- الإعلانات -

پاک ترک سکول ۔۔۔چند مزید گذارشات ( 2)

ایک دلیل یہ بھی دی جا رہی ہے کہ یہ ترکی کا اپنے باشندوں کے ساتھ معاملہ ہے ۔ہمارا اس سے کوئی لینا دینا ہے۔جنہیں نکالا گیا وہ ترکی کے شہری تھے ۔ترکی نے کہا کہ انہیں نکال دو تو پاکستان نے نکال دیا ۔اس لیے ہمارا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں۔علم کی دنیا میں اس دلیل کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ بین الاقوامی قوانین میں ریاست اور فرد کے تعلقات کی نوعیت کیا ہے۔فرد کوئی جانور نہیں ہے کہ ریاست اس کی مالک ہو اور جب چاہے اس کی قسمت سے متعلق کوئی بھی فیصلہ سنا دے۔بین الاقوامی قانون میں فرد کا اپنا ایک مسلمہ وجود ہے ۔ایسا نہیں کہ ایک ریاست دوسری ریاست سے کہے میرا ایک جانور تمہارے پاس ہے اسے واپس کر دو اور وہ اسے واپس کر دے۔فرد ایک محترم وجود ہے جس کو بین الاقوامی قوانین و ضوابط میں کچھ تحفظات دیے گئے ہیں۔جو احباب اس موقف کا ابلاغ کر رہے ہیں ان سے گزارش ہے کہUniversal Declaration of Human Rights کا مطالعہ کر لیجیے ،آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کا موقف کس قدر کمزور اور سطحی ہے۔ایک ملک کا شہری دوسرے ملک میں قیام پزیر ہو اور اس کا ملک اسے واپس مانگ لے تو اس باب میں ، ایسا نہیں کہ، قانون خاموش ہو ۔اقوام متحدہ میں اقوام عالم نے مل بیٹھ کر اس طرح کی صورت حال سے نبٹنے کے لیے بہت محنت کے بعد قانون سازی کر رکھی ہے ۔اقوام متحدہ کے 1951 کے کنونشن میں، جس میں بعد ازاں 1967کے پروٹوکول نے تر میم کر کے اسے مزید بہتر بنا دیا ساری بحث ہی اسی صورت حال پر کی گئی ہے کہ ایک شہری اگر اپنے ملک سے باہر کہیں رہ رہا ہو،اسے خطرہ ہو کہ سیاسی اختلاف یا کسی مخصوس سماجی گروہ سے تعلق کی وجہ سے اسے اپنے ملک میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور وہ واپس اپنے ملک نہ جانا چاہتا ہو تو اس کو کیا حقوق حاصل ہوں گے۔اب اس بارے قانون بہت واضح ہے ۔کسی ریاست کو کوئی حق نہیں کہ ایسے فرد کو ملک سے نکال باہر کرے۔آپ نے تین دن میں نکل جانے کا حکم دے دیا۔پاکستان اور ترکی دونوں کی حکومتوں کو اقوام متحدہ کا یہ کنونشن اور اس کے پروٹوکول بھول گئے۔کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ کیوں؟بین الاقوامی قوانین صرف ایک صورت میں اس کی اجازت دیتے ہیں اور وہ صورت اسی کنونشن کے آرٹیکل 1(f) میں بیان کر دی گئی ہے۔اس ذیلی شق کے تحت ایسے افراد کو دستیاب قانونی تحفظ صرف اس صورت میں ختم ہو سکتا ہے اگر وہ جنگی جرائم میں ملوث ہوں، انسانیت کے خلاف دہشت گردانہ اقدامات کرتے رہے ہوںیا وہ اقوام متحدہ کے اصولوں اور مقاصد کو پامال کر چکے ہوں۔ہم جاننا چاہیں گے کہ ترک اساتذہ نے1951کے کنونشن کے آرٹیکل 1(f)میں دیے گئے جرائم میں سے کس جرم کا ارتکاب کیا ہے اور کب کیا ہے؟یہ ترک اساتذہ اس وقت سے پاکستان میں ہیں جب پاکستان کی پنجاب یونیورسٹی گولن کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری جاری فرما رہی تھی اور رجب طیب اردگان پاکستان تشریف لے جاتے تھے تو ان سکولوں میں بھی جایا کرتے تھے۔اسکے بعد اردوان اور گولن میں جو بھی اختلاف رہا ہو سوال یہ ہے کہ پاکستان میں رہنے والے ان اساتذہ کو کیسے مجرم قرار دے سکتا ہے جو اس سارے دورانیے میں (جب طیب اردوان اور گولن دوست تھے اور پھر مخالف ہو گئے ) پاکستان میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے؟ان کے جرم کی نوعیت کیا تھی؟یہ کیوں نہیں بتایا جا رہا؟5۔پاکستان کے ترکی کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں۔ان تعلقات کو بنتی بدلتی حکومتوں کی خواہشات پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔ان تعلقات کی ایک تاریخ ہے۔1966 میں پاکستان نے رجسٹریشن آف فارنرز آرڈر جاری کیااس میں دنیا کے صرف دو ممالک ایسے تھے جن کے بارے اس کی دفعہ 3(L)میں کہا گیا کہ ان کے شہری پاکستان میں رجسٹریشن کروائے بغیر تین ماہ تک قیام کر سکتے ہیں۔یہ تعلق خاطر معمولی نہیں ہے۔یہ حکومتوں کا بھی ہے اور دو معاشروں کا احترام باہمی بھی ہے۔اس لیے محض یہ کہہ دینا کہ ہم ترک حکومت کی بات ماننے پر مجبور تھے درست رویہ نہیں ہے۔ترک حکومت بھی محترم ہے مگر دو معاشروں میں جو احترام کا تعلق ہے وہ بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔سفارت کاری ہوتی کیا ہے؟نازک مرحلے پر راستے تلاش کرنا ہی سفارت کاری ہے۔ کسی ایک انتہا کا اسیر ہو جانا سفارت کاری نہیں ہوتی۔طیب اردوان کیلئے میرے دل میں احترام ہے مگر جس طرح اساتذہ کو نکالا گیا اس نے دکھی کر دیا۔یہ دکھ اگر ہمارا سماج محسوس کر سکتا ہے تو کیا ترک سماج میں اس کو محسوس کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔آج وہاں ایک مکتب فکر کی حکومت ہے کل دوسرا آ گیا تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے؟6۔بعض احباب کہہ رہے ہیں کہ یہ معاملہ محض چند ترک اساتذہ اور ترک حکومت کا ہے اس لیے ہمیں ان کیلئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں پاکستان کا مفاد دیکھنا چاہیے۔بات یہ ہے کہ ہماری پریشانی محض ترک اساتذہ نہیں ہیں۔ہماری اصل پریشانی تو یہ ہے کہ ریاست پاکستان میں کب وہ وقت آئے گا جب ہم بیرونی دباؤ کے آ گے غیر فقاریہ جانور بننے سے انکار کر دیں گے۔دباؤ آتا ہے تو ریمنڈ ڈیوس یہاں سے نکل جاتا ہے،دباؤ آتا ہے تو ہم سفارتی آداب کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں اور افغانستان کے سفیر کو امریکہ کے حوالے کر دیتے ہیں،ایوب خان نے بہت پہلے کتاب لکھی تو عنوان باندھا "Friends, Not masters” لیکن عملا صورت حال یہ ہے کہ ہر دوست آخری تجزیے میں ہمارے لیے وائسرائے ہی بن جاتا ہے۔ہمارے اس زوال مسلسل کی کوئی باٹم لائن ہے؟ہمارے تجزیہ نگاروں نے اس قوم کو نفسیاتی طور پر بیمار بنا دیا ہے۔کوئی ہمیں ’ برادر اسلامی ممالک‘ کا لولی پاپ دے کر بے حمیت بنانا چاہتا ہے تو مغرب کا خوف دلا کر۔ہماری نسل کو ان حکمرانوں اوردانشوروں نے ملامتی صوفی بنا دیا ہے۔ہمیں ہر وقت یہی بتایا جاتا ہے کہ ہمارا تو ستیاناس ہو جائے اگربرادر اسلامی ممالک ہمارے لیے یہ نہ کرے ۔یوں لگتا ہے دنیا میں ان دوست ممالک کی نظر کرم نہ ہوتی تو ہماری تو داستاں تک نہ باقی ہوتی۔ہر وقت ہر کولہو کے بیل کی طرح ان برادر ممالک کے احسانات تلے دبے رہتے ہیں اور ان نامعلوم احسانات کی کوئی بھی قیمت دینے کو تیار رہتے ہیں۔یہ افیون فروشی اب بند ہونی چاہیے۔اقوام عالم ہوں یا امت مسلمہ کوئی کسی پر کوئی احسان نہیں کرتا۔کسی ملک نے ہم سے کچھ اچھا کیا ہوگا تو بدلے میں ہم نے بھی اس کے لیے کچھ کیا ہی ہوگا۔لو اور دو کے اس کھیل میں احترام باہمی تو ہو سکتا ہے بلاوجہ کی ممنونیت کا طوق گلے میں