- الإعلانات -

کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت اور خضدار دہشت گردی

قارئین کرام ! گذشتہ چند روز سے پاکستانی قوم بھارتی جارحیت سے نبرد آزما ہے اور سرحدوں کی حفاظت کیلئے افواج پاکستان چوکس ہیں جبکہ کشمیر کنڑول لائین اور ملحقہ سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری پر ازلی دشمن بھارت امن و امان کی صورتحال کو بدستور بگاڑنے پر آمادہ نظر آتا ہے چنانچہ بھمبر سیکٹر میں لائین آف کنٹرول پر بھارت نے بھاری اسلحہ کیساتھ کشمیر سیز فائر کی شدید خلاف ورزی کی ہے جس میں سات پاکستانی فوجی شہید ہوئے ہیں جس کا پاکستان فوج کی جانب سے بھرپور جواب دیا گیا ہے۔اِس سے قبل بھارتی ایجنسیوں کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے پاکستان چین تجارتی گزرگاہ کے افتتاحی موقع پر کوئٹہ کے بعد آسان ہدف کے طور پر خضدار درگاہ کو خودکش دہشت گردی کا نشانہ بنایا ہے جہاں 50 سے زیادہ لوگ جاں بحق اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ حیران کن بات ہے کہ ماضی میں افغانستان میں کرزئی اور اشرف غنی سیاسی حکومتوں کو مضبوط بنانے کیلئے پاکستان کی جانب سے نیٹو امریکہ اتحاد کے تعاون سے دہشت گرد عناصر کے خلاف مربوط کاروائی کئے جانے کے باوجود بھارتی لیڈر شپ امریکہ بھارت دفاعی معاہدے کی آڑ میں افغان حکومت اور عبداللہ عبداللہ شمالی اتحاد کی مدد سے افغانستان کی سرزمین کو ناجائز طور پر استعمال کرتے ہوئے نہ صرف بلوچستان میں تخریب کاری میں مصروف ہے بلکہ افواج پاکستان کو دباؤ میں لانے کی غرض سے کشمیر کنٹرول لائین اور ورکنگ باؤنڈری پر سیز فائر کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے علاقائی امن و سلامتی کی فضا کو بگاڑنے میں مصروف ہے۔ حیرت اِس بات پر بھی ہے کہ ایسا نہ صرف تواتر سے کیا جا رہا ہے بلکہ مبینہ طور پر بیرونی اثرات ریاستی سیاسی لیڈرشپ کو بھی فوج اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کیلئے شعوری یا غیر شعوری طور پر استعمال کررہے ہیں ۔ یہ سلسلہ سابق صدر آصف علی زرداری کے دور حکومت میں پس پردہ بیرونی مخصوص سیاسی اثرات کی شہہ پر شروع ہوا تھا جو بظاہر نواز شریف حکومت کے موجودہ دور میں بھی جاری و ساری ہے۔ سابق صدر زرداری کے دور میں افواج پاکستان کو سیاسی دباؤ میں لانے کیلئے مبینہ طور پر حسین حقانی میمو گیٹ کے حوالے جس پالیسی کا تعین کیا گیا تھا وہ ناقابل فہم تھی جبکہ زرداری صاحب فوج کی غیرجانبداری کے سبب ہی اقتدار میں آئے تھے لیکن بہرحال بیرونی اثرات اندورنی معاملات میں غالب رہے۔ اندریں حالات صدر زرداری کا اپنے دور اقتدار میں پارٹی جیالوں کو بار بار مخاطب کرتے ہوئے یہ کہنا کہ کچھ غیر جمہوری قوتیں پاکستان میں جمہوریت کے خلاف سازش کر رہی ہیں ناقابل فہم بات تھی کیونکہ ایسا ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔ چنانچہ آصف علی زرداری بدستور بیرونی قوتوں کی ایما پر میمو گیٹ سازش کے حوالے سے بیرونی ایجنسیوں کے خلاف ضروری اقدامات لینے میں ناکام رہے اور اِسی ضمن پاکستانی وزیرخاجہ کو اصولی موقف اختیار کرنے پر قربان کر دیا گیا تھا۔ حقیقت یہی ہے کچھ مقتدر امریکی فوجی حکام کی جانب سے پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی کے خلاف بین الاقوامی سطح پر میڈیا میں جو پروپیگنڈا کیا گیا تھا اُس کی بنیاد بھارتی ایجنسیوں کی افغانستان میں موجودگی اور پاکستان کے خلاف مغربی ایجنسیوں کو حقائق سے بالا تر ہوکر دی جانے والی بھارتی بریفنگ کے باعث ہی پیش آیا تھا اور جس کے نتیجے میں سلالہ پاکستانی چیک پوسٹ پر نیٹو ہیلی کاپٹروں کے حملے میں 24 پاکستانی افسران اور جوان شہید ہوئے تھے ۔ حیرت ہے موجودہ سیاسی حکومت بھی ایسی ہی بوسیدہ پالیسی پر قائم نظر آتی ہے جس کا تذکرہ گاہے بگاہے نواز شریف حکومت کے اہم اتحادیوں بشمول محمود اچکزئی ، مولانا فضل الرحمن اور سابق وزیر اطلاعات اور موجودہ وزیر دفاع کے فوج مخالف بیانات میں جھلکتا رہا اور جس کا اختتام اب قومی سلامتی امور حوالے سے ڈان میمو گیٹ لیک یا فیڈ کے طور پر کیا جا رہا ہے جسے بظاہر دبانے کیلئے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کو اُن کے عہدے سے ہٹا کیا گیا ہے ۔ زرداری دور میں حسین حقانی کو سفیر پاکستان کے طور پر برطرف کیا گیا تھا لیکن وہ کمیشن کا سامنا کرنے کے بجائے بیرون ملک چلے گئے تھے اور واپس نہ آئے اب ڈان میمو لیگ کمیشن کے قائم ہونے سے قبل ہی لیک یا فیڈ کے مین کردار سرل المیڈا ملک سے باہر چلے گئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ قوموں کی زندگی میں مشکل وقت ضرور آتے ہیں تب قومی لیڈرشپ کو بیرونی اثر و رسوخ کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنے اداروں کی حمایت میں بے دریغ مشکل فیصلے کرنے سے ہی قومی معاملات بہتری کی جانب واپس آتے ہیں۔ لیکن صد افسوس کہ ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن کے سبب دہشت گرد عناصر کے سہولت کار بھی ملک میں پھل پھول رہے ہیں جنہیں آہنی ہاتھوں سے کچلنے کیلئے موثر حکومتی اقدامات لینے کے بجائے ریاستی پالیسی سیاسی ڈیل کی پالیسی میں ہی اُلجھی نظر آتی ہے چنانچہ سپریم کورٹ کے معزز ججوں کی جانب سے گاہے بگاہے آنے والی آبزرویشن سے بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ کرپشن کے خلاف ایکشن لینے والے ریاستی ادارے بشمول نیب اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بجائے سیاسی موشگافیوں سے ہی کام چلانے میں مصروف ہیں جبکہ جمہوریتوں میں عوامی فکر سے بالا تر ہو کر محض مخصوص مفادات vested intrest یا کرپشن و بدعنوانیوں کو تحفظ دینے کیلئے ذاتی مفادات کے حامل فیصلے کسی بھی قوم کی مجموعی قوتِ ارادی ، عزت اور وقار کو ناقابل تلافی نقصان