- الإعلانات -

اقوام متحدہ بھارتی اشتعال انگیزی کا نوٹس لے

ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے سیکٹر کھوئی رٹہ میں چار بچوں کی شہادت کی اقوام متحدہ کے حکام سے تحقیقات کی درخواست کی ہے ۔ واقعہ سے متعلق ثبوت مبصرین کی جی ایچ کیو آمد کے موقع پر حوالے کردئیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کو بھارتی آبدوز کی دراندازی کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا ۔ بھارتی فوج لائن آف کنٹرول پر فائرنگ میں پہل کرتی ہے اورنہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ پاک فوج منہ توڑ جواب دے رہی ہے۔ بھارت کی اشتعال انگیزی بڑھتی ہی جارہی ہے ۔ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے لیکن پاک فوج دشمن پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایل او سی پر بھارتی فائرنگ سے شہری اور دیہاتی آبادیوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے سرحدی قوانین کی پامالی حد سے بڑھ چکی ہے اور خطے میں خطرات کے بادل منڈلاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور چاہتا ہے کہ بھارت کے ساتھ تمام متنازعہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکلے لیکن بھارتی جارحیت پاکستان کی امن کاوشوں کو سبوتاژ کررہی ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ سے تحقیقات کا مطالبہ کرکے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا چاہیے۔ بھارت برسوں سے کشمیریوں کو حق خودارادیت بھی نہیں دے رہا اور ان پر مظالم اور سفاکی کا بازار گرم کیے ہوئے ہے اور تحریک آزادی کو دبانے کیلئے ریاستی تشدد کررہا ہے اور بھارتی افواج انسانی حقوق کی سرعام پامالی کررہی ہے ۔ اقوام متحدہ کی طوطا چشمی اور سرد مہری پر ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ اقوام متحدہ کو بھارتی جارحیت کا فوری نوٹس لینا چاہیے اور اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے ٹھوس شواہد بھی عالمی برادری کو دے چکا ہے۔’’را‘‘ کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی ،سرحدی قوانین کی دھجیاں اڑانا اور کشمیری عوام پر جبر وتشدد خطے کی تباہی کاباعث بن سکتے ہیں ان حالات میں پاکستان جس صبروتحمل کا عملی مظاہرہ کررہا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ دنیا کے منصفوں کو کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے اب نہیں بیٹھنا چاہیے اور پاک بھار ت کشیدگی کو ختم کرانے کیلئے کردار ادا ادا کرنا چاہیے بھارت کی دو عملی اور مکارانہ چال سے دنیا آگاہ ہونے کے باوجود نجانے کیوں خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ پاکستان کی افواج دشمن کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور مکار دشمن کے دانت کھٹے کرنے کیلئے تیار ہے ۔ بھارت نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو پھر خطے کی تباہی کا یہ خود ہی ذمہ دار ٹھہرے گا ۔ پاکستان مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کا پرامن حل چاہتا ہے لیکن مودی کا جنگی جنون ح الات کو کشیدگی کی طرف لے جارہا ہے۔ پاکستان بارت سے مرعوب نہیں ہے اور اپنے دفاع سے غافل بھی نہیں ہے۔ پاکستان کی بہادر افواج کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ یہ کسی بھی جارحیت کیلئے تیار ہے اور وطن کیلئے اپنی جانون کے نذرانے پیش کرنے کیلئے بے قرار اور بے تاب ہے۔ پاک فوج کا جذبہ شہادت بے مثال ہے بزدل دشمن شہری آبادیوں کو نشانہ بنارہا ہے اور مسلسل لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی اس نے اپنا معمول بنالیا ہے جو ایک خطرناک کھیل ہے جس کے نتائج انتہائی بھیانک نکل سکتے ہیں۔ مودی سرکار کا رویہ اس طرح رہا تو پھر خطے میں جو تباہی ہوگی اس پر اس کو پچھتانا پڑے گا ۔ پاک فوج دشمن کو دندان شکن جواب دے رہی ہے ۔ ڈرپوک دشمن معصوم شہریوں اور بچوں پر وار کررہا ہے۔ پاک فوج روایتی جنگ کیلئے تیار ہے ۔ دشمن کسی خوش فہمی میں نہ رہے اقوام متحدہ سے پاکستان نے تحقیقات کا جو مطالبہ کیا ہے وہ وقت کا تقاضا ہے۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل جیسے اداروں کو پاک بھارت کشیدگی سمیت تمام متنازعہ مسائل کا حل کروانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ بھارتی اشتعال انگیزی سے خطے میں خطرات کے بادل منڈلانے لگے ہیں ۔ بھارتی افواج کے آئے دن کی لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پاکستان کیلئے سخت تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ خطے کا امن تباہی کا شکار نہ ہو اور متنازعہ معاملات کا حل باہمی اتفاق رائے سے نکالا جائے لیکن بھارت کا رویہ جارحانہ ہے جس سے حالات انتہائی گھمبیر ہوتے جارہے ہیں۔ پاکستان نے اقوام متحدہ سے بچوں کی شہادت کی تحقیقات کی جو درخواست کی ہے اس پر اقوام متحدہ کو سنجیدگی سے غوروفکر کرنی چاہیے اور پاک بھارت بگڑتے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیے یہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے جس سے پہلوتہی خطے کے امن کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔
بھارت میں ٹرین حادثہ
بھارت میں ٹرین کے المناک حادثہ نے سینکڑوں مسافروں کی جان لے لی۔پٹنہ اندور ایکسپریس کی 14 بوگیاں ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور سے 100 کلو میٹر دور پورکھیاں میں پٹڑی سے اتر گئیں ۔کانپور زون کے انسپکٹر جنرل پولیس زکی احمد نے تصدیق کی ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 120ہوگئی ہے جبکہ200 سے زائد افراد زخمی ہیں۔اس سے قبل 100کے قریب ہلاکتوں کی تعداد بتائی گئی تھی تاہم کئی شدید زخمی ہسپتالوں میں دم توڑ گئے ۔ واقعہ رات 3 بجے کے قریب پیش آیا جب زیادہ تر مسافر سو رہے تھے۔ امدادی ٹیموں کے اہلکاروں نے حادثے میں زخمی ہونے والوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے جب کہ متعدد افراد کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔بھارتی ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں ٹرین کی 2 کوچز میں ہوئیں جب کہ مسافروں کو ان کی منزل پر روانہ کرنے کے لئے متبادل گاڑی کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ٹرین حادثے کے بعد نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس کو فوری طورپر پر جائے حادثہ پر پہنچنے کا حکم دے دیا ۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر اپنی ٹویٹ میں حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری تمام تر ہمدردیاں حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کے ساتھ ہیں۔وزیراعظم مودی نے کہا کہ انھوں نے وزیر ریل سوریش پرہبو سے بات کی ہے جو موجود حالات کی نگرانی خود کر رہے ہیں۔دوسری جانب بھارتی وزیر ریلوے سریش پرابھو نے بھی اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ حادثے کی انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے جب کہ حادثے کے متاثرین کی مالی معاونت بھی کی جائے گی۔ انکا کہنا ہے کہ ٹرین حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔حادثے کا شکار ہونے والی ٹرین پر سفر کرنے والے ایک مسافر نے بتایا کہ ‘رات کے تین بجے کے قریب ہمیں زوردار جھٹکا لگا۔ کئی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ ہر ایک صدمے میں تھا، میں نے خود کئی لاشیں اور زخمی دیکھے۔کانپورا سٹیشن ریلوے کے اہم جنکشنز میں سے ایک ہے اور یہاں سے ہر روز سینکڑوں ٹرینیں گزرتی ہیں۔ریلوے کے ترجمان انیل سکسینا نے بتایا کہ کانپور سے گزرنے والی دوسری ٹرینوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔بھارت میں ریلوے کا نظام پرانا ہونے کے سبب ٹرین کے حادثے معمول کی بات ہیں۔ایک اندازے کے مطابق بھارت میں ایک دن میں دو کروڑ 30 لاکھ افراد ٹرین کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ ٹرین کا سفر آرام دہ اور وسیلہ ظفر گردانا جاتا تھا لیکن دنیا میں ٹرین کے بڑھتے حادثات نے ریل کے سفر کو بھی جان لیوا بنا دیا ہے۔ پاکستان میں بھی ٹرین کے کئی حادثات