- الإعلانات -

وطن عزیز میں دہشت گردی، کیا داعش ذمہ دار ہے؟

بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ میں درگاہ شاہ نورانی کے احاطے میں دھمال کی جگہ پر خود کش دھماکے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 52سے زائد افراد شہید اور110سے زائد زخمی ہو گئے۔ تحصیل وڈھ اختر مینگل کا علاقہ ہے اور اس کے نزدیک حب ہے۔آرمی چیف کی ہدایت پر آرمی کی امدادی ٹیمیں بھی علاقے میں پہنچ گئیں جبکہ بیشتر زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کی وجہ سے ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق درگاہ کے احاطے میں لاشیں ہی لاشیں بکھری پڑی تھیں جبکہ کمشنر قلات نے خود کش حملے کی تصدیق کی۔ داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے ۔شاہ نورانی درگاہ پہاڑ پر ہونے اور رات کے اندھیرے کی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ علاقے میں پی ٹی سی ایل اور کوئی بھی موبائل نیٹ ورک کام نہیں کرتا۔ زخمیوں کو ابتدائی طور پر مقامی ڈسپنسری میں منتقل کیا گیابعد ازاں کراچی زخمی لائے جانے پر سول ہسپتال کراچی میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ کراچی سے شاہ نورانی کا فاصلہ 200کلو میٹر ہے۔یہاں ہر روز مغرب کے بعد دھمال ہوتی ہے۔ ہفتے اور اتوار کی شام دور دراز سے لوگ بڑی تعداد میں آتے ہیں۔صدر مملکت ممنون حسین نے دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق اور زخمی ہونے والے کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقدس مقامات کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے والے انسانیت اور قومی ترقی کے دشمن ہیں ناکامی ان کا مقدر ہے۔نواز شریف نے درگاہ شاہ نورانی میں دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور فوری امدادی سرگرمیوں کی ہدایت کر کے کہا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمیوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔واقعہ میں ملوث افراد کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ ایک طرف حکومت ملک میں دہشت گرد تنظیم داعش کی عملی طور پر موجودگی نہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے تو دوسری طرف اسے داعش کے حملوں کا خطرہ بھی ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خبردار کیا ہے کہ داعش صوبے میں مختلف مقامات پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔نجی اداروں پر حملے کے خدشے کے حوالے سے انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 5 دہشت گردوں کا گروپ لاہور پہنچ چکا ہے جو نجی اداروں بالخصوص ان کے سیکیورٹی گارڈز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔انٹیلی جنس حکام کے مطابق اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اور غیر ملکی بھی دہشت گردی کا نشانہ بن سکتے ہیں۔داعش کے حملوں کے حوالے سے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی یہ رپورٹ وفاقی حکومت کے ان دعوؤں سے متصادم ہے کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں۔ہر خود کش دھماکہ یا تخریب کاری، دہشت گردی کے بعد داعش ذمہ داری قبول کر لیتی ہے تو یہ کون ہیں جو داعش کے نام کو استعمال کر رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنیوالے ادارے کی رپورٹ کے مطابق ’دولت اسلامیہ‘ کہلانے والی تنظیم کا پاکستان میں نیٹ ورک موجود ہے۔ تاہم یہ دعویٰ بھی کیا کہ ملک میں ’دولت اسلامیہ‘ کے نیٹ ورک کے خلاف موثر کارروائی عمل میں لاتے ہوئے اس کا بڑی حد تک خاتمہ کردیا گیا ہے۔ بعض مذہبی جماعتیں ’دولت اسلامیہ‘ جسے داعش بھی کہا جاتا ہے، کی سوچ کی حمایت کرتی ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اس تنظیم کی حمایت کرتی ہے جبکہ افغانستان میں ایسا نہیں ہے۔کراچی میں گزشتہ سال مئی میں ہونے والے سانحہ صفورہ گوٹھ کے بعد پنجاب بھر میں داعش کا نیٹ ورک پکڑا گیا ہے اور تنظیم کے متعدد اراکین گرفتار بھی کیے گئے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس انکشاف کے بعد کم ازکم یہ واضح ہے کہ اب حکومتی سطح پر بھی داعش کے خطرے کی موجودگی کا ادراک پایا جاتا ہے۔ کئی حلقے کافی عرصے سے داعش کے خطرے کے بارے میں بات کر رہے تھے لیکن ریاست یہ سمجھ رہی تھی کہ شاید داعش کا خطرہ تب ہو، جب شام یا عراق سے اس تنظیم کا کوئی گروپ یہاں آئے گا۔