- الإعلانات -

بھارتی بحریہ کی سمندری جارحیت ناکام

پاک بحریہ نے پاکستانی سمندری علاقے میں بھارتی ایٹمی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگا کر اسے اپنی سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا ہے اوریوں بھارتی جارحیت کوناکام بنادیا۔ یہ کارنامہ پاکستان نیوی کے سرجاتا ہے جس نے بھارتی مذموم عزائم کو ناکام بنایا ۔ پاک نیوی کی اپنی سب میرین وار فیئر کی اعلیٰ صلاحیتوں کایہ منہ بولتا ثبوت ہے ۔ باور کیاجاتا ہے کہ بھارت کی یہ آبدوز انتہائی مہلک تھی بھارتی نیوی کاٹارگٹ بلوچستان کاساحلی علاقہ ہے سی پیک منصوبے کو بھارت نقصان پہنچانا چاہتا ہے ۔ بھارت ایک طرف لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی کرتا چلا آرہا ہے اور پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیاں بھی کروا رہا ہے بھارتی خفیہ ایجنسی’’ را‘‘ کے ایجنٹوں کی گرفتاری اس امر کا ٹھوس ثبوت ہے کہ بھارت دہشت گردی میں ملوث ہے ۔ بھارت کو دراصل اقتصادی راہداری کامنصوبہ ہضم نہیں ہورہا اوراس کو ناکام بنانے کیلئے سرتوڑ کوشش کررہاہے ۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں بھی بربریت کے پہاڑ ڈھائے دکھائی دیتا ہے اورظلم وسفاکی پر عالمی اداروں کی خاموشی ایک سوالیہ نشان بنتی جارہی ہے ۔بھارت کی جارحیت آئے دن بڑھتی ہی جارہی ہے لیکن پاکستان صبر وتحمل کاعملی مظاہرہ کررہا ہے پاکستان چاہتا ہے کہ بھارت کے ساتھ تمام متنازعہ مسائل کاحل مذاکرات کے ذریعے نکالاجائے لیکن بھارتی رویہ پاکستان کی امن کاوشوں میں رکاوٹ ہے بھارت اب حد سے بڑھتا جارہا ہے جو پاکستان کیلئے اب ناقابل برداشت ہے۔ بھارتی جارحانہ کارروائیاں خطے کے امن کیلئے خطرے کاباعث بن چکی ہیں اگر بھارت اس طرح کی کارروائیوں سے باز نہ آیا تو پھر خطے کی بدامنی کا ذمہ دار بھارت خود ہی قرار پائے گا بھارت پاکستان کے صبر کو کمزوری نہ گردانے پاکستان کی عسکری قیادت کسی بھی جارحیت سے نمٹنے کیلئے تیار ہے اور پاک افواج جنگی صلاحیتوں سے لیس ہے اور دنیا پاک فوج کی بہادری کی معترف ہے۔ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور پڑوسی ملک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کاخواہاں ہے لیکن بھارت ہوش کے ناخن نہیں لے رہا اور خطے کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے ۔ پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کیلئے پرعزم ہے۔ ادھر قومی اسمبلی نے ایل او سی پربھمبر سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرلی ہے جس میں سات پاکستانی شہید ہوئے یہ قرارداد وفاقی وزیرچودھری برجیس طاہر نے پیش کی تھی اس قرارداد میں وطن پر جان نچھاور کرنیوالوں کوسلام پیش کیا گیا۔ بھارتی جارحیت سے پاک بھارت کشیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے مودی کاجنگی جنون اس کو لے ڈوبے گا پاکستان وطن کے دفاع سے غافل نہیں دشمن کے کسی بھی وار کو ناکام بنانے اور دندان شکن جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے پاک فوج بے تاب ہے اور اس کاجذبہ شہادت دشمن کاغرور خاک میں ملادے گا۔سرحدی کشیدگی میں اضافہ دونوں ملکوں کیلئے جنگی حالات پیدا کررہا ہے بھارت نے ہوش نہ لیا تو پھر خطے کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھی دیدہ دانستہ نظر انداز کرتا چلا آرہا ہے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت بھی نہیں دے رہا اس کایہ رویہ پاکستان کی تشویش میں اضافہ کررہا ہے پاکستان بھارت کے مخاصمانہ رویہ سے تنگ آچکا ہے اور اب کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا پاکستان کاحق ہے پاکستان کے صبروتحمل اوربرداشت کو بھارت کمزوری سمجھ بیٹھا ہے اور بھارت اپنی جارحیت سے باز نہیں آرہا اب تو اس نے سمندری جارحیت کا بھی مظاہرہ شروع کردیاہے۔پاکستان کی افواج سمندری اور زمینی راستے پرکڑی نظررکھے ہوئے ہے او ر وہ دشمن کی کسی بھی کارروائی کادندان شکن جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
مردم شماری پرعدالت عظمیٰ نے حکومتی رپورٹ مستردکردی
سپریم کورٹ نے مردم شماری نہ کرائے جانے پرآبزرویشن دی ہے کہ عدالت عظمیٰ گزشتہ سا ت برس سے عدالتی فیصلوں پرعملدرآمد کیلئے کام کررہی ہے عدالت نے مشروط حکومتی تاریخ محکمہ شماریات کی رپورٹ مسترد کردی اور قرار دیا کہ ہر بڑی سیاسی جماعت جمود کے حق میں ہے سارے کام فوج نے کرنے ہیں تو دیگر اداروں کی کیا ضرورت ہے حکومت کہہ دے مردم شماری اس کے بس کی بات نہیں تاریخ صرف دکھاوا ہے ۔مردم شماری نہ ہونا موجودہ اور پچھلی حکومتوں کی ناکامی ہے لوگوں کو بیوقوف بنائیں نہ عوام کاپیسہ ضائع کریں عدالت نے کہا کیوں نہ سیکرٹری شماریات کو برطرف کردیاجائے سپریم کورٹ کے مردم شماری کیس میں ریمارکس حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہیں مردم شماری میں تاخیری حربے حکومتی ناکامی کامنہ بولتا ثبوت ہے عدالت کے فیصلوں کی پاسداری اور ان پر عملدرآمد کرنے میں حکومت جس سرد مہری کامظاہرہ کرتی چلی آرہی ہے وہ درست نہیں ہے۔ حکومت کافرض ہے کہ وہ جلدازجلد مردم شماری کویقینی بنائے اور عدالت عظمیٰ کی آبزرویشن پرکان دھرے یہی اس کیلئے بہتر ہے ایک طرف تو حکومت قانون کے احترام اورپاسداری کاواویلا کرتے نہیں تھکتی تو دوسری طرف خود ہی قانونی و آئینی فیصلوں پر عملدرآمد میں لیت ولعل کررہی ہے عدالت عظمیٰ نے جو ریمارکس دیئے وہ وقت کے تقاضے کے آئینہ دار ہیں حکومت مردم شماری کروانے کیلئے ضروری اقدامات کرے یہی وقت کی ضرورت ہے مردم شماری کا نہ ہونا قرین انصاف نہیں حکومت آخر کیا کررہی ہے۔
سٹیٹ بنک کی رپورٹ
سٹیٹ بنک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث ملک کو اب تک 118 ارب ڈالر سے زائد کانقصان اٹھانا پڑا ہے اور یہ رقم مجموعی سالانہ ملکی پیداوار کے تیسرے حصہ سے زائد ہے ۔سٹیٹ بنک نے معاشی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ جاری کی جس میں کہاگیا کہ 2002ء سے 2016ء تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بلواسطہ اور بلاواسطہ ملک کو118 ارب30 کروڑ ڈالر کانقصان ہوا پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت اب تک صرف14ارب ڈالر ملے ہیں حکومت سرمایہ کاری میں رکاوٹیں دور کرے 30جون تک مہنگائی کی اوسط شرح کم ہوکر اوسط شرح29 فیصد پر آگئی نجی شعبے کو سہولیات دینا ہوں گی ۔اس رپورٹ کے تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سرمایہ کاری کم اور برآمدات منجمد ہوئی جس کیلئے حکومت کو فوری اقدامات کرنے ہونگے ۔یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی میں پاکستان کو کافی مالی نقصان اٹھانا پڑا جس سے اس کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے لیکن اب دہشت گردی کاناسور ختم ہوتا جارہا ہے حکومت ٹھوس معاشی اقدام کرکے معیشت کو سنبھالا دے سکتی ہے اور اپنی کارکردگی کوبہتر بناسکتی ہے حکومت کو اس وقت کئی چیلنجز کاسامنا ہے لیکن ان سے نمٹنا حکومت کا فرض ہے اور حکومت ایسی