- الإعلانات -

بہت ہوچکا، اب بھی سنبھل جاؤ

ہر طرف سسٹم کی خرابی کا شور ہے، ہر سیاستدان سسٹم کو ٹھیک کرنے کا دعویدار ہے مگر ان کی حرکتوں سے لگتا ہے یہ سسٹم ٹھیک نہیں کرنا چاہتے بلکہ اسے لپیٹ ہی دینا چاہتے ہیں۔ کوئی انہیں سمجھائے کہ سسٹم کو ختم کرکے اسے بہتر نہیں کیا جا سکتا۔ غوطے کھانے کے ڈر سے تالاب خالی کرکے پیراکی سیکھنے کی خواہش پاگل پن کے سوا کیا ہوسکتی ہے؟ اگر کسی کو پیراکی سیکھنی ہے تو اسے لامحالہ پانی میں اترنا ہوگا، ڈبکیاں کھانی ہوں گی۔ ایسے ہی اس نظام کو بقیدِ حیات رکھتے ہوئے ہی اس کی بہتری ممکن ہے مگر ان عاقبت نااندیشوں کو کون سمجھائے۔
تاریخ گواہ ہے کہ بار بار سیاستدانوں نے ہوسِ اقتدار میں ایک دوسرے کو اتنا زچ کردیا کہ تیسری قوت کو آتے ہی بنی۔ ان سیاستدانوں کی ڈرامہ بازیوں نے عوام کو جمہوریت سے اس قدر بدظن کیا کہ ہر بار تیسری قوت کے آنے پر وہ کبھی حلوے اور کبھی مٹھائیاں لے کر سڑکوں پر نکل آئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا دور جس نے دیکھا ہے اسے یاد ہو گا کہ سیاستدانوں نے کیا دھماچوکڑی مچائی تھی۔ پھر جب جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کیا، سسٹم لپیٹ کر ان سب ہوسِ اقتدار کے پروردوں کو گھر کی راہ دکھائی، اس وقت عوام ان سے اتنے تنگ آ چکے تھے کہ ملک میں حلوہ بٹنا شروع ہوا اور اس قدر حلوہ بٹا کہ ملک میں میدے اور سوجی کا بحران پیدا ہو گیا۔ ڈھونڈے سے یہ چیزیں نہیں ملتی تھیں۔ اسی طرح جب جنرل پرویز مشرف آئے تو کروڑوں کی مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ جواب اس کا بہت سیدھا ہے۔ ایک سیاستدان اقتدار میں آتا ہے، وہ اہل ہو یا نااہل، وہ عوام کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہو یا اپنا پیٹ بھرنا چاہتا ہو، ان تمام باتوں سے قطع نظر الیکشن میں ہار جانے والے سیاستدان اقتدار پر فوری قبضے یا اگلے الیکشن کی تیاری کے سلسلے میں حکومت کو ’’گندہ‘‘کرنے کی گندی سوچ پر عمل پیرا ہو جاتے ہیں اور اس سلسلے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جاتی۔ ایسے میں اگر حکومت میں آنے والی پارٹی عوام کے لیے کچھ کرنا بھی چاہتی ہو تو وہ کچھ نہیں کر پاتی۔اور یوں ایک تو عوام کو اپنے بھلے کا کوئی کام نظر نہیں آتا اور اوپر سے آئے روز کی سیاستدانوں کی چخ چخ، بلکہ بک بک۔ یہی وہ بڑے عوامل ہیں جو عوام کو جمہوریت سے دور لے جاتے ہیں اور وہ تیسری قوت کے آنے پر جشن منانے پر مجبور ہوتے ہیں۔
یہ ہمارے سیاستدانوں کی ناکامی ہے کہ وہ آج تک عوام کو ملکی آئین کے تقدس پر ہی قائل نہیں کر سکے۔ جب سیاستدان اس آئین کو اپنے گھر کی باندی بنا کر رکھیں گے اور صرف اپنے مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے ملکی معاملات چلائیں گے جن میں عوام کہیں نظر نہ آتے ہوں تو ایسے آئین کا تقدس عوام کے سامنے کیاہو گا۔جس روز عوام کو آئین کے تقدس کا احساس ہو گیا اس روز کسی تیسری قوت کو اقتدار میں آنے کا خیال ذہن میں لانے کی جرأت بھی نہیں ہو گی مگر اس کے لیے سیاستدانوں کو انسان بننا ہو گا جو قطعی ناممکن ہے۔ جس ملک میں سیاستدانوں کی سیاست کا محورومرکز محض اقتدار کی دیوی سے بغلگیر ہونا ہو، وہاں بہتری کی امیدچہ معنی دارد؟
اب ایک بار پھر سیاستدان ایک دوسرے کو زچ کرنے کی غلیظ مہم انتہاء کو پہنچائے ہوئے ہیں۔ میں یہاں یہ بحث نہیں کرنا چاہتا کہ غلط کون ہے اور صحیح کون۔ میں یہاں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دونوں اطراف سے ہی حد سے تجاوز کیا جا رہا ہے۔ حکومت خود کو آئین و قانون سے بالاتر قرار دے چکی ہے اور کسی طرح کرپشن کی تحقیقات کے لیے خود کو پیش نہیں کرنا چاہتی اور اپوزیشن ملک کے کسی ایک ادارے پر بھی اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ اس کے لیے سڑکیں ہی سب کچھ قرار پا چکی ہیں۔ سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن، پارلیمنٹ وغیرہ وغیرہ سب اس کے نزدیک کرپشن کے گڑھ ہیں اور یہاں جتنے بھی لوگ بیٹھے ہیں کرپشن کے پروردہ ہیں۔ کیا اپوزیشن کی یہ سوچ کسی طوربھی درست قراردی جا سکتی ہے کہ پورے ملک میں، باقی تمام سیاسی جماعتوں میں، تمام ملکی اداروں میں سب کے سب کرپٹ اور چور بیٹھے ہیں، صرف یہ اپوزیشن جماعت ہی ستی ساوتری اور دودھ کی دھلی ہے، حتیٰ کہ ان کرپٹ اور چور جماعتوں سے بھی جو کوئی ان کی جماعت سے آ ملے وہ بھی پاک صاف ہو جاتا ہے۔
گزشتہ دھرنے میں تیسری قوت کے پاس بہترین موقع تھا اقتدار میں آنے کا، مگر اس وقت وہاں جو شخص براجمان ہے اس کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ شہیدوں کے خون کا وہ وارث ہے۔ اسے ایک نہیں، کئی کئی نشانِ حیدر پانے والوں کے پاک لہو کا بھرم رکھنا ہے۔ لہٰذا تاریخ کی سب سے بڑی ہڑبونگ مچا کر بھی سیاستدان اگر محفوظ ہیں، اس ملک کا سسٹم اگر محفوظ ہے، آئین محفوظ ہے تو یہ سب اسی نیک نام خاندان کے چشم و چراغ کی نیک نیتی کا مرہونِ منت ہے۔ مگر اس بار اپوزیشن جو کچھ کرنے جا رہی ہے وہ کسی طرح بھی آئین و قانون کے دائرے میں نہیں آتا۔ ان عقل کے اندھوں کو کوئی سمجھائے کہ یہ آئین و قانون توڑ کر کون سے آئین و قانون کی بالادستی قائم کرنے جا رہے ہیں؟ ایک ’’ملزم‘‘ کی سرکوبی کے لیے خود کئی طرح کے ’’جرائم‘‘ کا ارتکاب کرنے والے ان اقتدار کی دیوی کے پجاریوں کو کوئی سمجھا دے کہ صبروضبط کی کوئی حد ہوتی ہے۔ اب بھی اگر سیاستدان ہوش کے ناخن نہیں لیتے تو یاد رکھیں کہ عوام ایک بار پھر بھر چکے ہیں، اس بار ان مفادپرستوں کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل عوام کے ہاتھوں میں مٹھائی کے ڈبے ہوں گے۔ تب یہ ہوسِ اقتدار میں بدمست ہوئے ہاتھی کہاں ہوں گے، یہ وقت طے کرے گا۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ یہ کم از کم پاکستان میں نظرنہیں آئیں