- الإعلانات -

اقوام متحدہ بھارتی جارحیت کا نوٹس لے

وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس بڑی اہمیت کا حامل قرار پایا۔اجلاس میں قومی سلامتی مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر سینئر حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز نے ایل او سی کی صورتحال پر بریفنگ اور بھمبر میں سات پاکستانی فوجیوں کی شہادت پر حکومتی ردعمل سے متعلق شرکا ء کو آگاہ کیا۔وزیراعظم کے مشیر نے وزیراعظم کو بھارت کی جانب سے شہری آبادی کے علاقوں کو ہدف بنا کر اندھا دھند فائرنگ کرنے اور گولہ باری کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بارے میں آگاہ کیا۔ 2003ء کی سیز فائر مفاہمت اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے شہداء کے خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان بھارتی تشدد کے باوجود انتہائی ضبط کا مظاہرہ کر رہا ہے جسے ہماری کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ پاکستان کو ایسے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں کیا جا سکتا اور ہم کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنی سرزمین کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں دانستہ اضافہ علاقائی امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ یہ بھارتی حکام کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے نہتے اور بے گناہ افراد کے خلاف بدترین نوعیت کے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کو لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں بلا جواز اضافہ کا نوٹس لینا چاہئے۔ ہماری مسلح افواج فائر کرنے میں پہل نہیں کرتیں لیکن وہ کسی بھی جارحیت کا ہمیشہ بھرپور انداز میں جواب دیں گی۔ وزیراعظم کو امریکہ میں حالیہ صدارتی انتخابات کے تناظر میں پاک امریکہ تعلقات کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ دوطرفہ تعلقات کو مزید تقویت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان مضبوط اور سٹریٹجک شراکت داری 7 دہائیوں کے طویل عرصہ پر محیط ہے۔ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن، سلامتی اور خوشحالی کے حصول کے لئے امریکہ کی نومنتخب حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔وزیراعظم نے درست کہا ہے بھارتی افواج دیدہ دانستہ سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کرتی چلی آرہی ہے جس سے علاقائی امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور خطے کا امن اس کو عزیز ہے لیکن بھارتی رویہ پاکستان کیلئے درد سر بنا ہوا ہے۔ بھارت پاکستان کی امن پسندی کو کمزوری نہ گردانے پاک افواج کسی بھی جارحیت کا دندان شکن جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ۔ بھارت ایک طرف پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھی ملوث ہے تو دوسری طرف لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی اس نے اپنا معمول بنا لیا ہے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں بھی ریاستی تشدد اور مظالم کررہا ہے ان حالات میں پاکستان آخر کب تک صبروتحمل کا مظاہرہ کرتا رہے گا۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو اب آگے آنا چاہیے اور پاک بھارت کشیدگی کو ختم کرانے میں اپنا کردار اداکرنا چاہیے اور سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کا ادراک کرانا چاہیے جب تک مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہوگا خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ پاکستان دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اقوام متحدہ کو بھارتی جارحیت کا نوٹس لینا چاہیے اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ برسوں سے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل جیسے ادارے بھارتی جارحیت پر خاموش تماشائی بنے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جو لمحہ فکریہ ہیں۔ سلامتی کونسل کوچاہیے کہ وہ اپنی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کروائے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دلوانے میں کوئی لمحہ فروگزاشت نہ کرے یہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے اس سے پہلو تہی کرنا انصاف کے منافی ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ سے یہ امیدرکھتا ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا اور پاک بھارت کشیدگی کو ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔
آرمی چیف کا دورہ شمالی وزیرستان
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے شمالی اور جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا انہیں سٹیبلائزیشن آپریشنز، عارضی بے گھر افراد کی واپسی اور فاٹا میں ترقیاتی کاموں کے بارے میں بریفنگ دی گئی ۔ عارضی بے گھر افراد کی واپسی کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آرمی چیف نے بے گھر افراد کی بلا رکاوٹ اور بروقت واپسی کیلئے تمام متعلقہ افراد کی کوششوں کو سراہا ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ باقی ماندہ عارضی بے گھر افراد کی واپسی مقررہ وقت کے اندر 2016 کے اختتام سے قبل مکمل کی جائے ۔ جامع بحالی اور تعمیر نو کی کوششوں کے حصے کے طور پر بحالی کے اہم منصوبوں کابھی اس موقع پر افتتاح کیا گیا ۔ 84 کلو میٹر طویل بنوں میران شاہ غلام خان روڈ بھی کھول دی گئی یو ایس ایڈ کے فراہم کردہ فنڈز سے ایف ڈبلیو او نے اس سڑک کی تعمیر مکمل کی ۔ یہ سڑک افغانستان کیلئے مختصر ترین تجارتی روٹ بنے گی اور بنوں اور غلام خان باڈر پوسٹ کے درمیان سفر کا دورانیہ چھ گھنٹے سے کم ہو کر ڈیڑھ گھنٹہ رہ جائیگا اس سڑک کے ساتھ وسطی ایشیاء تک ہر قسم کے آمد ورفت کیلئے افغانستان کیلئے 705 کلو میٹر طویل سٹریٹجک سنٹرل ٹریڈ کوریڈور مکمل کی گئی ہے۔ آرمی چیف نے اس موقع پر یونس خان سپورٹس سٹیڈیم کا بھی افتتاح کیا۔ اس موقع پر فاٹا الیون اور یونس خان الیون کے درمیان افتتاحی میچ دیکھنے کیلئے لوگوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی ۔ قبائلی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کے نتیجہ میں فاٹا سے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ہم نے آپریشنز کے دوران قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اپنی سر زمین سے دہشتگردوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے ہدف کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے قبائلی عوام کو بھر پور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے خطے میں امن واستحکام کی کوششوں میں سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دینے پر انہیں سراہا۔ آرمی چیف نے انہیں یقین دلایا کہ پاکستان آرمی اور حکومت قبائلی عوام کی سماجی اقتصادی ترقی کیلئے کئے گئے تمام وعدوں کو پورا کرنے کیلئے پر عزم ہیں ۔ آرمی چیف نے کہا آئندہ نسلوں کو ایک محفوظ اور خوشحال پاکستان دینگے ۔ قبائلی عمائدین نے علاقہ کو دہشتگردوں سے پاک کرنے ، امن کے قیام اور معیاری تعمیراتی کام یقینی بنانے پر آرمی چیف سے تشکر کا اظہار کیا ۔جنرل راحیل شریف اور بیگم راحیل شریف نے چغملائی جنوبی وزیرستان میں نئے قائم شدہ آرمی پبلک سکول کا بھی دورہ کیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ان علاقوں میں تعلیم کے شاندار معیار پر اساتذہ اور طلبہ کو خراج تحسین پیش کیا ۔ آرمی چیف نے اہل علاقہ کی طرف سے اپنے بچوں کو سکولوں میں بھجوانے میں دلچسپی کے اظہار کوبھی سراہا۔ صرف تعلیم سے ہی ہماری مستقبل کی نسلیں ترقی اور خوشحالی کی منزل حاصل کر سکتی ہیں ۔ میران شاہ کے دورے کے دوران بیگم راحیل شریف نے مقامی خواتین کے بڑے اجتماع میں شرکت کی۔قبائلی خواتین کی قربانیوں کو سراہا اور دوبارہ آبادکاری کے حوالے سے انکے مسائل سنے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک افواج کا کردار نہ صرف قابل ستائش ہے بلکہ دنیا کیلئے قابل تقلید بھی ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے اہداف پورے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو تباہ کردیا گیا ہے کئی علاقے دہشت گردوں کے تسلط سے واگزار کروا لے گئے ہیں ۔ نقل مکانی کرنے والوں کی بحالی کیلئے آرمی چیف کے اقدامات لائق تحسین ہیں۔