- الإعلانات -

یوم اقبال کی چھٹی____ایک پہلو یہ بھی ہے!

’’ہم نے یوم اقبال کی چھٹی اس لیے ختم کی ہے کیونکہ ہم چھٹیوں کی بہتات ختم کرنا چاہتے ہیں‘‘ یہ جواب ایک اہم حکومتی شخصیت کی جانب سے دیا گیا، مگر کیا یہ جواب ٹھیک ہے ؟ یہ نیک نیتی سے دیا گیا ہے ؟ اورکیا حکومت واقعی پاکستان میں چھٹیوں کی بہتات ختم کرنا چاہتی ہے ؟ یا پھر یہ کہ علامہ محمد اقبال کے حوالے سے چھٹی ختم کر کے کچھ مخصوص قوتوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ ہم واقعی روشن خیال ہیں, اور ہم ہر وہ کام کرنے کے لیے تیار ہیں جو ہماری روشن خیالی کا ثبوت مہیاکرسکے، چھٹیوں کی بہتات کا بہانہ کرنا حکومت کو زیب نہیں دیتا کیونکہ یہ بیان ان کے منہ سے بہت مضحکہ خیز لگتا ہے ۔
حکومت کی طرف سے ’’چھٹیوں کی بہتات ‘‘ کا بہانہ اس لیے بھی مضحکہ خیز لگتا ہے کیونکہ حکومت نام ہی چھٹیوں کا ہے ، آپ اندازہ لگائیں کہ حکومت پانچ سال کے لیے منتخب ہوتی ہے ، اس کی ذمہ دمہ داری ہوتی ہے کہ قومی اسمبلی میں جائے ، وہاں وقت گزارے اور عوام کی فلاح وبہبود کے لیے منصوبہ بندی کرے، لیکن اگر آپ پانچ سال میں ان کی وہاں حاضری کا تناسب دیکھیں تو آپ حیران رہ جائیں گے، اگر آپ قومی اسمبلی میں ہونے والے اجلاسوں کا ٹائم دیکھیں،اس ٹائم کو دنوں میں تبدیل کریں اور پھر جتنے دن بنیں ان کی پانچ سالوں سے فیصد ی نکالیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ اوروں کو ’’چھٹیوں کی بہتات‘‘ ختم کرنے کا درس دینے والے اس فورم سے غائب کیوں رہتے ہیں کہ جس تک جانے کے لیے وہ کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں، اسی طرح آ پ باقی لوگوں کا حال بھی دیکھ لیں ، آپ دیکھ لیں کہ ایک گورنر پانچ سال میں کتنے دن گورنر ہاؤس میں بیٹھتا ہے ؟ ایک وزیراعلیٰ کی صوبائی اسمبلی میں پانچ سالوں میں حاضری کتنے فیصد رہتی ہے ؟ ایک وزیر ،مشیر ، سینیٹر ، صدراور وزیراعظم پانچ سالوں میں کتنی چھٹیاں کرتے ہیں ؟ توآپ حیران رہ جائیں گے کہ جو اوروں کو چھٹیوں کی بہتات ختم کرنے کا درس دیتے ہیں خود ان کا یہ حال ہے کہ گورنر ہاؤس، ایوان صدارت ، وزیراعظم ہاؤس اور باقی کے دفاتربھی ان کی راہ تکتے رہتے ہیں ، اگر آپ کو شک ہے تو آپ یہ دیکھ لیں کہ منتخب ہو جانے کے بعد یہ لوگ آپ کے حلقے میں کتنی بار نظر آتے ہیں ؟ اس سے آپ اندازہ لگالیں گے کہ چھٹیوں کی بہتات کا واویلاکر کے یوم اقبال کا خاتمہ کرنا ایک بہانہ تھاجبکہ مقصد کوئی اور ہے ۔
مقصد یہ ہے کہ اقبال کا عالمی تشخص ختم کردیا جائے ، اور یہ اسی طرح ختم ہوسکتا ہے کہ جب یوم اقبال کی چھٹی کو ختم کردیا جائے ، وہ کیسے ؟ وہ اس طرح کہ جب یوم اقبال کی چھٹی ہوگی ، تو اس دن ملک بھر میں تمام ادارے بند ہوں گے ، ان اداروں میں لاکھوں غیر ملکی بھی کام کرتے ہیں، جب یہ غیر ملکی پوچھیں گے کہ یہ چھٹی کیوں ہے؟ تو جواب دیا جائے گا کہ یوم اقبال ہے ، اس طرح ان تمام لوگوں کو اقبال کا تعارف ہوگا ،اسی طرح حکومتی سطح پر بھی ہر طرح کا کاروبار بند رہے گا اور پاکستان میں واقع دوسرے تمام ممالک کے سفارت خانے اور ذیلی دفاتر بند رہیں گے ، تو گویا اس دن چھٹی کی وجہ سے ان ممالک کے لوگ اورحکومتیں پاکستان میں واقع اپنے سفارت خانوں کی بندش سے آگاہ ہوں گے ، پھر ان کو بھی معلوم ہوگاآج چھٹی اس لیے ہے کیونکہ یوم اقبال ہے اور اس طرح اقبال کاتعارف عالمی سطح پر کچھ یوں پہنچے گا کہ اقبال وہ شخص ہے جس نے پاکستان کا خواب دیکھاتھا، لیکن اگر چھٹی نہیں ہوگی اور ہر کوئی معمول کے مطابق اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گا تو یہ تعارف بیرون ملک تو کیا آہستہ آہستہ خود پاکستان میں بھی دفن ہو جائے گاجو کہ حکومت کا مقصد ہے ۔
اقبال کا یہ تشخص ختم کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ جو لوگ پاکستان کے وجود سے خوش نہیں ہیں وہ اس ملک کا خواب دیکھنے والے کو کیسے پسند کرسکتے ہیں ؟ وہ اس اقبال کے ابھرتے ہوئے تشخص کو کیسے پسند کرسکتے ہیں جو ان کو ’’فرنگی ‘‘ کہ کر مخاطب کرتا ہو، جو ان کے نصاب تعلیم کو ’’ تعلیمی تیزاب ‘‘ کہتا ہو، جو ان کی طرز جمہوریت کو بندے تولنے کی بجائے بندے گننے کا نظام کہتا ہو، جو اسلام کو دنیا کی بقاء کا نسخہ سمجھتا ہو، جو قرآن کو ابدی ، فلاحی ، اورامن وآشتی کا مرکز مانتا ہو، جو ہر دم یورپ کو فرسودہ کہتا ہو، جو عشق مصطفےٰ اور مسجد ،محراب اور منبر جیسی اصطلاحات متعارف کراتاہو؟ یہی وجہ ہے کہ آپ دیکھیں گے کہ اقبال کی وہ شاعری جو اسلام سے متعلق ہے وہ آپ کو درسی کتابوں میں نہیں ملے گی تاکہ بیرونی دنیا کو یہ تأثر دیاجائے کہ اقبال نے جوکہا ہے اس سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں ہے ، لہذا اقبال کے کہے کی سزا ’’ہماری حکومت ‘‘ ختم کرکے ہمیں نہ دی جائے ، اگر آپ کو یقین نہیں ہے تو دیکھ لیں ہم نے اقبال کی تعلیمات تو کب کی دفن کردی تھیں ، اب اس کا تشخص بھی دفن کردیتے ہیں۔
کچھ لوگ پریشان ہیں کہ ساراسال اسمبلیوں اور سرکاری دفاتر سے غائب رہنے والے آخر کس منہ سے کہہ رہے ہیں کہ وہ چھٹیوں کی بہتات ختم کرنا چاہتے ہیں ؟ اور ایک دن میں انہوں نے کتنا کام کرلیا ہوگا ؟ اس ایک دن سے پاکستان کا کتنا قرضہ اترگیاہوگا؟ میں ان لوگوں سے صرف اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ پریشان نہ ہوں کیونکہ آپ کے حکمران ہی ایسے ہیں، پس جو لوگ غیروں کی خوشنودی کے لیے جمعہ کی چھٹی ختم کرسکتے ہیں وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں ، بس شرط یہ ہے کہ حکومت قائم رہنی چاہیے۔