- الإعلانات -

بھارت کا وحشی پن، بڑے تصادم کا خطرہ

لائن آف کنٹرول پر بھارتی بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔پے در پے خلاف ورزیوں کے اس سلسلے میں گزشتہ روز پاک فوج کے سات جوان شہید ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اتوار کی رات کے آخری پہر میں بھارتی فوج نے ایل او سی کے بھمبر سیکٹر پر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں سات فوجی جوان شہید ہوئے۔پاکستان نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔لائن آف کنٹرول پر ہندوستانی فائرنگ کے بعد پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر گوتم بمبا والا کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاجی مراسلہ بھی دیا گیا۔وزیر اعظم محمد نواز شریف نے بھی کنٹرول لائن پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت نوشتہ دیوار پڑھنے سے قاصر ہے، مقبوضہ کشمیر میں نئی جدوجہد مقامی تحریک ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے،بھارت کا مقصد کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں وطن کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، بھارتی فورسز کی ایل او سی پر مسلسل اشتعال انگیزی تشویشناک ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے فائرنگ کے واقعے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ بھارتی قیادت خطے کیلئے خطرے کا باعث ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت ہر اس چیز کے خلاف ہے جو پاکستان کو بحران سے نکال کر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔انہوں نے سی پیک کے پس منظر میں درست کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی کامیابی بھارت اور ہمارے دشمنوں کے کی ناکامی ہے اور پاکستان کی تباہی کے خواب چکنا چور ہوچکے ہیں۔بھارت کی طرف سے اڑی حملے کے بعد حالیہ دنوں میں سرحدی خلاف ورزیوں کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اب تک دو سو سے زائد ایسی خلاف ورزیاں ہوچکی ہیں۔عالمی برادری کو بھارتی اشتعال انگیزی کا نوٹس لینا چاہیے کیوں کہ جوہری طاقت کی حامل دو ریاستوں کے درمیان کشیدگی پورے خطے کیلئے تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ صرف یہی نہیں پاکستان میں دہشت گردی کو بھی بڑھاوا دینے کی کوششیں بھی تیز کردی گئی ہیں۔اس سلسلے میں بلوچستان کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے جو سی پیک کی وجہ سے دشمن کی آنکھ میں پہلے سے زیادہ کھٹکنے لگا ہے۔گزشتہ روز گوادر پورٹ پر اہم تقریب سے قبل شاہ نورانی درگاہ پر دھماکا جبکہ اس سے قبل پولیس ٹریننگ سنٹر پر حملہ اگر ان واقعات کا جائزہ لیں تو بھارتی را اور این ڈی ایس کا ہاتھ نظر آتا ہے۔ اس سب کچھ کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان خطے میں بھارت کے ایجنڈے کو قبول کرلے اور کشمیر کے معاملے سے دستبردار ہوجائے۔بگڑتی ہوئی صورتحال میں پاکستان بین الاقوامی سطح پر اس معاملے کو اٹھائے اگرچہ 11نومبر کو سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک کے سفیروں کو بھارتی اشتعال انگیزی پر بریفنگ دی تھی۔دفتر خارجہ میں دی جانے والی بریفنگ میں اعزاز چوہدری نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بانڈری کے اطراف میں شہری آبادیوں اور دیہاتوں کو، بھارتی فورسز کی جانب سے جان بوجھ کر نشانہ بنانے پر تشویش کا اظہار کیا تھا لیکن محض تشویش سے بات نہیں بنے گی بلکہ امریکا، چین، روس، برطانیہ اور فرانس کے سفیروں کو ان علاقوں کا دورہ کرائے۔ان کو دکھایا جائے کہ کس طرح بھارتی فورسز اب بھاری توپ خانے کا استعمال کررہی ہے،بھارت کی جانب سے13 سال بعد بھاری ہتھیاروں کا استعمال 2003کے سیز فائر کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔تازہ واقعہ سے قبل 8نومبر،31اکتوبر، 30 اکتوبر،19 اکتوبر کو بھی لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوتی رہی ہے۔ان واقعات کے بعد ہندوستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو کئی مرتبہ دفتر خارجہ طلب کرکے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر احتجاج ریکارڈ کرایاگیا اوربھارتی سفارتکار سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس بات کی یقین دہانی کرائیں کہ ان واقعات کی تحقیقات کی جائیں گی مگر بھارت کیجانب سے ایسا کچھ نہ ہوا اور یہ سلسلہ جاری ہے۔بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی کے باعث کسی بڑے تصادم کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے تاہم پاکستان اور بھارت دونوں ہی جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے اور نہ ہی جنگ کسی کے مفاد میں ہے۔ ایسی خلاف ورزیوں سے بھارت کا چہرہ بھی بے نقاب ہورہا ہے۔ بھارت کو چاہئے کہ وہ خطے میں کشیدگی کو بڑھانے سے گریز کرے اور اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا سیکھے۔ادھر اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں بھارت سے اس ضمن میں کچھ پوچھنے سے گریزاں ہیں جس سے بھارت کو شہ ملتی ہے ۔ اس دوہرے معیار سے پاکستانی اور کشمیری عوام امریکہ سے متنفر ہو رہی ہے اور یواین او سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔اقوام متحدہ جو عالمی تنازعات کے خاتمے کیلئے ہی وجود میں آئی تھی کو کشمیر کے معاملے میں ناکامی کا سامنا ہے جسے المیہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔
روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام
میانمار میں ایک بار پھر روہنگیا مسلمانوں پر ظلم ڈھایا جانے لگا ہے۔وہاں کی فوج بھی مسلمانوں کی دشمن بن گئی اور مغربی ریاست رخائن میں فوج کی گن شپ ہیلی کاپٹروں سے مسلمانوں کے ایک دیہات پر شیلنگ سے مزید25 افراد شہید ہوگئے جبکہ کئی دیہات جلاکر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیئے گئے۔ ایک روز قبل بھی اسی علاقہ میں 22 مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ کی جاری تصاویر میں جلے ہوئے گاؤں دکھائے گئے ہیں، اس علاقے میں 430 عمارتوں کو جلایا گیا۔روہنگیا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ حکومت ایک منصوبے کے تحت مسلمان اقلیت کو اپنے دیہات سے نکلنے پر مجبور کر رہی ہے۔ مسلمانوں کو برمی آبادی کی طرف سے بڑے پیمانے پر ناپسند کیا جاتا ہے جو انہیں بنگلہ دیش سے آئے ہوئے تارکین وطن سمجھتے ہیں۔شمالی راکھین میں روہنگیا مسلم برادری کی اکثریت ہے اور یہ علاقہ بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اقوام متحدہ کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔
نظرثانی درست فیصلہ ہے
ترک صدر کی پاکستان آمد پر پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کا عندیہ دیا ہے جبکہ اس سے قبل تحریک انصاف کی طرف سے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا تھا۔نظر ثانی سے قبل پی ٹی آئی کے ایک وفد نے پاکستان میں ترک سفیر سے ملاقات کی تھی جس کے بعدشرکت کا عندیہ دیا گیا ہے۔یہ ایک احسن فیصلہ ہے ۔ترکی ایک برادر اسلامی اور دوست ملک ہے ،اسکے صدر کی پاکستان آمد پر پارلیمنٹ کا بائیکاٹ نہ مناسب تھا۔حکومت سے اختلافات کوایک برادر دوست ملک کے تعلقات میں گھسیٹنے سے ترکی کی عوام کو غلط پیغام جاتا۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان آج دو روزہ دورہ پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ دفترخارجہ کے مطابق صدر اردگان کے ہمراہ وزراء، اعلیٰ اور حکام سمیت ایک اعلیٰ سطحی وفد آرہا ہے جبکہ