- الإعلانات -

اسرائیل کا کیا کیا جائے؟

فلسطینیوں کا قتل عام اسرائیل کے نزدیک رد عمل یا دفاعی حکمت عملی کی کسی خود ساختہ تعبیر کا نام نہیں،ہو سکتا ہے آپ کو عجیب لگے لیکن حقائق بتاتے ہیں کہ فلسطینیوں کا قتل صیہونیوں کے نزدیک ایمان اور عقیدے کا معاملہ ہے۔کنٹرولڈ میڈیا کی طاقت کے اس زمانے میں ایسے حقائق عموما اجتماعی فکر کیلئے اجنبی رہتے ہیں لیکن جب تک ان حقائق کا ادراک نہ کر لیا جائے یہ گرہ نہیں کھلے گی کہ اسرائیل سے معاملہ کیسے کیا جائے۔
اسرائیل کے ہاں یہ بات ایک مذہبی عقیدے کا تقدس رکھتی ہے کہ نیل سے فرات تک کا علاقہ خدا تعالی نے بنی اسرائیل کیلئے خاص کر دیا ہے اور بنی اسرائیل پر یہ ایک مذہبی فریضے کی طرح لازم ہے کہ وہ عربوں کو ماربھگائیں اور اس علاقے کو اپنے لئے خاص کر لیں۔ذرا یہ اقتباس پڑھیے:
’’خداوند نے ابراہیم کے ساتھ معاہدہ کیا ان شرائط پرکہ میں تمہارے ورثاء کو مصر کے دریا(نیل) سے لے کر بڑے دریا( فرات) کا علاقہ بخشتا ہوں‘‘( بحوالہ جینیسس15:18.21)
اس تصور کو biblical lands کہا جاتا ہے اور اسرائیل کے دائیں بازو کے انتہا پسند اور بائیں بازو کے لبرلز سب کے ہاں قبول عام حاصل ہے۔راجر گراؤڈی جو فرانس کی نیشنل اسمبلی کے رکن، ڈپٹی سپیکر اور سینیٹر کے عہدوں پر رہ چکے ہیں اپنی کتاب ’ دی فاؤنڈنگ متھ آف اسرائیلی پالیسی‘ کے صفحہ 91پر لکھتے ہیں؛’’تمام صیہونی قائدین حتی کہ لاادری اور ملحدین بھی یہ دعوی کرتے ہیں کہ فلسچین ہمیں خداوند کی جانب سے عطا کیا گیا ہے‘‘۔نیتھن وینسٹاک اپنی کتاب ’ زائیونسٹ اگینسٹ اسرائیل‘ کے صفحہ 315 پر لکھتے ہیںَ’’یہ ملک بذات خود خدا تعالی کے وعدے کی تکمیل کے طور پر موجود ہے۔اس کے جواز اور یہاں سے عربوں کی بے دخلی کے بارے میں سوال اٹھانا خدا کی مرضی کے برعکس کام ہو گا‘‘۔10اگست 1967کے یروشلم پوسٹ کا ایک شمارہ مجھے فلسطینی ایمبیسی میں دیکھنے کو ملا ۔اس مین موشے دایان کا ایک بیان شائع ہوا تھا۔صاحب کہتے ہیں:’’اگر کوئی شخص اپنے پاس کتاب مقدس رکھتا ہے اور اگر کوئی خود کو یہودی سمجھتا ہے تو اس کا مذہبی فریضہ ہے کہ وہ ان تمام زمینوں پر قابض ہو جن کا ذکر کتاب مقدس میں آ یا ہے‘‘۔گولڈا مائر کا ایک بیان 15جون 1969 کے سنڈے ٹائمز میں شائع ہوا ۔ان کا کہنا تھا:’’فلسطینی عوام نام کی کوئی چیز اپنا وجود نہیں رکھتی۔ایک بے معنی چیز پر شور کیوں مچایا جا رہا ہے‘‘۔نیشنل جیوش فنڈ ڈائرکٹر یوسف وٹز کا ایک بیان تل ابیب کے ہفت روزے جرنل میں شائع ہوا ،وہ کہتے ہیں:’’یہ بات ہم پر عیاں ہو جانی چاہیے کہ اس ملک میں دو قوموں کے لیے گنجائش نہیں ہے۔اگر عرب خود اس کو چھوڑ دیں تو ہمارے لیے اس میں کافی کچھ ہے۔اس کے علاوہ کرنے کا اور کوئی کام نہیں کہ عربوں کا صفایا کر دیا جائے ۔ہمیں کوئی ایک گاؤں اور کوئی ایک قبیلہ نہیں چھوڑنا چاہیے۔سب کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہیے‘‘۔اسرائیل کے معروف اخبار ’یدیوت اہرانوف‘ کی 14جولائی 1972کی اشاعت میں یورام بار نامی ایک صاحب لکھتے ہیں:’’یہ اسرائیلی قیادت کا فرض ہے کہ عوام کے سامنے ان حقائق کو واضح طور پر بہادری کے ساتھ پیش کریں جو وقت کے ساتھ بھلائے جا چکے ہیں۔ان میں سے پہلا یہ ہے کہ عربوں کو نکالے اور ان کی زمینوں پر قبضہ کیے بغیر کوئی صیہونیت ،آباد کاری کا عمل اور یہودی ریاست نہیں ہے‘‘
biblical land کا عقیدہ یہودیوں کے ہاں اتنا پختہ ہو چکا ہے کہ یہودیوں کو قانونا اس بات سے روک دیا گیا ہے کہ جو زمین ان کی ملکیت ہے یا جس پر قابض ہو کر وہ ملکیت جما چکے ہیں کسی غیر یہودی کو فروخت کریں یا کراے پر دیں۔حتی کہ وہ یہ زمین کسی عرب کو محض کاشتکاری کے لیے بھی نہیں دے سکتے۔یہ ممانعت نیشنل جیوش فند لاء( Keren Kayemet) اور ری کنسٹرکشن فنڈ لاء(Keren Hayesod) کے تحت عائد کی گئی ہے۔law 124کے مطابق اسرائیل حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ کسی بھی علاقے مین کسی بھی زمین پر کسی بھی وقت قبضہ کر سکتی ہے۔Law124برطانیہ کا قانون تھا جسے برنارڈ جوزف نے ’ سرکاری دہشت گردی ‘ قرار دیا تھا لیکن یہی جوزف جب اسرائیل کے وزیر انصاف بنے تو مذہبی عقائد کے پیش نظر عربوں کی زمینوں پر قبضے کو جائز قرار دے دیا۔اسی مذہبی فریضے کا ابلاغ کرتے ہوئے جمی کارٹر نے کہا تھا:’’ امریکہ کیلئے اسرائیل کی بقاء ایک سیاسی نہیں ایک مذہبی فریضہ ہے‘‘کچھ عرصہ قبل فلسطین میں مسجد اقصی کے باہر مظاہرین نے پاکستان کو آواز دی تو سیکولر احباب نے اس پر بڑی پھبتی کسی۔ان احباب کی خدمت میں اسرائیل کے سابق وزیر اعظم بن گوریان کی ایک تقریر کا ایک اقتباس پیش خدمت ہے جو انہوں نے 19اگست1967کو برطانوی ہفت روزے ’ دی جیوش کرانیکل ‘میں بھی شائع ہوا؛’’عالمی صیہونی تحریک کو پاکستان کے خطرے سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔اب پاکستان اس کا پہلا نشانہ ہونا چاہیے کیوں کہ یہ نظریاتی ریاست ہمارے وجود کے لئے ایک چیلنج ہے ۔پاکستان یہودیوں سے نفرت اور عربوں کے ساتھ محبت کرتا ہے ۔عرب ہمارے لئے اتنے خطرناک نہیں جتنا عربوں کے ساتھ محبت کرنے والا پاکستان خطرناک ہے۔اس خطرے کے پیش نظر صیہونیت کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف فوری قدم اٹھائے۔اس کے بر خلاف ہندوستان کے ہندو تاریخ میں ہمیشہ مسلمانوں سے نفرت کرتے رہے ہیں ۔پاکستان کیخلاف جدوجہد کرنے اور تحریک چلانے کیلئے ہندوستان یہ ہمارے لئے سب سے اہم بیس ہے۔ضروری ہے کہ اسے استعمال کریں اور بھیس بدل کر یا خفیہ پلان کے زریعے یہں سے یہودیوں اور صیہونیت سے نفرت کرنے والے پاکستانیوں پر کاری ضرب لگائیں اور انہیں فنا کر دیں‘‘
جب یہ بات واضح ہو گئی کہ اسرائیل کے عزائم کیا ہیں اور کس طرح اس نے اپنی جارحیت اور درندگی کو مذہبی رنگ دے رکھا ہے تو پھر یہ دیکھ کر حیرت نہیں ہوتی کہ جب اسرائیلی جہاز وحشت اور بربریت پھیلا رہے تھے کس طرح یہودیوں کی عورتین بچے اور بوڑھے ایک پہاڑی پر بیٹھ کر سب کچھ دیکھ رہے تھے اور یوں تالیاں بجا رہے تھے جیسے پکنک پر آئے ہوں۔اس سارے پس منظر کے بعد اب سوال یہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ معاملہ کس طرح کیا جائے؟ کیا کسی بھی طرح کی سفارت کاری سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے؟ میرے نزدیک اس کا جواب نفی میں ہے۔تو کیا اسرائیل کے ساتھ فورا ایک حتمی جنگ لڑنی چاہیے؟ میرے خیال میں اس کا جواب بھی نفی میں ہے۔معاملہ کہیں زیادہ سنجیدگی چاہتا ہے۔اس پر اگلے کالم میں بات کریں