- الإعلانات -

قیامت کی رات اور تاریخی دن

ابھی سانحہ گیڈانی کا زخم ہرا تھا ابھی تو ان کی آہ پکار بھی ختم نہیں ہوئی تھی اور بے موت مرنے والوں کے گھر وں میں پھوڑیاں بھی ختم نہیں ہوئی تھیں اور زخمی ہونے والے ہسپتالوں کے بستروں پر کراہ رہے تھے ابھی تو لا پتہ ہونے والے بچارے مزدروں کا بھی کچھ پتہ نہیں چلا تھا کہ وہ زند ہ ہیں یا شہیدوں کی صف میں شامل ہوچکے ہیں ابھی تو حتمی طور پر یہ بھی نتیجہ برآمد نہ ہوا تھا کہ جہاز میں آگ اتفا قہ لگی تھی یا کچھ اور ہو اتھا ابھی تو یہ معلوم کرنے کی کوشش بھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ بدقسمت جہاز کو گڈانی چھوڑنے والا بھارتی عملہ کیوں عجلت میں اسی روز بھارت چلا گیا اپنے گزشتہ کالم میں میں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ جہاز میں آتش زدگی کسی تخریب کاری کسی دہشتگردی کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے کچھ بھی ہو گڈانی سانحہ اپنے پیچھے بہت سی سسکتی روتی کرلاتی داستانیں ضرور چھوڑ گیا ہے بچہ بچہ جانتا ہے کہ بھارت اسرائیل افغانستان اورسپر پاور کو گوادر پورٹ کھٹک رہی ہے اور وہ ہرصور ت بلوچستان کو ہم سے الگ کرنے کی سازشیں کر رہا ہے گڈانی سے پہلے سول ہسپتال سانحے میں میرے پچھتر کے قریب ذہین قانون دانوں کی شہادتوں کا خوں رنگ المیہ اور اس کے بعد پولیس کیڈٹ کالج میں قوم کے ساٹھ سے زیادہ نوجوان کیڈیٹس کی شہادت اور اس دوران ہونے والے دیگر دلخراش واقعات نے ہر آنکھ کو پر نم کر رکھا ہے ہم کب تک نوحے لکھتے بین کرتے آنسو بہاتے ان دہشتگردوں کے وار سہتے رہیں گے کب کوئی آ ہنی ہاتھ اٹھے گا اور انہیں کچل کر مٹا دے گا ابھی اسی سوچ میں تھا کہ درگاہ سخی بلاول شاہ نورانی پر پھر سے خون کی ہولی کھیل دی گئی سفاک درندوں کو خیال تک نہ آیا کہ سخی کی درگاہ پر حاجت مند ضرورت مند عقیدت مند دور دراز سے منتیں مرادیں پانے کے لئے حاضر ہوتے ہیں یہ حالات کے ستائے اور اپنوں کے ٹھکرائے ہوئے لوگ جب دنیا داروں سے نفرتیں اور انکار پاتے ہیں تو دعاوں کیلئے سخی نورانی کی درگاہ میں پناہ لیتے ہیں لیکن انسانی خون کے پیاسوں کو تو یہ بھی پسند نہیں کہ کوئی درویش فقیر کے در پر حاضری دے سمجھ نہیں آتی کہ یہ کس مٹی بنے ہوئے ہیں اور کس مذہب اور قانون کو مانتے ہیں اور محض اپنی دہشت و بربریت قائم رکھنے کیلئے چشم زدن میں بچارے مظلوم انسانون کو تھوک کے حساب سے موت تقسیم کرکے ظلم کی ایک نئی داستان لکھ جاتے ہیں گڈانی ہو یا سول ہسپتال کا سانحہ کیڈٹ کالج ہو یا سخی شاہ نورانی کی درگاہ کا اندوہناک المیہ ایک بات سب میں یکساں ہے اور وہ یہ کہ ہمارے حکمران اورذمہ داران بار بار ہونے والے ان دلخراش واقعات سے کوئی خاص سبق نہیں لیتے ادھر نئی خونی داستان لکھی جاتی ہے ادھر یہ گہری نیند سے جاگ کر یکدم حرکت میں آتے ہیں بڑے بڑے اعلانات اور انتظاما ت کا عندیہ دیتے ہیں اور پھر دوبارہ گہری نیند سو جاتے ہیں دوسری بات یہ کہ ان تمام سانحات میں ہسپتالوں شفاء خانوں ایمبولینسز ادویات اور ہنگامی انتظامات کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے زخمی تڑپ رہے ہوتے ہیں مگر انہیں بر وقت طبی امداد دستیاب نہیں ہوتی میتوں کو لے جانے کے لیے ایمبولینسز نہیں ملتی دہشتگردں کی فوری سر کوبی کیلئے رابطے کمزور ہوتے ہیں اور دہشتگردوں کے معاونین اور سہولت کاروں تک رسائی کے رابطے بھی کمزور ہیں فوج فوج ہے اس سے جو بن پڑتا ہے وہ کرتے ہیں اور یہ فوج ہی کا کمال ہے کہ دہشتگردوں کو کچھ لگام پڑی ہے لیکن دیگر ادارے جتنی سہولتیں تنخواہیں اور مراعات حاصل کرتے ہیں ان کے مقابلے میں دہشتگردی سے نپٹنے کیلئے ان کی کارکردگی اس درجہ پر نہیں جس کا کہ ملکی حالات تقاضا کرتے ہیں ہم حالت جنگ میں ہیں اور گوادر بندرگا ہ اکنامک کوروڈور کی وجہ سے بلوچستان فرنٹ پوزیشن پر آچکا ہے اب بلوچلستان میں ہر نوعیت کے انتظامات اور اقدامات بلکل جنگی بنیادوں ہونے چاہیے اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے حفاظتی انتظامات کیلئے اگر چین کے تجربات و تعاون اور ماہرین سے مدد لینے کی بھی ضرروت محسوس ہو تو اس سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے بلکہ مشترکہ حفاظتی انتظامات و اقدامات کی پالیسی اپنانے سے بھی گریز نہیں ہونا چاہیے تاکہ دہشت اور دہشتگردی کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جا سکے کل درگاہ سخی پر قیامت کی رات تھی اور آج اگلی صبح تجارتی رہداری کے افتتاخ کی تاریخی روشن صبح طلوع ہوچکی ہے تو ایسے حالات اور انتظامات کی ضرورت ہے کہ جن سے دوبارہ بلوچستان امن کا گہوارہ بن سکے اور یہاں زندگی کی رونقیں کچھ اس طرح سے بحال ہوں کہ بلوچستان کے طول و عرض میں زندگی مسکراتی ہوئی نظر آئے لیکن اس کے لئے وہاں کہ سیاست دانوں سے لیکر سرکاری افسروں تک اور ایک عام بلوچی سے لے کر قبلے کے سردار تک سب کو قومی سلامتی کا ایجنڈا اپنے ذاتی مفادات پر مقدم رکھنا ہوگا اور بلوچستان کے میدانوں سے لیکر پہاڑوں تک ہر جگہ تک اس طرح سے نظر رکھنی ہوگی کہ بھارت اسرائیل افغانستان اور سپر پاور تو کیا دنیا کی کوئی بھی طاقت بلوچستان میں ترقی کے عمل کو نہ روک سکے کہا جاتا ہے کہ جب قومیں اپنے دفاع اور حفاظت کیلئے انفرادی اوراجتماعی طور پر اٹھ کھڑی ہوتی ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور یہی آج وطن عزیز کی ضرورت ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داریوں کااحساس کریں اور