- الإعلانات -

ترک صدر کا دورہ، دوررس نتائج کا حامل

وزیراعظم میاں نوازشریف نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ ملاقا ت اور وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ترک صدر اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پرخوش آمدید کہتے ہیں،ترکی پاکستان کاد وسرا گھر ہے،دونوں ملکوں کے تعلقا ت باہمی اعتماد اور محبت پر مبنی ہیں،ترکی میں بغاوت کی کوشش پر پاکستان کو دھچکا لگا،پاکستانی قوم ترکی کی منتخب حکومت کی حمایت کرتی ہے،ترک عوام کے حوصلے اور جرت نے بغاوت کو ناکام بنایا،پاکستانی قوم ترکی کی منتخب حکومت کو ہٹانے کی کوششوں کی مذمت کرتی ہے،ترک قوم نے جمہوریت کی سربلندی کیلئے نئی تاریخ رقم کی۔ترک صدر طیب اردوان کی قیادت میں ترکی ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ترک صدر سے وسیع البنیاد امور پر بات چیت ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات میں سرمایہ کاری اور تجارت بنیادی حیثیت رکھتے ہیں،پاکستان اور ترکی دونوں اہم ملک ہیں۔پاکستان کے ترکی کے مضبوط باہمی تعلقا ت خطے کیلئے نہایت اہم ہیں۔مذاکرات میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے بارے میں گفتگو کی گئی۔مذاکرات میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر بھی گفتگو کی گئی۔وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا کہ نیوکلیئر سپلائر گروپ میں پاکستان کی رکنیت کیلئے ترکی کی حمایت قابل تعریف ہے۔2017 دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات کے 70ویں سالگرہ کا سال ہے،پاکستان اور ترکی امن و سلامتی کیلئے مل کر کام کرتے رہیں گے۔دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اورسرمایہ کاری میں اضافہ ہونا چاہیے،دونوں ممالک کے تعلقات باہمی ،اعتماد اور محبت کے ہیں۔اس موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ شاندار استقبال کرنے پر پاکستان کا شکرگزار ہوں،پاکستان کے ساتھ ترکی کے درینہ تعلقات ہیں،وزیراعظم محمد نوازشریف سے مفید مذاکرات ہوئے،ترک وزیراعظم کے دورے سے پاکستان سے تعلقا ت مزید بہتر ہوئے،معاشی ،اقتصادی،تجارتی اور عسکری شعبوں میں پاکستان سے تعاون کریں گے۔ملاقات میں علاقائی اور عالمی امور پر بات چیت ہوئی۔ملاقات میں کشمیر کی صورتحال پر خاص طور پر بات چیت ہوئی۔ ایل او سی کشیدگی پر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا،دونوں ملکوں نے اتفاق کیا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر نظر انداز نہیں کیاجاسکتا،مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے فوری حل کرنا چاہیے۔ترک صدر نے کہاکہ او آئی سی کے فورم پر بھی پاکستان کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گے،پاکستان اور افغانستان دونوں برادر ملک ہیں۔پاکستان افغانستان اور ترکی سہ فریقی معاہدہ اہمیت کا حامل ہے،خطے میں امن کیلئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعاون ناگزیر ہے،پاکستان نے ہر مشکل وقت میں ترکی کا بھرپور ساتھ دیا۔بغاوت کی ناکام کوشش پر پاکستانی قوم نے ترک جمہوریت کی حمایت کی،ترک حکومت اور عوام کی جانب سے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہوں،ترک قوم نے فوجی بغاوت کی کوشش کو ناکام بنایا۔پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون میں وسعت کیلئے پرعزم ہیں،تعلیم کے شعبے میں بھی پاکستان سے تعاون جاری رکھیں گے۔پاکستان کے دیانتدارانہ موقف کو ترکی کبھی فراموش نہیں کرے گا،گولن تحریک نے عوامی خدمت کا سہارا لے کر ترکی کو کمزور کرنے کی کوشش کی،پاکستان کی طرح ترکی کو بھی دہشتگردی کا سامنا ہے،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔دہشتگردی کے خلاف پاکستان کو اپنے تجربات سے آگاہ کریں گے۔ترک صدر نے کہاکہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کی صورتحال پر تشویش ہے،پاکستان اور بھارت مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرسکتے ہیں،مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے فوری حل کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔مسئلہ کشمیر کا فوری اور بامعنی حل چاہتے ہیں،مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا ہوگا۔ ترک صدر کا دورہ پاکستان دوررس نتائج کا حامل قرارپایا جہاں دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید وسعت پیدا ہوئی وہاں کئی معاہدوں پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ملک ایک دوسرے کے زیادہ قریب آئیں گے اور ان کی دوستی مستحکم ہوگی۔
پانامہ کیس، عدالت کے فیصلے کا انتظار کیا جائے
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل حامد خان نے پاناما لیکس سے متعلق وزیر اعظم کا قوم سے خطاب کا متن پڑھ کر سنایا۔ حامد خان نے کہا کہ وزیر اعظم نے 27 اپریل کو پہلا جب کہ اس کے 17 دن بعد دوسرا خطاب کیا، نواز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ ان پر جو الزامات لگائے جارہے ہیں وہ 22 سال پرانے ہیں،وزیر اعظم نے قوم سے وعدہ کیا کہ اگر کمیشن نے قصور وار ٹھرایا تو گھر چلا جاؤں گا۔جسٹس عظمت سعید نے حامد خان سے استفسار کیا کہ آپ تقریر پڑھ رہے ہیں اس کا کیا فائدہ، اگر ان تقریروں سے تسلی ہوتی تو آپ یہاں نہ ہوتے، جسٹس اعجازالحسن نے استفسار کیاکہ وزیراعظم کے بیان کے مطابق ان کے دوبچے بیرون ملک ہیں، جس پر حامد خان نے کہا کہ یہ بات بالکل درست ہے لیکن بچوں کے کاروبار کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ تقریر کے مطابق وزیر اعظم نے جدہ اسٹیل مل فروخت کرکے بچوں کو کاروبار کروایا، نوازشریف کی تقریر میں ہے کہ ان کے والد نے مکہ میں کارخانہ لگایا، کارخانے کے لیے سعودی بینکوں سے قرضہ لیا، اس خطاب میں لندن کے فلیٹس کا ذکر نہیں، لگتا ہے وزیر اعظم نے مستعفی ہونے کا عہد خود سے کیا
ہے، قوم سے نہیں۔ نوازشریف واضع کہہ چکے ہیں کہ عدالتوں نے ان پر لگائے گئے الزامات مسترد کیے، پاناما لیکس میں جوالزمات لگائے گئے وہ 22سال پرانے ہیں، کیا ملک کے کسی ادارے نے تحقیقات کیں،کیا ماضی میں وزیر اعظم پر لگائے گئے الزمات کی تحقیقات اور نتائج سامنے آئے۔ کیاان مقدمات کے حوالے سے کوئی دستاویزات موجود ہیں۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے استفسار کیا کہ کیا لندن کے فلیٹس ان مقدمات میں شامل تھے،جس پر حامد خان نے کہا کہ یہ جائیداد ان مقدمات میں شامل نہیں جن پر عدالت نے فیصلہ سنایا۔ جسٹس عظمت سعید کی جانب سے ریمارکس دیئے گئے کہ یہ ایک سیاسی بیان ہے، ایک بھی الزام پر دوبارہ تحقیق ہوئی تو پھر یہ دوہرا ٹرائل ہوگا۔ حامد خان آپ وکالت نہیں سیاست کررہے ہیں،1981 میں وزیر اعظم نے 300 روپے ٹیکس دیا یا250، یہ ہمارا مقدمہ نہیں، ایسالگ رہاہے مقدمہ جس سمت میں جارہا ہے کبھی ختم نہیں ہوگا۔حامد خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ نواز شریف نے کہا ہے کہ دو بیٹے بیرون ملک ہیں جہاں وہ کاروبار کرتے ہیں، 1976 میں پیدا ہونے والا حسن نواز 1984 میں لندن پہنچا، وزیر اعظم کی تقریروں میں کوئی ٹائم فریم نہیں بتایا کہ دبئی اسٹیل مل 80 کی دہائی میں بیچی اور جدہ اسٹیل مل 2001 میں لگائی، دبئی پراپرٹی کی فروخت اور جدہ فیکٹری کی خریداری میں 21 سال کا وقفہ ہے، دستاویز میں جون 2005 میں اسٹیل مل بیچنے کی تاریخ تو ہے لیکن خریدنے کی تاریخ نہیں۔جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم کے بچے کہتے ہیں دبئی کی اسٹیل مل قرضہ لے کر قائم کی ، اگر وزیراعظم کے بچوں نے دستاویزات سے خریداری ثابت کردی تو آپ کا کیس فارغ ہوگا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا وزیراعظم کے بیان پر ہم قرار دیں کہ لندن کے فلیٹس کالے دھن سے خریدے گئے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ ہم وزیر اعظم کی پوری زندگی کی اسکروٹنی نہیں کریں گے، آپ نے خامیاں بتا دیں، اب دستاویزی ثبوت پیش کریں۔پانامہ لیکس زیر