- الإعلانات -

صارفین بجلی اور روشنی کی کر ن سپریم کورٹ

حکمرانوں کو آجکل حکومت کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور وہ ہر ممکن طریقے سے یہ مشکل وقت ٹالنے کی کوشش میں ہیں لیکن انکی افرا تفری میں ہونے والی افراتفریوں اور شاہ سے زیادہ شاہ پرستوں کے قیمتی مشوروں سے معاملہ سلجھنے کی بجائے مزید الجھتا جا رہا ہے اور اب قطری شہزادے والے خط نے اسے مزید الجھا دیا ہے جبکہ دوسری طرف بھی صورتحال کچھ زیادہ مختلف دکھائی نہیں دیتی جس سے بنا بنایا کھیل خراب ہوتا نظر آ رہا ہے حکمرانوں کی ایک مشکل تو اسی ماہ ختم ہو جائے گی اور دوسری مشکلات میں شاید انہیں کچھ وقت مل جائے گا اگر ایسا ہوا تو بات ثبوت اور تابوت کی منزل سے عارضی طور پر بچ جائے گی معاملہ کچھ بھی ہو حکومتی افرا تفری کو دیکھتے ہوئے بعض سرکاری محکموں نے من مانیاں کرتے ہوئے عوام دشمنی کا کچھ ایسا بازار گرم کر رکھا ہے کہ جس سے عوام کے دلوں میں حکومت اور حکمرانوں کے بارے میں نفرت جس تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے اسی تیز رفتاری سے بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ سرعت سے حکمرانوں کی شہرت اور مقبولیت بھی کم ہو رہی ہے جو آئندہ انتخابات میں کچھ اس طرح سے اثر دکھائے گی کہ کسی شہزاد ے کا کوئی خط بھی کسی کام نہیں آ سکے گا مثال کے طور پر میرے آبائی شہر وزیرآباد سے ملحق گاؤں ونجووالی سے لا تعداد صارفین بجلی جو کہ پہلے ہی غربت کی لکیر سے نیچے زندگیاں گزار نے پر مجبور ہیں پر محکمہ واپڈا جو آجکل کیپکو کہلاتا ہے کے بعض نا اہل ، بد دیانت اور عوام دشمن اہلکاروں اور افسروں نے یلغار کر رکھی ہے اور ان چار پانچ مرلے کے کچے پکے مکانوں میں رہنے والے صارفین بجلی کے اچھے بھلے چلتے بجلی میٹروں کو ڈفیکٹیولکھ کر ہر ماہ زائد بل وصول کرنے کی افسوس ناک بلکہ شرمناک ڈکیتی میں مصروف ہیں اور یہ مظلوم صارفین بجلی جب کیپکو کے بڑے افسروں کے پاس داد رسی کیلئے جاتے ہیں تو انہیں یا تو دفتروں سے دھکے دے کر نکال دیا جاتا ہے یا پھر انہیں یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ بابا نئے میٹر آنے پر تمہارا مسئلہ حل ہو گا اور یوں یہ غریب صارفین بجلی نا کردہ گناہ کی پاداش میں بال بچوں کا پیٹ کاٹ کر ہر ماہ زائد بل بجلی جمع کروانے پر مجبور چلے آ رہے ہیں اور یہ واپڈا ڈکیتی صرف ونجووالی میں ہی نہیں ہو رہی بلکہ تحصیل وزیرآباد کے ہر چھوٹے بڑے گاؤں میں پھیل چکی ہے جس میں میٹر ریڈروں سے لیکر کیپکو گوجرانوالہ کے چیئر مین تک سب ملوث ہیں ۔ میں جب ان لٹنے والے صارفین بجلی کی شکایا ت سن رہا تھا تو مجھے معاملہ کی تہہ تک جانے کیلئے تھوڑی کوشش کرنا پڑی اور میں یہ جان کر حیران ہو گیا کہ بات صرف واپڈا سب ڈویژن وزیرآباد تک ہی محدود نہیں بلکہ خراب میٹروں کے نام پر صارفین بجلی کے ساتھ یہ ڈکیتیاں پورے صوبے تک پھیلی ہوئی ہیں جبکہ وزیربجلی و پانی اپنے زیر سایہ ہونے والی اس لوٹ مار سے آگاہ ہونے کے باوجود سینہ تان کر عوامی اجتماعات میں خود کو نواز شریف کا سپاہی او ر عوام کا بھائی ثابت کرنے قسمیں کھانے پر لگے ہوئے ہیں کوئی اور ملک ہوتا تو اول تو وہاں ایسی کسی محکمانہ ڈکیتی کا تصور بھی نہ ہوتا اور اگر ایسا کوئی واقعہ بد قسمتی سے سرزد ہو جاتا تو فوراً سے پہلے حکومت اور عدالت حرکت میں آتی اور متعلقہ وزیر اور محکمہ کا سربراہ نہ صرف یہ کہ قانون کے شکنجے میں ہوتا بلکہ لوٹی ہوئی رقم بمعہ جرمانہ صارف کی جیب میں ہوتی لیکن افسوس کہ وطن عزیز میں ہمارے جمہوریت پسند حکمران ایسی کسی مثال یا روایت کو داخل ہی نہیں ہونے دیتے اور جونہی کوئی عمران خان ایسی روایات لانے کیلئے احتجاج کرتا ہے تو اسے جمہوریت کیلئے خطرہ اور جمہوریت کا دشمن قرار دے کر منظر سیاست سے غائب کرنے کی کوشش شروع کر دی جاتی ہے اور ہمارے نظام میں جمود کا پلہ بھاری ہو جاتا ہے مہنگی بجلی اور لوڈ شیڈنگ کے اس ماحول میں ان مظلوم صارفین کی باتیں سنتے سنتے میں نے جب اس بیماری کا سراغ لگانا شروع کیاتو مجھے پتا چلا کے خراب میٹروں کے نام پر یہ ڈکیتی صرف کیپکومیں ہی نہیں بلکہ میپکو ، ریپکو ، لیسکو اور دیگر ڈویژنوں میں بھی ڈنکے کی چوٹ پر چل رہی ہے اور لاہور سے ایک رپورٹ کے مطابق لیسکو نے ایک سال سے خراب ہونے والے ساڑھے چھ لاکھ میٹر جان بوجھ کر تبدیل نہیں کیے اور سردی کی آمد اور لوڈ شیڈنگ کے باجود خراب میٹروں کے نام پر اوسطاً بیس سے پچس ہزار روپے زائد بل وصول کیے جا رہے ہیں جس سے محکمہ ہر ماہ مجموعی طور پر لیسکو کے صارفین سے ماہانہ10سے 12ارب روپے وصول کر رہاہے اور اسی قدر رقم ہر ماہ دوسرے ڈیژنوں کے صارفین سے بھی وصول کی جا رہی ہیں جسے اگر اکھٹا کیا جائے تو یہ ایک کھرب روپے ماہوار کے قریب بنتی ہے رپورٹ میں سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ سامنے آئی کہ وفاقی وزیر بجلی و پانی کو اس بات کا بخوبی علم ہے اور اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ وزیر موصوف نے ابھی تک اپنے زیر سایہ ہونے والی اس واپڈا ڈکیتی کو نہ ہی تو بند کروایا ہے اور نہ ہی عوام کا خون چوسنے والی اس نئی بیماری کو ایجاد کرنے اور اس پر عمل کرنے والے افسروں کو کوئی سزاد ی ہے جس سے روز بروز یہ بیماری بڑھتی جا رہی ہے ایسے حالات میں روشنی کی ایک کرن سپریم کورٹ آف پاکستان ہی رہ جاتی ہے کہ وہ از خود نوٹس لیتے ہوئے وزیر بجلی و پانی سمیت تما م ڈکیت افسران واپڈا کو طلب کر کے صارفین سے لوٹی گئی فاضل رقم ریفنڈ کروانے کے علاوہ ان عوام دشمن افسروں کو گھر بھیجنے کا انتظام کرے گو کہ سپریم کورٹ آجکل پانامہ کیس میں بڑی مصروف ہے لیکن عوامی مفاد کا یہ مسئلہ بھی اربوں روپے کا ہے جس میں سپریم کورٹ کی فوری مداخلت