھی کیا جائے اور ملکی دولت لوٹ کر لے جا نے والوں کو کٹہرے میں بھی لایا جاسکے۔مگر معاملات اس وقت الٹ پلٹ ہو جاتے ہیں جب ان دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیاں ٹی آر اوز پر اتفاق نہیں ہو پاتا۔سپریم کورٹ نے وسیع تر ملکی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے اس انتہائی اہم ملکی مسئلے کو بھانپ کر دونوں فریقین کے عدم اتفاق کی صورت میں ٹی آر اوز کا تعین خود کر نے کی یقین دہا نی نے سب کو وقتی طور پر مسرور کر دیا۔گزشتہ تین ،چار ادوار سے ملک میں جس طرح کرپشن،بد دیانتی اور لوٹ مار کے ذریعے اس ملک کے عوام کی دولت پر ہاتھ صاف کئے گئے ،اپنوں کو بے دریغ نوازا گیا،ان کرپشن کہانیوں کے حقائق کو نہ صرف ایک پانامہ لیکس،بلکہ کئی بین ا لا قوامی اداروں نے بھی واضح کیا کہ یہاں خود احتساب کے اداروں کی ناک کے نیچے کتنے بڑے پیمانے پر ملکی دولت کو بے دریغ لوٹا جارہا ہے مگر سب نے تمام حقائق کے منظر عام پر آجا نے کے با وجود بلی کی طرح آنکھیں بند کر رکھی تھیں ۔اس ملک کے اندر جس چیز کو سب سے کم اہمیت دی گئی وہ احتساب ہی ہے،ایک ایسا احتساب جو مرغی چور اور جیب کترے کو تو پورے معاشرے کے سامنے بے نقاب کر دیتا مگر بڑے مگر مچھوں کو پوچھنے والا ہی کوئی نہیں ۔خود نیب کا دارہ اس ملک کے اندر ایک مذاق بن کے رہ گیا ہے۔کتنی حیرت کی بات ہے کہ خود احتساب کے زدہ لوگ لوگوں کا احتساب کر نے پر معمور ہیں۔ جنکی دال روٹی خود ان کے دم قدم سے قائم ہے وہ ان بڑے لٹیروں کا کیا خاک احتساب کریں گے۔مجھے آج ڈاکٹر طاہر القادری کی باتیں رہ رہ کر یاد آرہی ہیں کہ جب تک اس ملک میں بلا تفریق ،عہدہ،منصب،شخصیت اور اثر و رسوخ کے ،قانون سب کو ایک نظر سے دیکھنے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا نہیں کرتا اس وقت تک اس ملک کا نظام کبھی بھی صحیح سمت اپنا سفر جاری نہیں رکھ سکتا۔چھپائے گئے اثاثوں سے لیکر ،لوٹی ہوئی دھن دولت کے انبار لگا اسمبلیوں میں پہنچنے والے چور خود قانون و آئین کی تشریح کریں گے،تو پھر ایسا ہی ہوگا صرف چہرے بدلیں گے ،نظام میں تبدیلی کبھی نہیں آسکے گی۔اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ میں سمجھتا ہوں دہشت گردی سے بھی بڑا وہ کرپشن ہی ہے کرپشن ایک تو کی جاتی ہے اور پھر اس کرپشن کے بل بوتے بنائی گئی دولت پر یہ لوگ اس ملک کی تقدیر کے فیصلے بھی کرتے ہیں ۔عمران خان کا کرپشن کے خلاف اس حد تک اس ملک کے عوام کو موبلائز کرنے اور کسی صورت شفاف ،احتساب اور لٹیروں کو منطقی انجام تک پہنچا نے اور ملک سے لوٹی گئی دولت واپس لاکر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا نے کا یہ جہاد مزید پذیرائی حاصل کرتا ہی چلا جائے گا۔سپریم کورٹ کے پاس وہ تمام اختیارات ہیں کہ وہ کرپشن ثابت ہو نے پر کسی کو بھی قانون کے مطابق سزا دے سکتی ہے۔۔کیس اب عدالت میں ہے۔میرے خیال میں یہ ہسٹری بننے جارہی ہے کہ اگر ملکی ادارے اپنی ساکھ اور حاصل اختیارات کو استعمال میں لاکر سب ملک کے عوام کو ایک واضح پیغام دیں کہ اس ملک کا قانون سب کیلئے یکساں ہیں ۔جب تک ملکی آئین و قانون اور احتساب کے ادارے ایک آزادازہ اور شفاف تحقیقات کے ذریعے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی نہیں کر دیتے اس وقت تک قائد اعظم کے پاکستان سے متعلق نظریات اور اقبال کا