- الإعلانات -

ایل او سی پر بھارتی فوج کی اشتعال انگیزی،حد سے بڑھ گئی

نریندرا مودی کی قیادت میں بھارت کے اندر انتشار اِس قدر بے قابو ہورہا ہے جس کی خبریں حکومتی سطح پر دیش سے باہر نہیں آنے دی جارہیں ‘ کوئی ریاست کتنا ہی زور لگادے ‘کتنا ہی جبر وتشدد آزما لئے اپنے وسیع وعریض جغرافیائی حدوداربع کو برقرار رکھنے کے لئے اپنی ریاستی مشنری کو جیسے چاہے استعمال کرلئے نتیجہ صفر ہی برآمد ہو گاوہ اِس لئے کہ جو قومیں محکوم ومحروم رکھی جاتی ہیں اُن کے انسانی حقوق اُنہیں نہیں دئیے جاتے اُن کے سماجی وثقافتی اقدار کو مسلسل پائمال کرنے کی پالیسی اختیار کی جاتی ہے وہ ریاستی ظلم وزیادتی کو بالاآخر تسلیم کرنے سے یکدم انکار کردیتے ہیں ریاستی جبر و ظلم کے خلاف وہ پھر سینہ سپر ہوجاتے ہیں ہمارا اشارہ بھارت کی طرف ہے آجکل کی نئی ٹیکنالوجی کے عہد میں جب دنیا سکڑ تی جارہی ہے بھارت جیسے بڑے ملک‘ جہاں سینکڑوں قسم کی نسلی اکائیاں زبردستی اکھٹی رکھنے کا جو تجربہ ہورہا ہے وہ ناکام نہیں دکھائی دیتا ‘ بھارت جیسی ریاستیں ‘جہاں کے عوام کی80% آبادی کو انسانی بنیادی سہولیات نام کو بھی میسر نہیں ‘ جس ’نام نہاد یونین‘ یا دیش میں مذہبی جنونیت کی فرقہ واریت کی آگ نے کئی صدیوں سے آباد نسلی آبادیوں میں سماجی انتشار کے شعلے بڑھکا نے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہو ایسی ریاستیں اپنے اندرونی سماجی ومعاشرتی خلفشار کی وجہ سے یا تو خود بخود ختم ہوجاتی ہیں یا داخلی انتشار اُسے اپنی مرکزیت برقرار رکھنے نہیں دیتا بھارت کی ہی ایک وہ اہم پریشانی ہے جس نے اُسے اپنے اصل داخلی امراض کی تشخیص کی جانب توجہ پر مائل ہونے ہی نہیں دیا وہ تو بس مقبوضہ جموں وکشمیر پر اپنا ناجائز قبضہ جمائے رکھنے اور پاکستان کے خلاف ہمہ وقت الزام تراشیاں کرنے پر اپنا وقت اور اپنا قیمتی سرمائیہ بے دریغ لٹا رہا ہے آج نہیں تو کل بھارت کو کشمیر چھوڑنا ہی پڑے گا لیکن اِس کے ساتھ ساتھ جنوبی ہند میں جاری کئی علیحدگی کی تحریکوں سے نمٹنے کا شائد وہ وقت گنوا دے بھارت کا یہ طرزِ فکر اُسے یقیناًلے ڈوبے گا‘ جیسے کہ ایسی اور بھی کئی بڑی طاقتیں اپنے وسیع وعریض جغرافیائی محل ووقوع کو اِس وجہ سے قائم نہیں رکھ سکیں چونکہ وہ اپنی بے پناہ آبادی کے 90% حصہ تک اُن کی بنیادی سہولیات اور انسانی ترقی کے ثمرات پہنچانے میں ناکام رہیں، یہی مناظر آجکل بھارت میں بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں اِس کے علاوہ بلکہ اِس ے جڑی ایک اور تلخ حقیقت بھارت نے ہمیشہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ وہ اندرونی بھارتی علاقہ کے کروڑوں عوام کی بھوک‘ پیاس اور مفلوک الحالی کے علاوہ اُن کی صحت و تعلیم پر اپنی توجہ مرکوز کرتا اُس نے اپنے پڑوسی ممالک کو مسلسل پریشانِ حال رکھنے ‘ اُن کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے ‘ اپنے پڑوسی ممالک کی مجموعی ترقی وخوشحالی کی راہ میں کانٹے بچھانے پر اپنی ساری توجہ رکھی مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری تحریکِ آزادی کشمیری عوام کی جاری جدوجہد کو وہ جان بوجھ کر تسلیم نہیں کرتا جیسا کہ ناگالینڈ‘ میزورام ‘ تری پورہ ‘ میگھا لہ ‘ منی پور اور آسام کے حریّت پسند عوام گزشتہ68 برسوں سے مسلح جدوجہد کے نتیجے میں کئی کامیابی حاصل کرچکے بھارتی فوجیوں کے تابوتوں کے سلسلے روکنے میں نہیں آرہے نئی دہلی سے اپنی مکمل علیحدگی کے لئے نبرد آزما جنگجوؤں سے ہونے والی لڑائیوں سے بھی نئی دہلی کی آنکھیں اگر نہیں کھولتیں اور وہ صرف اپنی تمام توانانیاں مشرقی سرحد پر قائم بین الااقوامی باونڈری کنٹرول لائن پر پاکستانی فوج کی نگرانی کی چوکیوں پر بلا اشتعال فائرنگ کرکے کشمیر کی تحریک کو دبانے کی جو ناکام اور انتہائی بیوقوفانہ اور احمقانہ خطرناک حرکات کا مرتکب ہورہا ہے ذرا غور فرمائیں’ عالمی ثالثی‘ کے نام پر قائم اقوامِ متحدہ کی کیا آنکھیں اور کان بالکل بند ہیں یہ مزید خطرے کی علامت سمجھیں بھارتی فوج نے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر گذشتہ ماہ سے کھلی جارحیت کا جو بہیمانہ سلسلہ شروع کر رکھا کیا وہ جانتے نہیں کہ اس سال2016 میں اب تک انڈیا کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی 178 خلاف ورزیوں میں پاکستان کے 50 شہری شہید اور150زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 13 اور14 ؍نومبر اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو بھارتی سیکورٹی فورسنز نے پہلی بار اپنی حدود کو اِس حد تک پار کیا اُنہوں نے بھاری ہتھیاروں سے پاکستان کی جانب گولہ باری کی بوچھاڑ کردی جس سے پاکستانی فوج کا بڑا جانی نقصان تو ہوا جس میں پاکستانی فوج کے 7 جوان جاں بازی اور جاں نثاری کا دلیرانہ مقابلہ کرتے ہوئے مادرِ وطن پر قربان ہوگئے اِس انتہائی حساس اور سنگین موقع پر سیکٹر بھمبر سے پاکستانی فوج نے بھی بھارتی چوکیوں کو تنگی کا ناچ نچادیا جسے بھارتی میڈیا نے چھپانے کی بڑی کوشش کی لیکن غیر جانبدار عالمی میڈیا بلکہ روزنامہ ہندو نے بھی یہ خبر فائل کرہی ڈالی تاکہ بھارتی عوام کو علم ہوسکے کہ اُن کے لیڈر بھارت کو کہاں لے جارہے ہیں ’ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر ہونے والی اِس لڑائی میں پاکستانی فوج کا پلڑا بھاری رہا 7 پاکستانی فوجیوں کی شہادت کے بدلے پاکستان نے بھارتی فوج کے13 فوجیوں کو واصلِ جہنم کیا جس میں ایک بھارتی فوج کا میجر بھی شامل ہے کشمیر میں آزادی کی اُٹھنے والی تازہ لہر میں کسی صورت بھی اگر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے تو یہ بھارتیوں کی بہت بڑی غلط فہمی ہے کشمیر میں اہلِ کشمیر خود ایک نمایاں فریق ہیں جو بھارتی فوج کے غاصبانہ قبضے کو قطعی تسلیم نہیں کرتے کشمیری اپنی آزادی کی جائز جدوجہد خود اپنے وسائل سے کررہے ہیں بھارت کشمیر میں روز بروز زیادہ تیزی سے اُٹھنے والی تحریک سے بہت زیادہ گھبرایا ہوا ہے اُس کے پاس اِس بارے میں کوئی معقول راستہ نہیں ‘نئی دہلی کے پاس کوئی صحت مند اور منطقی دلیل نہیں‘ لے دیکے وہ ورکنگ باونڈری اور لائن آف کنٹرول کو ’کنڑوورشل‘ بنا کر دنیا کی نظریں کشمیر کی تحریک سے ہٹانا چاہ رہا ہے جس میں اُسے کسی صورت کامیابی نہیں ہوسکتی حال میں باہر کی دنیا کو بھارت کی جانب سے یہ تاثر دینا ممکن بھی نہیں کہ یہ ساری تحرکیں پاکستان کی شہ پر جاری ہیں کیونکہ پاکستان کی 79 سالہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان نے ساری دنیا خصوصا ہمسایہ ممالک سے ہمیشہ بقائے باہمی کے اصولوں کے تحت سفارتی تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن پھر بھی برائے بحث ایک لمحے کے لیے یہ مان بھی لیا جائے کہ پاکستان بھارت کے سیاسی عدم استحکام کا خواہا ں ہے؟ تو یہ امر قابل توجہ رہنا چاہیئے کہ کیا پاکستان اتنے وسائل کامالک ہے کہ بھارت جیسے اتنے بڑے ملک میں اتنے وسیع پیمانے پر بدامنی پیدا کرسکے اور اسے اتنے طویل عرصے تک جاری رکھنے کا اہل بھی ہو ؟ بہر کیف، بھارت کشمیری مجاہدین کو’’ کرائے کا باغی ‘‘قرار دے کے جس بے بنیاد مفروضاتی پر وپیگنڈے کا مرتکب ہو ر ہاہے زمینی حقائق اس کی بالکل تائید نہیں کرتے حالات و واقعات قدم قدم بھارت کے ان دعوؤں کو غلط ثابت کرتے ہیں جسے نئی دہلی کے باشعور سیاسی حلقوں میں یہ احساس اب بیدار ہونے لگا ہے کہ مودی کی آمد کے بعد کشمیر کے حالات اور بھی بدتر ہوگئے کیونکہ کہ پہلے شدت پسندوں کی کاروائیاں صرف سویلین علاقوں تک محدود رہا کرتی تھیں مگر اب ان کا نشانہ براہ راست دیش کے فوجی بن رہے ہیں یوں یہ بات بھی اور کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کون سا’’ فریق کرائے کا فوجی‘‘ کہلانے کا مستحق ہے؟ اِس کا جواب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کی