- الإعلانات -

سی پیک منصوبہ خطے میں ترقی و خوشحالی کاضامن

وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ سی پیک سے ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی ۔پاکستان تجارتی سرگرمیوں کامرکز بن جائے گا ۔ پاکستان جنوبی ایشیاء وسط ایشیاء اور چین کے درمیان اہم تجارتی مرکز بنے گا اس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان چین اور خطے کے دیگر ممالک کو بھی فائدہ ہوگا ۔ وزیراعظم نے کہاکہ چند برس قبل سی پیک منصوبے کا خواب دیکھا تھا اب وہ حقیقت کا روپ دھار رہا ہے ۔ وزیراعظم نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ہمراہ پہلے تجارتی قافلے کے پائلٹ پراجیکٹ کا افتتاح کیا ۔ گوادر کے ذریعے چین اپنا تجارتی سامان با آسانی مشرق وسطیٰ اور افریقہ تک پہنچا سکے گا ۔ پاکستان میں چین کے سفیر سن دی ڈونگ نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین نے مل کر پہلی مرتبہ تجارتی قافلہ گوادر پہنچا دیا جس کے باعث آج کا دن انتہائی خوشی کا دن ہے۔ اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان سمیت پورے خطے کی قسمت بدل دے گا ۔ پاک چین راہداری منصوبے میں وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف کی سربراہی میں پاک فوج کے تعاون پر شکر گزار ہیں۔ پاکستان کے مغرب سے پہلی مرتبہ تجارتی قافلہ داخل ہورہاہے جسے پاکستان اورچین نے مل کر گوادر تک پہنچایا۔ اس منصوبے سے پاک چین تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔سی پیک منصوبہ پاکستان کے دشمن کو ہضم نہیں ہورہا ہے اور مکار دشمن اس منصوبے کی وجہ سے بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے اور بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ بھارت ایک طرف سرحدی قوانین کی خلاف ورزیاں کرتا چلا آرہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کے اندر دہشت گردی میں بھی اس کا عمل دخل ہے جس کے ٹھوس شواہد پاکستان کے پاس موجود ہیں۔ بھارت پاکستان میں عدم استحکام کرنے کی کوشش کررہا ہے اور سی پیک منصوبہ اس کیلئے پریشان کن بنا ہوا ہے۔ بھارت پاکستان اور دیگر ممالک کی ترقی و خوشحالی کا دشمن ہے اس کی سر توڑ کوشش ہے کہ یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچے لیکن یہ اس کی بھول ہے۔ بھارت اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو پائے گا ۔ سی پیک منصوبوں سے 17045 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی ۔ 1650 میگاواٹ بجلی 2017ء تک اور 3270 میگاواٹ 2018ء تک فعال ہو جائیں گے ۔ چین سے 85 کنٹینرز کا پہلا قافلہ جب گوادر پہنچا تو مکار دشمن کے پیٹ میں مروڑ پڑ گئے ۔ اس منصوبے سے پاک چین دوستی نے ایک ہمالیہ عبور کرلیا ۔ گوادر دنیا کا اہم ترین تجارتی مرکز کا روپ دھارے گا جس سے ترقی و خوشحالی خطے کا مقدر قرار پائے گی اس منصوبے سے چین کو فی یومیہ تیل کی مد میں 20کروڑ ڈالر فائدہ ہوگا اور سالانہ 5 ارب ڈالر تیل کی مد میں آمدنی ہوگی ۔ گوادر کے راستے دنیا بھر میں تجارتی سامان جاسکے گا۔ اس منصوبے سے سرمایہ کار پاکستان منتقل ہو جائیں گے ۔ سی پیک کا خواب حقیقت بن کر سامنے آگیاہے۔ مکار دشمن کے عزائم ناکام ہوں گے۔ بھارت سی پیک منصوبے سے خواہ مخواہ پریشان ہے اور دشمنی پر اتر آیا ہے۔ پاکستان دشمن کی سرگرمیوں سے بے خبر نہیں ہیں پاکستان ہر طرح کی سازش کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بھی مظالم ڈھائے ہوئے ہے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت نہیں دے رہا۔ دہشت گردی کروا کر دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانا چاہتا ہے لیکن اس کی یہ کوشش کبھی بھی کامیاب نہیں ہو پائے گی۔ کیونکہ دنیا بھارتی سرگرمیوں اور عزائم سے آگاہ ہے۔ بھارت کا پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا اور الزام تراشی کا مقصد دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانا اور ہمدردیاں حاصل کرنا ہے۔ لیکن عالمی ادارے بھارتی مکاری اور بھان متی کو جانتے ہیں ۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور اس کی خواہش ہے کہ پڑوسی ملک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھے جائیں لیکن بھارتی جارحانہ رویہ رکاوٹ ہے۔ بھارت سلامتی کونسل کی قراردادوں کو بھی دیدہ دانستہ نظر انداز کرتا چلا آرہاہے اور برسوں سے ان پر عمل درآمد نہیں کررہا اور الٹا پاکستان کیخلاف واویلا کررہا ہے۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل جیسے اداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی منظور کردہ قراردادوں کے تناظر میں مسئلہ کشمیر کو حل کرائیںآخر کب تک بھارت کی جارحیت اوردہشت گردانہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ظلم نے ایک نہ ایک دن مٹنا ہے اور مٹ کر رہے گا ۔ بھارت پاکستان کے خلاف مخاصمانہ اور دہشت گردانہ رویہ سے باز آجائے تو بہتر ہے سی پیک کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ کر رہے گا اوردشمن اپنی موت خود مر جائے گا۔ اس منصوبے کی کامیابی کا سہرا وزیراعظم اور آرمی چیف کے سرجاتا ہے جنہوں نے ہر سازش کا مل جل کر مقابلہ کیا اور دشمن کے خواب کو چکناچور کردیا ۔ اقتصادی راہداری منصوبے سے پاکستان سمیت پورے خطے کی نہ صرف قسمت بدلے گی بلکہ ترقی و خوشحالی ان کا مقدر قرار پائے گی۔
گیس قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا نے 15 نومبر سے گیس کی قیمتوں میں 36 فیصد اضافے کا فیصلہ کرلیا تاہم وزیراعظم نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی درخواست کو مسترد کردیا ۔ اوگرا کی جانب سے گیس کے نرخوں میں اضافے کی سمری وزیراعظم کو ارسال کی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ گیس کمپنیوں کی مالی ضرورت پوری کرنے کیلئے گیس کے نرخوں میں اضافہ کرنا قانونی طورپر لازم ہوچکا ہے ۔ حکومت نے ایڈوائس نہ دی تو اوگرا آرڈیننس کی روشنی میں 16 نومبر کو نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا ۔ حکومتی ذرائع کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں 36 فیصد اضافہ نہیں ہوگا ۔ وزیراعظم نے اوگرا کو گیس قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے گیس قیمتوں میں اضافے کی درخواست کو مسترد کرکے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں چیخ رہے ہیں اور خود ساختہ گرانی نے ان کی مالی مشکلات میں اضافہ کردیاہے اوپر سے گیس کے نرخ بڑھانا کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ۔ اوگرا کی سمری کا مسترد ہونا عوام الناس کیلئے خوش کن ہے۔ حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ عوام کو مہنگائی کے گرداب سے نکالے اور ان کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے لیکن تعجب ہے کہ اشیاء ضروریہ کے نرخ بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں جس سے عوام فکر فرداً میں پھنس کر رہ گئے ہیں تیل و گیس کی قیمتوں کو اعتدال پر رکھنا حکومت کے فرائض میں شامل ہے۔ حکومت کیلئے بہتر یہی ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے لوگ پہلے ہی گیس کے بحران سے دوچار ہیں اورتوانائی بحران ختم نہیں ہورہا کبھی گیس ان کو نہیں ملتی تو کبھی لوڈشیڈنگ کے عذاب سے ان کو دوچارہونا پڑتا ہے ۔ حکومت توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے کوشاں ہے اور اس کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ ثمرات عوام تک پہنچیں لیکن توجہ طلب امر یہ ہے کہ یہ کاوشیں حقیقی روپ دھارتے دکھائی نہیں دے رہی ہیں جس سے عوام پریشان ہے ۔ ایک طرف مہنگائی کا طوفان ہے تودوسری طرف بیروزگاری ان کا مقدر بنی ہوئی ہے۔ سماجی نا انصافی بھی ان کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں۔ عدم تحفظ کے شکار لوگ حکومت سے کافی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں اس لئے حکومت ترجیحی بنیادوں پر عوام کی مشکلات کو دور کرنے کیلئے اقدامات کرے اور عوام کے معیار زندگی کو بلند کرے ان کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے اورسماجی انصاف فراہم کرنے کیلئے اقدام کرے اور اشیاء ضروریہ کے نرخوں کو اعتدال پر لانے کیلئے ٹھوس حکمت عملی اپنائے، گیس ، بجلی کے نرخوں کو اعتدال پر رکھے تاکہ حکومتی ساکھ اوروقار بڑھے۔