- الإعلانات -

مکروہ بھارتی چہرہ

بھارتی حکمران یوں تو ہمیشہ سے ہی یہ دعوے کرتے چلے آ رہے ہیں کہ وہ عالمی امن کو تقویت پہنچانے کے لئے ہر ممکن سعی کرتے ہیں اور اس حوالے سے ان کا کردار بہت بہتر ہے۔ مگر اسے حالات کی ستم ظریفی ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ وقتاً فوقتاً حالات و واقعات ان کے بے بنیاد دعووں کی قلعی کھولتے چلے آ رہے ہیں اور ان کی اصلیت دنیا پر ہر آنے والے دن کے ساتھ واضح ہوتی جا رہی ہے ۔ اس امر کا انکشاف حالیہ دنوں میں اس وقت سامنے آیا جب الجزیرہ ٹیلی ویژن نے یہ انکشاف کیا کہ بھارت اور شمالی کوریا اپنے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے کے لئے مزید پیش رفت کر رہے ہیں اور اسی ضمن میں دہلی نے شمالی کوریا کے سائنسدانوں کو بہت سی ایسی معلومات فراہم کیں ہیں جن کے نتیجے میں شمالی کوریا کو خلائی تحقیق میں خطر ناک حد تک مدد ملی ہے اور خود امریکی حلقوں میں یہ تشویش پیدا ہو چلی ہے کہ بھارت عالمی امن کے حوالے سے کسی بھی طور مخلص نہیں ہے اور اس جانب اگر خاطر خواہ توجہ نہ دی گئی تو دہلی کسی بھی قسم کی نئی مہم جوئی کر سکتا ہے ۔ الجزیرہ ٹیلی ویژن کے مطابق ماضی قریب میں شمالی کوریا نے اپنے تیس سے زیادہ سائنسدانوں کو بھارت کے خلائی تحقیق کے مختلف اداروں میں بھیجا ہے جہاں پر بھارت اور شمالی کوریا مشترکہ طور پر خلائی تحقیق کے ایسے منصوبوں میں خفیہ طور پر مصروفِ عمل ہیں جن کے ذریعے یہ دونوں ممالک اپنے اہداف کو آگے بڑھا سکتے ہیں ۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ ایسے حساس معاملات ہیں جن کی وجہ سے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں تشویش کا پیدا ہونا ایک فطری سی بات ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان بھارتی اقدامات پر بہت سے معتبر حلقوں نے بجا طور پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ اگر ان بھارتی سازشوں کا بر وقت مداوا نہ کیا گیا تو ان کے اثرات پوری عالمی برادری کو متاثر کر سکتے ہیں ۔ اسی حوالے سے مزید جزیات کا انکشاف کرتے ہوئے سنجیدہ حلقوں نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے سائنسدانوں کی ایک بڑی تعداد کو بھارتی ادارے ’’ CSSTEAP ‘‘ ( سینٹر فار سپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایجوکیشن ان ایشیاء اینڈ پیسیفک ) و دیگر اداروں میں تحقیق کی غرض سے بھیجا ہے ۔ یاد رہے کہ یہ ادارہ بھارتی صوبے ’’ اتر کھنڈ ‘‘ کے صوبائی دارالحکومت ’’ ڈیرہ دُون ‘‘ میں ’’ کالی داس روڈ ، شکتی کالونی ‘‘ پر واقع ہے ۔ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ 2006 کے اوائل میں شمالی کوریا میں ہونے والی پیش رفت کے بعد سے امریکہ اور ساری مغربی دنیا نے شمالی کوریا پر کئی پابندیا ں عائد کر رکھی ہیں۔ مگر بھارت نے ان تمام عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے