- الإعلانات -

ہمارے رویے اور حب وطن کے تقاضے

پچھلے دو دن سے ٹی وی پہ خبروں میں دکھایا جا رہا ہے اور یہ خبریں اخبارات کی زینت بھی بن رہی ہیں کہ چین میں بننے والی گاڑیاں چین کی بندرگاہ پر پہنچا دی گئی ہیں اور جلد ہی گاڑیاں کراچی آیا چاہتی ہیں جو یہاں پہنچ کر کراچی کا کوڑا کرکٹ جمع کرکے کراچی کی صفائی ستھرائی کریں گی بظاہر تو یہ نہایت خوش آئند بات ہے کہ ہمارا کراچی کا سینیٹری کا نظام بہتر ہو جائے گاکاش یہ خبر کچھ اس طرح ہوتی کہ چین نے عصری علوم پر مشتمل کراچی میں ایک عدد یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے جس میں میٹلرجی،صحت عامہ ،جدید طب زراعت و صنعت ،دفاع کیمیاویات سمندری علوم فشری موسمیات پر تحقیق کرے گی اور اور جدید تحقیقی مقالے لکھے جائیں گے اور پاکستانی اسکالرز پی ایچ ڈی کریں گے لیکن بحیثیت ایک عام پاکستانی کے ہمارے لئے ڈوب مرنے کام مقام ہے کہ یہ قوم جس نے بے سروسامانی اور ہزار سازشوں کے باوجود نہ صرف اپنا وجود قائم رکھا اور وہ وہ محیر العقول کارنامے انجام دئے کہ دنیاانگشت بدندان ہے ہمارے پڑوسی ملک نے قومی تجوریوں کے منہ کھول دینے کے باوجود وہ اس کا عشر و عشیر بھی نہین کرسکا جو پاکستان کے فرزندوں نے کر دکھایا دفاعی ٹیکنالوجی میں معجزے دکھائے دنیا کا بہترین میزائیل نظام اور وارہیڈ ڈلیوری کا ایسا نظام تخلیق کیا جس میں سو فیصد درست نشانہ لگانے کی صلاحیت ہے اور بڑے بڑوں کے لئے اچھنبے کا باعث ہے ہم نے ایک چیلنج قبول کرتے ہوئے ایک ایسی گن تخلیق کی جو تین اطراف میں فائر کرتی ہے جو ویڈیو سے کور بھی ہوتی ہے یہ افسانہ نہیں حقیقت ہے جس گن کا استعمال پاکستان کی مسلح افواج ضرب عضب میں نہایت کامیابی سے کر چکی ہیں کاش لوگوں کو بتایا جا سکے کہ پاکستان نے جو شاہکار ایف جے 17تھنڈر جہاز بنایا اس میں 60 فیصد سے زیادہ تحقیق اور ڈیزائینگ پاکستانیوں کی ہے نہایت ادب سے گزارش ہے کہ چینیوں کو مغربی ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے والے بھی پاکستانی ہی تھے جنہوں نے اپنے چینی دوستوں کی بہت مدد کی خاص طور پر جب ہمارا برادر چین ایک بند معاشرہ تھا تو کیا ہم اتنے نا اہل اور نا لائق لوگ ہیں کہ گھر کی صفائی جیسے بنیادی کام کے لئے ہم انہیں کے محتاج ہو گئے ہیں آپ نے صفائی کے نام پر ایک لاؤ لشکر کاغذوں کی حد تک بھرتی کر رکھا ہے کئی کا تو سرے سے وجود ہی نہیں اور غالب اکثریت گھر بیٹھے تنخواہ وصولتی ہے صفائی والی گاڑیاں جب تک چلتی رہتی ہیں تو چلتی رہتی ہیں جس دن ذرا سی خرابی ہوئی جو نہایت قلیل خرچ سے ٹھیک ہوسکتی ہے لیکن جس ورکشاپ میں ان گاڑیوں کو ٹھیک ہونا ہوتا ہے اس کا عملہ یا تو گھر پر آرام کر رہا ہوتا ہے یا اپنا ذاتی کاروبار کر رہا ہوتا ہے گاڑی کھڑی ہو گئی کچھ عرصے بعد اس کے ٹائر اور دیگر پرزے اور آخر میں انجن تک کباڑ میں بیچ دیا جاتا ہے گاڑیوں کے نام پر آنے والا ڈیزل،انجن آیل اور دیگر اسپئر پارٹس خرد برد کر لئے جاتے ہیں کیا آپ نے غور کیا ایسا کیوں ہے تو جواب ہے کرپشن کرپشن اور کرپشن اور احتساب کا نہ ہونا، ایک زمانہ تھا کہ کراچی کی سڑکیں روزانہ کی بنیاد پر دھلتی تھیں باقی صفائی ستھرائی کے کیا کہنے تب چونکہ ملک میں جمہوریت نہیں تھی اور ہم غلام قوم تھے اس لئے سب کچھ بہتر چل رہا تھا آج چونکہ ہم آزاد ہیں اور ہمارے ہاں جمہوریت پھل پھول رہی ہے اور اس قدر پھولی پھیلی ہے کہ اس کے ٹانڈے اور اثرات پانامہ اور سرے محل تک جا پہنچے ہیں یوں تو اس کے برگ و بار آپ پر کو مشرق وسطی اور ملائیشیا میں بھی نظر آئیں گے لیکن کہیں کہیں اس کے کچھ پھول کلیاں آپ کو اسپین اور سری لنکا میں نظر آئیں گی آج کل ہماری خوابیدہ قوم کی آنکھ کھلے تو یہ جمہوریت ملک کی اعلی ترین عدالت میں بھی کھجل ہوتے نظر آرہی ہوگی اس جمہوریت کی کارفرمائیاں آپ کو پورے پاکستان مین ابلتے گٹر اور ٹوٹی سڑکوں جانوروں کے مسکن اسکولوں، بغیر دوائی اور علاج کے ہسپتالوں تباہ و برباد پاکستان کی واحد اسٹیل مل اور تباہ حال ریلوے اور ڈوبتی ہوئی قومی ایرلائن کی صورت میں نظر آئیں گی یہی جمہوریت اور اس کی برکات آپ کو ایل ڈی اے ،سی ڈی اے ،کے بی سی ،واسا پولیس کسٹم ایف آئی اے ،نیب اور نہ جانے کہاں کہاں نظر آتا ہوگا ویسے تو پورا ملک ہی جمہوریت کے فیوض و برکات زد میں ہے لیکن پیپلزپارٹی کے سیاسی قبلے لاڑکانہ اور نواب شاہ پر اس جمہوریت نے خوب ہن برسایا ہے جہاں اخباری اطلاع کے مطابق لاڑکانہ کے لئے ایک سو ارب کا پیکج دیا گیا لیکن اس پیکیج کے اثرات لاڑکانہ میں تو نہیں دکھے البتہ اس کے خوش گوار اثرات مشرق وسطی میں ضرور پڑے اب ہمیں چونکہ optical illusion کا مرض لاحق ہے اور رتوندہ بھی ہے تو اگر اس پیکیج کے کوئی اثرات آپ کو لاڑکانہ میں نظر آئے ہوں تو ذرا ہمیں بھی مطلع فرمادیجئے گا اس کا ممکنہ حل کیا تھا آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ گھریلو کوڑا کرکٹ آج کے زمانے میں دنیا بھر میں نہایت کارآمد اور قیمتی چیز سمجھی جاتی ہے اس میں سے بہت زیادہ ری سائیکلنگ میٹیریل حاصل ہوتا ہے جو ریسائکل نہیں ہو سکتا اس کو خاص قسم کی بھٹیوں میں جلا کر بجلی پیدا کی جاتی ہے جس سے ایک تو شہر سے آلودگی ختم ہوتی ہے اسی کے ساتھ سیوریج کے پانی کو جو میٹھا پانی ہوتا ہے اس کو ہم سمندر میں ڈال کر ضائع کرکے دہرا نقصان کرتے ہیں ایک میٹھا پانی دوسرا untreated غلاظت جس سے ہماری آبی حیات متاثر ہوتی ہے اور اسی مچھلی کو ہم کھاتے ہیں دنیا بھر میں اس پانی کوبڑے بڑے تالابوں میں بھر کر ایک پراسیس کے ذریعے بیماریوں سے پاک کیا جاتا ہے پانی نتھار کر باغوں اور زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کا بچ جانے والا ویسٹ جو مٹی کی شکل میں ہوتا ہے اسے گھریلو کچرے کے برادے میں ملا کر زراعت اور پھولوں کی کیاریوں اور بڑے پیمانے پر زرعی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ نہایت منافع بخش کاروبار ہے اور یہی چینی کمپنی کرے گی اور ہم اتنے بانجھ ہو چکے ہیں کہ یہ ہم نہیں کر سکتے یہی قومی بے حسی ہے جس کا ہم شکار ہیں اللہ ہمیں اور ہماریحکمرانوں کو اس پیارے وطن سے اخلاص دیانت اور محبت کی توفیق دے ۔آمین