- الإعلانات -

ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی اور دنیا کا امن

ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن کو شکست دے کر 45 ویں امریکی صدر منتخب ہو گئے ہیں۔انھوں نے یہ فتح کئی کلیدی ریاستوں میں یک بعد دیگرے کامیابی کے بعد حاصل کی، حالانکہ گذشتہ کئی ماہ سے رائے عامہ کے جائزوں میں کلنٹن کو ان پر برتری حاصل تھی۔فلوریڈا، اوہائیو اور شمالی کیرولائنا جیسی اہم سوئنگ سٹیٹس میں ٹرمپ کی کامیابی نے ان کی فتح کا راستہ ہموار کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کو 289اور ہیلری کلنٹن کو218 الیکٹورل ووٹ ملے جبکہ کامیابی کیلئے 270 الیکٹورل ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد پہلے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ وہ صرف ری پبلکنز کے ہی نہیں بلکہ ڈیموکریٹک اور تمام امریکیوں کے صدر ہیں،منصب کے لئے منتخب کرنے پر امریکی عوام کے شکر گزار بھی ہیں۔دنیا جان لے کہ امریکی مفاد ان کی پہلی ترجیح ہوگی تاہم جو قومیں ساتھ چلنا چاہیں گی انہیں ساتھ لے کر چلیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کی عظیم روایات کو آگے بڑھائیں گے اور سب کو ساتھ لیکر چلیں گے،سکول، ہسپتال اور سڑکیں بنائیں گے جبکہ ان کے پاس بہترین معاشی پلان بھی موجود ہے۔امریکی ترقی کیلئے معاشی پیداوار کو بھی دوگنا کیا جائے گا، کوئی بھی خواب بڑا نہیں ہوتا،سب کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ عوام کی حمایت اور رائے سے آگے بڑھیں گے اور رنگ ونسل سے برتر ہوکر امریکی عوام کی خدمت کریں گے۔ نو منتخب امریکی صدر نے مشکل حالات میں ساتھ دینے پر اپنے اہل خانہ کا شکریہ ادا کیا۔زبردست مقابلہ کرنے پر ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔اس سے قبل امریکا کے 45 ویں صدر کو منتخب کرنے کے لئے پولنگ کا آغاز روایتی طور پر ریاست نیو ہیمپشائر کے 3 قصبوں سے ہوا، جہاں ووٹر اجتماعی طور پر پولنگ اسٹیشنز پہنچے اور انہوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ جس کے بعد مختلف ریاستوں میں بتدریج پولنگ شروع ہوتی جارہی ہے۔وزیراعظم نواز شریف اور صدر مملکت ممنون حسین نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکا کے صدارتی انتخابات 2016 میں تاریخی فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط شراکت داری پائیدار امن، سیکیورٹی اور استحکام کے فروغ کیلئے ناگزیر ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح یقیناً امریکی عوام کی کامیابی اور جمہوریت ٗآزادی اور انسانی حقوق پر ان کے پختہ یقین کی علامت ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے کہاکہ پاکستان اور امریکہ کے مضبوط اسٹرٹیجک تعلقات ہیں جن کی بنیاد آزادی، جمہوریت، باہمی عزت اور مفادات پر قائم ہے۔دونوں ممالک کے درمیان مضبوط شراکت داری پائیدار امن، سیکیورٹی اور استحکام کے فروغ کیلئے ناگزیر ہے۔وزیراعظم نے اپنے پیغام میں نئی امریکی قیادت کے ساتھ قریبی تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا سے گہرے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انتخابی عمل پر نظرڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مسلم کمیونٹی کے خلاف جارحانہ رویہ اپنایا اور باراک اوبامہ اپنی انتخابی مہم کے دوران میں پاکستان کیلئے اچھے کلمات کے ساتھ خیر خواہی کے جذبات کا اظہار کرتے رہے اور مسئلہ کشمیر کے حل میں بھی معاون بننے کا اعلان کیا جن کیلئے انہوں نے سابق امریکی صدر کلنٹن کے بطور رابطہ کار کردار کا بھی عندیہ دیا مگر امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے بعد پاکستان کے بارے میں ان کی ترجیحات یکسر تبدیل ہوگئیں اور دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان سے ڈومور کے سب سے زیادہ تقاضے انہی کے دور میں دیکھنے اور سننے میں آئے جبکہ پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کرنے والا ایبٹ آباد آپریشن بھی انہی کی سرکردگی میں ہوا جو یقیناً پاکستان کے ساتھ تعلقات کے معاملہ میں ان کی پارٹی کی پالیسی کا حصہ ہے ہم پاک امریکہ تعلقات کے نئے زاویے تلاش کرسکتے ہیں بلکہ سی پیک جیسے منصوبوں کی افادیت پر امریکہ کو قائل کرسکتے ہیں ۔ امریکی انتظامیہ کا سربراہ جو بھی ہواس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دنیا کو محفوظ بنانے اور قیام امن کیلئے اپنا کردار ادا کرے اور تمام ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھے ۔ اعتدال پسندی اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے ۔ پاک امریکہ تعلقات اسی وقت مستحکم ہوسکتے ہیں جب امریکہ توازن رکھے گا اور زمینی حقائق کو سامنے رکھے گا ۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کے حل کیلئے پاک بھارت تعلقات میں خوشگوار فضا پیدا کرے اور بھارت جیسے ملک کے ساتھ تعلقات میں نظرثانی کرے ۔ بھارت ایک جارح ملک ہے اور وہ خطے کے امن کو تباہ کرنے کے درپر ہے ۔ پاکستان پرامن ملک ہے اور خطے میں امن کا خواہاں ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی پاکستانی جنگ کا امریکہ کو اعتراف کرتے ہوئے پاکستان کی ہرممکن مدد کرنی چاہیے ۔ پاک امریکہ بہتر تعلقات دنیا کے امن میں ایک خوشگوار اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔
جسٹس(ر) سعیدالزاماں صدیقی گورنرسندھ مقرر
صدر مملکت ممنون حسین نے وزیراعظم نوازشریف کی ایڈوائس پر جسٹس(ر) سعید الزماں صدیقی کو گورنر سندھ مقرر کر دیا ۔ سعید الزماں صدیقی کی تعیناتی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے ۔سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ نئے گورنر سے حلف لیں گے ۔سعیدالزماں صدیقی کا کہنا ہے کہ کوشش ہوگی صوبے میں امن وامن قائم کروں، اللہ کامیابی دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم رہنماؤں نے ایک دوسرے پرالزامات لگائے، میراخیال ہے اسی وجہ عشرت العباد کو ہٹایا گیا۔ جسٹس (ر)سعید الزماں صدیقی چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔ سعید الزماں صدیقی 2008 میں سابق صدر آصف علی زرداری کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے صدارتی امیدوار تھے۔ جسٹس (ر) سعید الزماں 1980 میں رکن الیکشن کمیشن آف پاکستان سمیت دیگر اہم عہدوں پر رہ چکے ہیں۔انہوں نے پرویز مشرف کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا تھا۔ ڈاکٹر عشرت العبادخان 27 دسمبر 2002 سے گورنرسندھ کے عہدے پر فائز ہیں جو ملک میں کسی بھی گورنر کی سب سے طویل مدت ہے۔ 2002 کے انتخابات کے بعد اس وقت کے صدرپرویز مشرف نے عشرت العباد خان کو گورنرمقررکیا تھا، اس وقت سے وہ اس عہدے پرکام کررہے تھے۔ 2013 میں کراچی میں شروع کئے گئے آپریشن کے بعد ایم کیو ایم کے متنازعہ بیانات سامنے آنے پر الطا ف حسین سے سے لاتعلقی کااظہارکیا تھا جب کہ گزشتہ ماہ پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفی کمال نے بھی انہیں دہری شہریت کا حامل ہونے کا الزام لگایا تھا۔ اس کے علاوہ ان پر کرپشن کے بھی الزام عائد کئے گئے تھے۔ گورنر وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے ۔ صوبائی حکومت کے ساتھ خوشگوار تعلقات اور معاملات کو سیاسی تدبر اور بصیرت سے حل کرنا ہی ان کیلئے نیک شگون قرار پائے گا۔ توقع ہے کہ نئے