- الإعلانات -

سانحہ، شاہ نورانی لاہوتی، ’’را‘‘ اور این ڈی ایس ملوث

بحیثیت پاکستانی ہم’سانحہ ٗ شاہ نورانی درگاہ ‘ پر ماتم کرتے ہوئے اِسے اپنی جمہوری قیادت کی پے درپے ’سیاسی وسفارتی حکمت عملی ‘ کی ناکامی کا نام دیں یا اُن کے قوتِ فیصلے کی نااہلی کہیں یا اُن کی فکری و نظری ترجیحات کی کمزوری یا سست روی سے تعبیر کریں، سمجھ نہیں آتا، گزشتہ تین چار برسوں سے پارلیمنٹس میں حکومتی اراکین کی اکثریتی تعداد رکھنے کے باوجود اُنہیں ایسا کیا کسی کا کوئی خوف ہے یا وہ ڈر ے اور سہمے کیوں رہتے ہیں جبکہ ملکی سیکورٹی اداروں کا اُنہیں مکمل آئینی تعاون مل رہا ہے آج کتنے دن کتنے ماہ ہوچکے ؟ ملکی سیکورٹی اداروں نے ایرانی سرحدی علاقے سے بھارت کے حاضر سروس نیوی کے ایک کرنل رینک کے افسر ’کل بھوشن یادیو‘ کو گرفتار کیا تھا، جس تفتیشی مرحلے میں برملا اعتراف کیا کہ اُس نے اپنی حکومت کی ایماء پر بلوچستان اور کراچی میں جاسوسی کا ایک بڑا نیٹ ورک بنایا جس کے سرے اُس جانب افغانستان کے اندر تک پھیلے ہوئے ہیں اور اِس بھارتی خفیہ نیٹ ورک کو بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں اور کراچی شہر میں دہشت گردی کی وارداتیں کرنے کا ’ٹاسک‘ ملا ہوا ہے کئی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے دنیا کی دوبڑی طاقتوں امریکا اور سابق سوویت یونین روس کے مابین ماضی کی سرد جنگ میں کسی ایک فریق نے’ خفیہ پراکسی وار‘ میں کسی بھی افسر رینک کے خفیہ ایجنٹ کو یوں رنگے ہاتھوں نہیں پکڑا ‘ قوم اپنے سیاسی قائدین سے کیا یہ پوچھنے میں حق بجانب نہیں ہیں کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور کراچی کو مسلسل عدم استحکام سے دوچار کیئے رکھنے والی بھارتی خفیہ سازش کے بے نقاب ہونے کے واضح اور ٹھوس ثبوت ملنے کے باوجود اسلام آبادحکومت کی ’خاموشی‘ کے کیا معنیٰ؟ یہ جمہوری حکومت منہ پہ تالے ڈالے کس موقع کی تلاش ہے؟ کل بھوشن یادیونیٹ ورک سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ ( ن ) کی حکومت نے ملکی دفاعی استحکام کے خلاف کی جانے والی ’بھارتی سازش‘ کو نہ تو اقوامِ متحدہ میں اٹھا یا نہ ہی اِس اہم حساس ایشو کو دنیا کے دیگر بڑے ممالک کے ساتھ ہماری حکومت ’شیئر‘ کرسکی ؟ آخر اِس کی وجہ کیا ہے نومبر میں لگاتار کراچی میں دہشت گردی کے چار واقعہ ہوگئے اور بلوچستان میں دہشت گردی کے تین افسوس ناک واقعہ میں دوڈھائی سو کے لگ بھگ پاکستانی اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، زخمیوں کی تعداد پانچ سو تک پہنچ گئی اور اب کراچی سے ملحق بلوچستان کے شہر حب کے قریب پہاڑی پر واقع درگاہ شاہ نورانی کو اُس وقت دہشت گردوں نے اپنی انسانیت کش مذموم کارروائی کے لئے منتخب کیا، جب برسہا برس سے ہفتہ اور اتوار کی شب وہاں ملک بھر سے زائرین کی واضح اکثریت جمع ہوتی ہے یقیناًاِسے کسی قسم کا سیکورٹی لیپس نہیں کہا جاسکتا چونکہ دہشت گردی کے لئے مقام کے ہدف کا تعین یہ قابلِ مذمت مکروہ اور خونخوار دہشت گرد خود کرتے ہیں’ سافٹ ہجوم‘ کے متلاشی اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں بڑی ہلاکتیں ہونا اِن کا خاص مطمعِ نظر ہوا کرتاہے اِس میں کوئی شک نہیں اِس بار اِنہوں نے ’شاہ نورانی لاہوتی لامکاں‘ کی درگاہ انتخاب کیا جو حب کی کوسٹل ہائی وے سے کچے کے دشوار گزار علاقہ میں مزید کئی انتہائی مشکل ترین بڑے بڑے پہاڑی پتھروں کو عبور کرکے ایک بڑی اونچی چٹان پر قائم ایک قدیم درگاہ کو اُنہوں نے اپنی وحشت ناک دہشت گردی کا نشانہ بنایا جہاں سینہ بہ سینہ پہنچی ہوئی عقیدتوں سے مغلوب ملک بھر سے لوگوں کے قافلے پہنچتے ہیں‘ ایک سوال کیا یہ حقائق بلوچستان اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کے علم میں تھے یا پھر وہ جان بوجھ کر اپنی آئینی ذمہ داریوں سے کماحقہ عہد ہ برآنہ ہوسکے برسہا برس سے وہ خود دیکھ رہے ہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں زائرین ’شاہ نورانی لاہوتی‘ بطور زیارت جاتے ہیں 11 ؍نومبر جمعہ کی شب نمازِ مغرب کے بعد زائرین کے ہجوم میں ’دہشت گرد‘ نے جب خود کش حملہ کیا تو وہاں ایک قیامت برپا ہوگئی، اوّل تو معلوم اطلاعات کے مطابق مزار پر لائٹ کا کوئی انتظام نہ تھا ،اُوپر سے حب شہر کے مین روڈ سے مزار تک ایک باقاعدہ روڈ’ٹریک‘ بنانے کی کبھی کوئی ذمہ داری کیوں محسوس نہیں کی گئی ؟ مزار تک باقاعدہ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے اور حب شہر میں ضلعی اسپتال کی ضروری سہولیات نہ ہونے کی بناء پر اِس مذکورہ بالا خود کش حملے میں قیمتی انسانوں جانوں کو بچایا نہ جاسکا افسوس! بلوچستان حکومت کو اپنی اِس غفلت کا بہر حال جواب دینا ہی ہوگا‘ آخری اطلاع آنے تک اِس سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 60-62 تک جاپہنچی جبکہ شدید زخمیوں کی تعداد بھی کم نہیں‘ جو نہ جی سکتے ہیں نہ مرسکتے ہیں اُن کی تو زندگی ہی ختم سمجھیں ‘ جیسا ہم بین السطور بیان کرچکے کہ اگروفاقی حکومت ’کل بھوش یادیو نیٹ ورک‘ کے حساس مسئلہ پر تعجب خیز ’خاموشی‘ نہ برتتی اور ساتھ ہی جیسا کہ عالمی اور ملکی میڈیا میں بڑے تواتر سے گزشتہ دِنوں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ ملٹری کورٹس سے سزائےِ موت پانے والے دہشت گردوں کی سزاکی توثیق آرمی چیف بھی کرچکے غالباً128 ایسے دہشت گرد ہیں جن کی سزائےِ موت کی توثیق کی جاچکی ہے جن میں سے اب تک صرف 15-16 دہشت گردوں کو پھانسی پر لٹکایا گیا بعض کی سزائےِ موت کی سپریم کورٹ نے بھی توثیق کردی تاحال اُنہیں نجانے ’کس انتظار‘ میں پھانسی نہیں دی جارہی؟دہشت گردوں کے نزدیک وفاقی حکومت کا یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ وفاقی وزارتِ داخلہ میں جیلوں کے شعبے کے اعلیٰ ذمہ دا ر حکام دہشت گردوں کے ’سہولت کاروں ‘ کے’ سہولت کار‘ بنے اُن کو شہ پر شہ دینے کی پالیسیوں پر گامزن دکھائی دیتے ہیں اگر آرمی پبلک اسکول پشاور کے سانحے کے بعد جس تیزرفتاری سے یک بعد دیگرے دہشت گرد پھانسی کے تختے پر چڑھائے جانے لگے تو یاد ہے نا ‘کہ ملک بھر میں دہشت گردوں کو کیسا سانپ سونگھ گیا تھا خوف زدہ چوہوں کی طرح بلوں میں جاگھسے تھے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور افغان خفیہ ایجنسی ’این ڈی اے‘ اسلام آباد حکومت کے اِس بارے میں’ اغماض‘ برتنے کی افسوس ناک پالیسی کی آڑ میں متحرک ہوتی نظرآرہی ہیں حالیہ ’سانحہ ِٗ شاہ نورانی لاہوتی‘ایک ایسے موقع پر کیا گیا جب حب‘ خضدار اور پسنی سے کچھ فاصلے پر پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی تکمیل کے ابتدائی مرحلے پر چین سے آنے والے پہلے تجارتی کھیپ کو گوادر پورٹ سے جہازوں تک پہنچانے کا تاریخی آغاز ہونے جارہا ہے ، ظاہر ہے یہ مقام بھارت کے لئے ڈوب مرنے جیسا مقام ہے، بھارت گوادر پورٹ کو چین کی مدد سے فنکشنل ہوتا ہوا دیکھنا نہیں چاہتا تھا یہ صورتحال دیکھ کر بھارت کے سینے پر یقیناًسانپ لوٹ رہے ہوں گے انسانیت کا احترام کبھی بھارت کے نزدیک محترم نہیں رہا جبھی تو غیض کے عالم میں اُس نے پاکستان دشمن افغان تنظیم این ڈی اے کے انسانیت دشمن تعاون سے ’شاہ نورانی لاہوتی ‘ کے مزار پر آئے ہوئے معصوم زائرین کی جتنی جاگتی ہوئی تصویروں کو جلتی ہوئی لاشوں کے انبار میں