- الإعلانات -

امریکی صدارت انتخاب

حالیہ امریکی صدارتی انتخاب امریکی تاریخ کے منفرد ترین انتخابات تھے جو انتہائی مہنگے ہونے کے علاوہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون امیدوار ایک تاجر کے مد مقابل تھیں جس کا روایتی سیاسی پس منظر نہیں تھا ایک طرف ایک روشن خیال خاتوں جو بطور خاتون اول 8 سال تک قصر ابیض کی مکین رہی ہیں اور باراک اوبامہ انتظامیہ میں بطور امریکی وزیر خارجہ خدمات انجام دیتی رہی ہیں انپنی انتخابی مہم میں پر اعتماد رہیں اور خواتین نے ہیلری کا انتخابی مہم میں ساتھ دیا ایک سے زیادہ نامور خواتین ٹرمپ پر الزامات لگاتی رہیں کہ ٹرمپ نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا دنیا بھر کے باخبر میڈیا نے ٹرمپ کو پاگل تنگ نظر نسل پرست بدکردارشخص کے طور پر متعارف کروایا اسے جدید دور کا ہٹلر قرار دیا امریکی ووٹر کی نفسیات بھی عجیب ہے کہ ایک غیر متوازن ناتجربہ کار اور جنونی شخص کو اس خاتون پر فوقیت دی جو روشن خیال اور اعلی تعلیم یافتہ خاتون ہیں ہیلری کو امید تھی کہ خواتین ووٹر انکے لئے ذیادہ تعداد میں نکلیں گی جن کو شاید زیادہ متحرک نہ کر سکیں جس طرح متحرک اور ذہین سیاہ فام باراک اوبامہ کے لئے خواتین کے ساتھ سیاہ فام ووٹر بھی نکلے تھے اور مکین کو مسترد کردیا تھا امریکیوں کو اوبامہ کی صورت میں تبدیلی آتی محسوس ہوئی کہ ایک سیاہ فام اور مسلمان پس منظر رکھنے والے شخص کا بطور امریکی صدارتی امیدوار سامنے آنا ایک منفرد واقعہ تھا اور سیاہ فام ووٹراوبامہ کو ووٹ ڈالنے کے لئے بہت متحرک ہوئے ، 9/11 کے بعد امریکہ میں خوف کی ایک لہر پیدا ہوئی خاص طور پر سیاہ فام اور سفید فاموں کے درمیان موجود خلیج مزید گہری ہوئی اسی طرح امریکی معاشرے میں بوجوہ مسلمانوں سے نفرت کے جذبات پیدا کئے گئے حالانکہ 9/11 کے بارے میں متضاد کہانیاں زبان زدعام ہیں کہ کوئی ایک مضبوط عسکری گروپ مضبوط ترین بلڈنگ کو گرا نہیں سکتا تھا جب تک کوئی اندر سے شامل نہ ہو الزام مسلمانوں پر لگا دیاگیا اور نفرتیں بڑھا دی گئیں اور ٹرمپ نے بھی جلتی پر خوب تیل ڈالا اور سفید فاموں کے اندر ایک خوف پیدا کیا گیا مسلمانوں کے امریکہ آنے پر مکمل پابندی کی بات کی گئی امریکہ میں موجود مساجد کی جاسوسی اور ان پر نظر رکھنے کی بات کی گئی جس سے مسلمانوں میں شدید مایوسی پھیلی ہسپانوی تارکین وطن کے خلاف نفرت کا پرچار کیا گیا مکسیکی لوگوں کو امریکہ کے لئے بہت بڑا خطرہ قرار دیا گیا اور میکسکو کی سرحد پر اسرائیلی طرز کی دیوار کی تعمیر کی بات کی گئی جس کے لئے میکسیکو سے اس دیوار کی تعمیر کے اخراجات وصول کرنے کا کہا گیانیٹو معاہدے کو فالتو غیر ضروری اور امریکی معیشت پر بوجھ قرار قرار دیا یوکرین کے موقف پر روسی موقف کو قبول کرنے کا اشارہ گیافلسطین کے معاملے میں پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دے دیا ماحولیاتی آلودگی کے معاملے میں یوٹرن ہوسکتا ہے افغان پالیسی میں جوہری تبدیلیاں واقع ہو سکتی ہیں فری ٹریڈ پر بھی کوئی ڈرامائی تبدیلی آسکتی ہے غرض سفید فاموں کے اندر 9/11 کے بعد پیدا کئے گئے خوف کو دو چند کیاگیا اور ان میں پیدا شدہ نفرت کو ووٹوں کی صورت میں کیش کیا گیا گو امریکہ کی تاریخ میں کسی خاتون کا بطور صدارتی امیدوار سامنے آنا ایک منفرد واقعہ تھا لیکن ہیلری سیاہ فام ووٹرز کو باہر نہیں نکال سکیں وگرنہ نتیجہ یوں نہین نکلتا اس کے دیگر بھی کئی پہلو بھی ہیں ماضی میں ڈیموکریٹس ہمیشہ داخلی پالیسیوں اور معیشت پر فوکس کرتے تھے جب کہ ری پبلکن ہمیشہ عالمی ایجنڈے پر ووٹ مانگتے دہرے ہیں اس مرتبہ ووٹروں کو کالے گورے اور پیدائشی امریکی اور نئے امیگرنٹ کی بحث میں الجھا دیا اور ٹرمپ نے گوروں کو مخاطب کرکے ان کے اندر خوف پیدا کیا بالکل اسی طرح جیسے مودی نے ہندو ووٹروں کو ان کی شناخت اور ان کی بقا کے خطرے کا ہوا بنا کر انہیں ہمنوا بنایا اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان ہندو نسل کا خاتمہ چاہتا ہے اسی نوع کی حرکتیں بل کلنٹن ،جارج بش اور جارج واکر بش کر چکے ہیں اور اوبامہ نے بھی کسی حد تک انہیں کیایجنڈے کو آگے بڑھایا آج حالت یہ ہے کہ روشن خیال اور اعلی تعلیم یافتہ خاتوں ہار گئی اور بنیادپرست اور انتہاپسند اپنا ایجنڈہ لیکر وائٹ ہاوس میں براجمان ہونے کی تیاری کر رہا ہے دنیا بھر تجزیے ایگزٹ پولز ماہرین کی رائے سیاسی پنڈتوں کی پیشین گوئیاں غلط ثابت ہوئیں اور ماہرین سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں کہ ٹرمپ کے بعد دنیا کا کیا بنے گا لوگ اس جیت کو دوسرا 9/11 کہ رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج امریکہ میں جمہوریت ختم ہو گئی ہے تماشہ یہ ہے کہ عالم اسلام کے بارے میں سب کے خیالات تقریبا یکساں ہیں اگر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں بیان کی گئی پالیسی پر عمل کیا تو امریکہ کا اللہ ہی حافظ ہے اس مسئلہ کی اصل بنیاد سرمایہ دارانہ بالا دستی اور کارپوریٹ کلچر کے مفادات کے آکٹوپس کا مسلط ہونا ہے جہاں منافع کے علاوہ ہر بات جھوٹ اور فریب ہے جس کا منطقی نتیجہ انسان کی انحطاط اور انسانیت کا زوال ہے اس کے اقدامات کا ایک اور نتیجہ دنیا کے دیگرحصوں میں گہرے منفی اثرات ہوں گے آج ہی امریکیوں نے کینڈا امیگریشن کی معلومات کے لئے رجوع کیااور ویب سائیٹ پر اتنا بوجھ پڑا کہ ویب سائیٹ ہی بیٹھ گئی اس انتخاب سے ایک بات اور بھی ثابت ہوتی ہے کہ لاکھ روشن خیالی کے باوجود امریکی معاشرہ آج بھی قدامت پسندی اور بنیاد پرستی کے رجحانات رکھتا ہے اور خواتین کاقائدانہ کردار قبول کرنے پر آمادہ نہیں انڈیا نے بھی ٹرمپ کی انتخابی مہم میں فنڈنگ کی ہے اس کے اثرات پاکستاں پر ضرور پڑیں گے پاکستان کے حوالیسے جوہری پروگرام اور حقانی نیٹ ورک جیسے ایشو اٹھ سکتے ہیں ہمیں اپنے گھر کی خبر لینی چاہییں چین اور روس سے دوستی اور تعاون میں اضافہ ہونا چاہیے اور ہمیں اپنی تیاریاں مکمل رکھنی چاہییں اللہ اس وطن اور اہل