- الإعلانات -

گوادر۔۔۔نئے دور کا نقش اول

اور بالآخر وہ وقت آ گیا جس نے وطن عزیز میں معاشی اور تزویراتی امکانات کے جہان تازہ کا نقش اول بننا تھا۔
گوادر میں کاشغر سے آئے قافلے کو خوش آمدید کہا گیا۔بندر گاہ فعال ہو گئی اور امکانات کا ایک جہان تازہ آباد ہو گیا۔
جس روز وطن عزیز یہ سنگ میل عبور کرنے جا رہا تھا اس سے صرف ایک روز قبل حب کو دہشت گردی کا نشانہ بنایاگیا۔یہ ایک افسوسناک اور شرمناک حرکت تو تھی ہی اس میں ایک میسج بھی دیا گیا۔یہ میسج ان قوتوں کی جانب سے بھی ہو سکتا ہے جو گوادر اور سی پیک منصوبے سے ناراض ہیں۔یہ قوتیں مقامی بھی ہو سکتی اور بین الاقوامی بھی اور ان میں کچھ ممالک بھی ہو سکتے ہیں جو پاکستان کو معاشی اور تزویراتی امکانات کی ایک دنیا آباد کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے ہوں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ جوں جوں پاکستان ترقی کی شاہراہ ر چلے گا یہ قوتیں توں توں اپنی مذموم حرکتوں میں تیزی لانے کی کوشش کر سکتی ہیں۔وزیر اعلی بلوچستان ثناء اللہ زہری کا کہنا ہے کہ سی پیک کی وجہ سے بلوچستان دہشت گردوں کے نشانے پر ہے ۔تو سوال یہ ہے کہ ان سے نبٹنے کے لیے سول سیٹ اپ کے پاس کیا منصوبہ ہے۔
سب کچھ تو ظاہر ہے فوج پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔فوج ایک علاقے کو دشمن عناصر سے کلیئر کروا دے گی اس کے بعد تو بہر حال پولیس اور دیگر سول شعبوں کو متحرک ہونا ہو گا ۔سوال یہ ہے کہ ہمارا یہ سول ڈھانچہ کس حالت میں ہے۔
عالم یہ ہے کہ پولیس کے جوان شہید ہوتے ہیں تو ان کے لاشے گھر بھجوانے کے لیے بلوچستان حکومت ایمبولینسز کا انتظام نہیں کر سکتی۔حب میں ذخمی لوگوں کو اگر بروقت طبی امداد مل جاتی تو بہت سی جانیں بچائی جا سکتی تھیں لیکن اس صوبے میں صحت کی سہولیات اور ذرائع آمد و رفت کا نظام انتہائی بری حالت میں ہے۔اس پر ہنگامی بنیادوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
معاشی حالت میں بہتریت کے ساتھ بلوچستان کو پارلیمانی سیاست میں مزید فعال بنانے کے منصوبوں پر غور کرنا ہو گا۔
آج قومی اسمبلی میں بلوچستان کی صرف 13نشستیں ہیں ۔اور ایک نشست این اے 271(خاران،واشوک،پنجگور) کے ایم این اے کا علاقہ پورے خیبر پختونخواہ سے زیادہ ہے۔اور ترقیاتی بجٹ صرف ایک کروڑ۔اب ان تیرہ نشستوں میں سے بمشکل پانچ یا چھ نشستیں اوپن ہیں۔ باقی کچھ ہیوی ہیٹس کی پاکٹ سیٹس ہیں۔جب پورے صوبے سے قومی اسمبلی کی نشستیں ہی اتنی کم ہوں تو نواز شریف یا آصف زردای کو کیا پڑی ہے وہ کوئٹہ،ژوب اور لورا لائی کے دھکے کھاتے پھریں۔ چنانچہ آج ہمارے سیاست دانوں کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ بلوچستان کے جھنجھٹ میں پڑیں۔ سیاست دان حساب سودوزیاں میں بڑا کائیاں ہوتا ہے۔اگر یہ نشستیں پچاس ساٹھ ہوتیں تو کیا عجب کہ نواز شریف صاحب اپنے اجلاس مری کی بجائے زیارت میں بلاتے اور محترم پرویز رشید ہمیں بتا رہے ہوتے کہ فیصلہ قائد اعظم کی محبت میں کیا گیا ہے کیوں کہ انہوں نے آخری ایام یہاں گزارے تھے۔جب مرکزی قیادت وہاں کا رخ کرتی تو وہاں کا احساس محرومی بھی کم ہوتا اور وہ قومی دھار ے میں بھی آتے۔
ہمیں اپنی نفسیاتی گرہوں کو کھولنا ہو گا۔کیا وجہ ہے کہ کل شیخ مجیب کو اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی بو آتی تھی اورآج ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ پوچھتے ہیں کہ تم نے مری تک تو گیس پہنچا دی مگر 80فیصد بلوچستان آج بھی اس سے محروم ہے؟آج بھی آپ بلوچستان چلے جائیں آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ آپ اس عہد جدید کی کسی بستی میں کھڑے ہیں۔وسائل کی تقسیم کا یہ حال ہے کہ جنرل عبدالقادر کا حلقہ تین ہزار کلو میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس کا ترقیاتی فنڈ انہیں مبلغ ایک کروڑ ملا ۔ حالت یہ ہے کہ راولپنڈی کے نالہ لئی کا بجٹ بلوچستان کے کل بجٹ سے زیادہ تھا۔ایک دو اضلاع کو چھوڑ کر باقی کا حال یہ ہے کہ کوئی گائناکالوجسٹ نہیں ملتی۔ذرائع آمدورفت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔پورے بلوچستان میں اتنی یونیورسٹیاں نہیں جتنی صرف راولپنڈی کی مری روڈ پر ہیں۔۔۔
سی پیک منصوبہ ایک غیر معمولی منصوبہ ہے ۔ہمیں اس منصوبے کو غیر معمولی توجہ سے کامیاب بنانا ہے۔اس کے لیے ناگزیر ہے