- الإعلانات -

منزل ٹھیک مگر راستہ غلط

اس کا ارادہ بڑاخطرناک تھا،وہ چاہتا تھاکہ پوری تحریک کے غبارے سے ہوانکل جائے، یہ مقصدوہ تحریک کے روح رواں کو لاجواب کر کے حاصل کرسکتا تھا،پس وہ ان کے پاس آیااورسوال کیاکہ اسلام کی طرح باقی مذاہب بھی تو بھلائی کا درس دیتے ہیں ،پھر اسلام کے نام الگ ملک کا مطالبہ کیوں ؟ انہوں نے سوال سنا ، مسکرائے اور جواب دیا’’ اگرچہ تمام مذاہب بھلائی کا درس دیتے ہیں مگر پھر بھی ایک بنیادی فرق موجود ہے ‘‘، اس نے پوچھاکہ وہ کیا؟ انہوں نے بڑی متانت سے جواب دیا’’ اسلام کہتا ہے کہ کام بھی اچھا اور اس تک پہنچنے والا راستہ بھی اچھا ہو‘‘،جواب دینے والے کو دنیا قائداعظم نام سے جانتی ہے ۔
آپ اس جواب کو ذہن میں رکھیں تو آپ کو عمران خان کی حالیہ ناکامیوں کا جواب مل جائے گا ، آپ اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ عمران خان کے نعرے عوام میں مقبول بھی ہیں اور عوام بھی یہی چاہتی ہے کہ ملک میں کرپشن ختم ہو، خوشحالی ہو، حکمران جوابدہ ہوں ، قانون سب کے لیے برابر ہو، پولیس عوام کے جان ومال کی محافظ ہو نہ کہ بڑے لوگوں کی لونڈی ، صحت کی تمام تر سہولیات عوام کو میسر ہوں ، سستی اور معیاری تعلیم تک سب کی رسائی ہو، سب کی عزت نفس بحال ہو،جان ومال کا تحفظ ہو ، جب مقصد نیک ہے تو آخرکیاوجہ ہے کہ خان صاحب ناکام ہوتے ہیں ؟ جواب یہ ہے کہ خان نے جو راستہ اختیارکیاتھا وہ نہ صرف غلط تھابلکہ اس پر خان صاحب نے اپنے ہاتھوں سے جابجا کانٹے بھی بکھیر رکھے تھے۔
وہ کانٹے کیاہیں؟ مثلاً آپ دیکھیں کہ خان صاحب کی پارٹی کے ایک لیڈر جاویدنسیم صاحب ہاتھ لہرالہرا کر چھ وزراء کی کرپشن کی داستان پورے پاکستان کو سناتے رہے مگر خان صاحب نے نہ تو جاوید نسیم کو جھوٹاکہااور نہ ہی وزراء کو، اسی طرح خان صاحب نے اپنے ایک دوست جنرل (ر) حامدخان کو احتساب کمشنر مقررکیاجنہوں نے تحقیق کی مگر جب ان کے ہاتھ پارٹی کے چند ایک چہیتوں تک پہنچے تو خان صاحب نے ان کی چھٹی کرادی اور انہوں نے ٹی وی پر کرپشن کی داستان سنائی مگر خان صاحب نے کچھ نہ کیا، پارٹی الیکشن میں دھاندلی کا شوربلندہواتوخان صاحب نے ملک کے ایک نیک نام جج وجیہ الرحمن کوایک کمیٹی کا سربراہ لگایامگر جب اس جج کے ہاتھ پارٹی کے چند مخصوص لوگوں کی جانب بڑھے اور خود خان صاحب کا بھی قصورنکل آیا تو خان صاحب نے وہ کمیشن ہی تحلیل کردیا، اسی طرح حکومت میں شامل آفتاب شیرپاؤکی پارٹی کے افراد پر کرپشن کے الزام لگاکر ان کو حکومت سے نکالا گیا اورپھرکوئی تحقیق کیے بغیر ہی ان کو واپس حکومت میں شامل بھی کرلیاگیا،اسی طرح آپ کے ایک چہیتے وزیرعاطف خان پر پیڈو(PEDO)کے معاملات میں کرپشن کے الزام تھے جن کاکوئی حل نہ نکالاگیابلکہ اسدعمر کے ساتھ فرم میں کام کرنے والے کو ہی اس کا کرتا دھرتابنادیاگیااوریہ کام کرنے کے لیے پندرہ سالہ تجربے کی شرط کو ختم کرنے کے لیے الٹی سیدھی شرائط قانون میں داخل کردی گئیں،عاطف خان ہی ماتحت ایک اوروزارت میں ظلم وستم کی داستان لے کر ایک خاتون خان صاحب کی پریس کانفرنس آدھمکی مگر انہوں نے اس کی بات سننے کی بجائے الٹا اسے دھتکاردیا، اسی طرح بینک آف خیبر کے ایم ڈی نے اپنی ہی وزارت خزانہ کے خلاف اخبار میں اشتہار دیئے مگر پھر بھی خان صاحب نے معاملے کی تحقیق نہ کی ، ضیاء اللہ آفریدی کو گرفتار کرلیا گیااوروہ چیختے رہے میرے محکمے میں کرپشن پرویزخٹک کے ایماء پر ہو رہی ہے مگر اس کی کہیں شنوائی نہ ہوئی اور کسی نے اس بات پر غورنہیں کیاکہ اگر ضیاء اللہ آفریدی ہی قصوروارتھے تو ان کے جیل جانے کے بعد بھی گھپلے کیوں بدستور جاری رہے اور ان کے جاری کیے گئے ٹھیکے اور اقدامات پر نظرثانی کیوں نہ کی گئی ؟ اسی طرح ملک کے منافع بخش ادارے میں کچھ اس طرح چھیڑچھاڑ کی گئی کہ بورڈآف ڈائرکٹر ز کے چیئرمین شکیل درانی نے احتجاجااستعفاء (استعفیٰ ، غلط املاء ہے)دے دیا۔
تو خان صاحب ! جب آپ کا راستہ اتنا پرخوارتھاتو پھر کامیابی کیسے مل سکتی تھی ؟ اس کے ساتھ آپ کو اس بات پر بھی غورکرناچاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو ایک مخصوص عرصے تک اس کی قوم کے سامنے پیش کیا، اس کی قوم نے اس کردار کا مشاہد ہ کیا، اس کے راستے ایک نظر تک اس قوم کے سامنے رہے ، جب اس کے کردار کی دھاک بیٹھ گئی تو اس کے بعد نبوت کا اعلان کیا گیا ،اس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی دعویٰ یا نعرہ بلند کرنے کے لیے صرف نعرے کا اچھا ہونا کافی نہیں ہے بلکہ کامیابی کے لیے منزل تک جانے والے راستے کا بھی صاف اوراچھا ہونا ضروری ہے ،آپ خود لوگوں سے کہتے ہیں کہ ادارے بندہوں گے، سکول بندہوں گے، سڑکیں بھی بندہوں گی،ہسپتال تک رسائی بھی مشکل ہوگی ، آپ کو تکلیف ہوگی مگر آپ نے یہ تکلیف برداشت کرنی ہے کیونکہ میرا مقصداچھاہے ، اگر آپ کا مقصداچھاہے تو راستے میں لوگوں کے لیے کانٹے کیوں ؟
پس خان صاحب!آپ کو چاہیے کہ اچھائی کی اس منزل کو پانے کے لیے اچھے راستے کا انتخاب کریں اور اس پر موجود الزامات کے کانٹے صاف کریں ، اس کے ساتھ ساتھ اگرہوسکے تو اپنے اردگرد کھڑے تین چار بزرگوں سے بھی جان چھڑالیں جو مسلسل تباہی کا گڑھا کھودتے چلے جارہے ہیں ، اس کے ساتھ دوتین پمپ نما چینل سے بھی جا ن چھڑالیں جن کا کام ہی غبارے میں ہوابھرنا ہے اور ہوا بھرتے ہوئے وہ غبارے کی کیپسٹی کو بھی بھول جاتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر دفعہ غبارہ پھٹ جاتا ہے ، اس کانقصان ان ’’پمپی چینل‘‘ کو تو نہیں ہوتاالبتہ خان صاحب دوتین قدم مزیدپیچھے چلے جاتے ہیں ، خان صاحب یہ!اگرآپ یہ دوتین کام کرلیں تو کامیابی آپ کا مقدر ہے ، کیا یہ کام ہوسکتے ہیں ؟ ہاں!ہوتوسکتے ہیں مگر؟