- الإعلانات -

ْٓقانونِ قدرت اور غیر معمولی موحو لیاتی تغیرّ و تبدل

اﷲ تعالیٰ اپنی قد رتِ کاملہ سے رات میں سے دن یعنی اند ھیر ے میں سے اُجا لا نکالتا ہے اور پھر پوری کائنات منور ہو جا تی ہے ۔ تمام موجو داتِ کا ئنات جس میں ارض و سما میں موجو د بنی نو ع انسان، جنات، چرند ، پر ند ، درند ے ، سمندر ، دریا ، پہاڑ ، نبا تات ، جما دات ، شجر و ہجر اور زیر زمین دفینے اور پانی کے ذخا ئر اور اسی طرح سما وی مو جو دات میں سورج ، چاند ستا رے ، سیا رے ، سیا ر چے ان گنت کہکشائیں اور پورا اجرام فلکی پکار کر کہہ رہا ہے کہ بنانے والے نے یہ عظیم بے مثال کا ئنات بنا کر یوں ہی نہیں چھوڑ دی ہا ں البتہ انسان کو اس کی تسخیر کا حکم دیا ہے اور پھر اس میں بقدر ضرورت استعداد اور استطاعت بھی ودیعت کر دی ہے تاکہ وہ اسے اپنی بقا ء اور ترقی کیلئے تصرّف میں لا سکیں لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ انسان کا ئناتی نظام اور اس میں موجو دات کو بے رحمی اور بے دردی سے تہس نہس اور برباد کر تا پھر ے ۔ بلکہ اُس کی ذات با بر کا ت کی بے پا یا ں اور بے شمار نعمتوں کا ذکر و شکر کر ے نہ کہ عطا کرددہ نعمتوں کا کفران کر ے کیو نکہ فرمایا گیا ہے کہ ۔ شکران والوں کی نعمتیں اور زیا دہ کی جاتی ہیں اور کفران والوں سے دی ہو ئی نعمتیں بھی چھن جا تی ہیں ۔ لہذا انسان کو اشرف المخلوقات ہو تے ہو ئے شکران والا ہی بننا ہے ورنہ اسکے علاوہ وہ گناہ ، خسارے اور حد سے بڑ ھ جا نے والا بن جا تا ہے اور روئے زمین ظلم اور تعدّی اور دوسرے کا حق ما رنے پر تُل جا تا ہے جس سے معاشر ے میں فسا د او رفسق و فجور پیدا ہو تا ہے اور انسانی معا شرے ٹو ٹنا ، بکھر نا اور پھر زوال پذ یر ہو نا شروع ہو جاتے ہیں ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ سائنسدان ، مو سمیا ت اور مو حو لیا ت کے ماہرین کا ئناتی تبد یلیوں کے بارے میں نت نئے دعوے کر رہے ہیں اور مختلف اوقات میں کا ئنات میں پہلے سے موجو د اور پھر انسانی تباہ کن غلط کاریاں جو وہ نظام کا ئنات کی تر تیب (Divine arrangement)کے سا تھ کر رہا ہے وہ یہ نہیں سمجھ رہا کہ کا ئنات کا صانع اور بنانے والا صرف سن ہی نہیں بلکہ دیکھ رہا ہے کیو نکہ وہ حاضر و ناظر ہے اُس کی قدرت نے ارض و سماء کا احاطہ کیا ہو ا ہے اور نہ اُس کو اونگھ آتی ہے اور نہ اُسے کا ئنات کا نظام چلا نے سے کو ئی عمل تھکا سکتا ہے ۔ وہی اس کا ئنات کو ازل سے چلا رہا ہے اور اُسی کا حکم ہر چیز پر جا ری و ساری ہے ۔ بقول شاعر
کو ئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے
وہی خدا ہے ،وہی خدا ہے
اس سلسلے کو بغور دیکھا جا ئے تو انسان نے ایٹمی دھما کوں ، تباہ کن ہتھیاروں ، انسان دشمن اور مہلک میزائلوں کے تجربا ت ، فضاء ا اور سمندروں میں مو حو لیا تی آلو دگی پیدا کر نے والے تمام بڑ ے اقدامات کیے ہو ئے ہیں جس میں کیمیا ئی دھواں ، زہر یلا گر د و غبار اور اس اختلاط اور انجذاب کے عمل سے پیدا ہونے والے فضلے اور دیگر ما حو لیاتی کثا فتیں ہماری کا ئناتی اوزون کو جس میں بلیک ہو ل کی مثال سامنے ہے جس سے یہ تمام آلو دگیاں اور کثا فتیں تہہ بہ تہہ زمینی اور فضا ء کو مکدر اور برابر زہر یلی آلو دگی سے گھیر رہی ہیں وہ النینوAlnino Scenario)ہو یا بحر ہند اور خلیج بنگا ل سے اُٹھنے والے سائیکلون اور انٹی سائیکلون ہو ں خلیجی فارس اور بحرہ عرب سے اُٹھنی والی ہو ائیں جن کا رخ بجا ئے میدانوں کے طرف ہونے کے وہ سمندر کے اُوپر سے امر یکہ کی طرف رخ کر رہی ہیں ۔ حالیہ موسمی پیش گوئی کے مطابق پاکستان اور انڈ یا اور ساؤ تھ ایشیا کے دیگر ممالک تقریباً اٹھارہ ماہ کی مو سمی خشک سالی کا شکار ہو سکتے ہیں اور با رشوں کا قلیل مقدار میں ہو نا ہماری بارانی زراعت (Arid Zone)اور زیا دہ وسیع کر دے گا اسی طرح گز شتہ پا نچ سالو ں سے بحر ا وقیانوس سے اُٹھنے والی سمندر ی ہو ائیں اور بحر ی طوفان اور سونامی وغیر ہ نے امریکہ کی ساحلی ریا ستوں کو شدید نقصان پہنچایا اور ابھی حال ہی میں ایسی کیفیت رہی ہے ۔ گزشتہ سالوں میں بحیر ہ ہند میں شدید زلزلے کے نتیجے میں پیدا ہو نے والی سونامی نے انڈو نیشیا کو بُری طرح متا ثر کیا اسی طرح جا پا ن اور انڈ یا کے ساحلی علا قے بھی اس کی لپیٹ میں رہے اور ابھی چند دن پہلے نیو زی لینڈ کے سمندر میں آ نے والے زلز لے اور اسکے نتیجے میں پید ا ہو نے والی سو نامی نیوزی لینڈ کے انفرا سٹکچر کو خاصانقصان پہنچایا ۔ ما ضی میں اکتوبر 2005 ؁ء میں پاکستان میں آنے والا قیامت خیز زلزلہ جس نے کشمیر اور شمالی علا قہ جا ت میں تقریباً ایک لا کھ افراد کو لقمہ اجل بنایا اور بے پنا ہ ما لی نقصان ہوا ۔
گز شتہ ہفتے کی مو سمی پیش گوئی کے مطابق اسلام آباد اور پو ٹھوار کا علاقہ عرصہ دو ماہ تک سر دیوں کی بارشوں سے محروم رہے گا جس کے نتیجے میں گند م کی فصل متاثر ہو گی اور ایسی ہی صورت حال پورے بارانی ایر یا جن میں پنجاب کا بارانی ایریا خاص کر تھل کا علاقہ بُری طر ح متاثر ہو رہاہے کیو نکہ با رش کا نہ ہونے اور زمینی واٹر لیو ل کم ہو نے اور وتر کے نہ ہو نے سے چنے کی فصل کی کاشت انتہائی پر یشان کن صورت حال سے گزر رہی ہے ۔ پلا ننگ نہ ہو نے سے کا شتکاروں نے اپنے محدود قطعات اراضی میں آمدنی کا ذریعہ بنا نے کیلئے چھوٹے ٹیوب ویل اور با قی آبپا شی کے ذرائع کو استعمال میں لاتے ہو ئے سفیدے(Ucleptus) کے درخت لگا دیے ہیں جس سے قدرتی واٹر لیو ل اور بھی نیچے چلا گیا ہے اسی طرح کہیں کو ئلہ سے چلنے والے بجلی پیداکر نے والے پلانٹ جیسے ساہیوال کا پلانٹ شامل ہے جس سے زر عی زمینی آلو دگی کے علاوہ فصلیں بر باد ہو رہی ہیں اور کہیں جنگلا ت کا کھلواڑ کر دیا گیا ہے اور قدرتی فلورا اور فوانا (Flora & Fuana)بُری طرح متاثر ہو ا جس کے نتیجے میں مقامی جنگلی حیات بھی نا پید ہوتی جا رہی ہیں اور موسمی اور ما حو لیاتی تبدیلی اور زیا دہ گہری ہو تی جا رہی ہے جس کی تا زہ مثال ایران اور افغا نستان سے آنے والی زہر یلی گرد آلو د ہواجس کو سمو گ (Smog)کا نام دیا گیا ہے نے پور ے خطے میں لو گوں کو بیماریوں میں مبتلا کر دیا ہے ۔ اگر گلوبل وارمنگ اور قطبین اور دُنیا کے بلند و با لا پہاڑی سلسلوں میں موجو د گلیشیر کا تیزی سے پگلنے کا عمل رونما ہو رہا ہے غیر معمولی طور پر سیلاب اور دیگر تباہ کاریاں مو سمی تغیر و تبدل کی واضح مثال ہیں ۔ اسی طرح زلزلے اور آتش فشاں پہاڑ اپنی اپنی طرح کی بربادیاں اور سمندرو ں کی سونا میاں سب کے سامنے ہیں ۔ مو سموں کے دورانیے تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں جیسے مو سم سرما کا دورانیہ سکڑ رہا ہے جبکہ مو سم گر ما کا دورانیہ لمبا ہو رہا ہے اور غیر معمولی درجہ حرارت عالمی نو عیت کیا بلکہ کائناتی تبدیلیوں کی نشان دہی کر رہا ہے ۔ گزشتہ سال فرانس کی ایک موسمی اورماحولیاتی ریسرچ سے متعلق رپورٹ میں بتا یا گیا تھا کہ جز یر ہ نما عر ب میں 2050 ؁ء تک اور اُسکے بعد درجہ حرارت غیر معمولی طور پر شدت اختیار کر جا ئیگا جس کے سامنے ائیر کنڈ یشن کا نظام بھی مشکل سے ٹھہر سکے گا اور ایسے شد ید درجہ حرارت میں انسانوں کی کھال (Skin)اُدھڑ جائے گی ۔
ہما رے دین میں آثار قیا مت میں سے مو سموں کے تغیر و تبدل اور بڑی حیران کن تبد یلیوں کے وقوع پذیر ہونے کے با رے میں ذکر کیا گیا ہے جو کائناتی اور حیا تیا تی مو ضوعات کو بدل کر رکھ دے گی کیو نکہ کائنات کا نظام چلا نے والا خدا ئے بزر گ و برتر اپنی سنت تبدیل نہیں کر تا ، وہ جب اور جیسے چا ہے گا نظامِ و ہست و بود لپیٹ دیگا ۔
بقول شاعر:ساماں سو بر س کا پل کی خبر نہیں
آج کے تر قی یا فتہ دور میں تر قی یا فتہ اقوام کا غر یب اور پسماند ہ اقوام پر ظلم و تعدّی اور غلبے کے محرکات کو دیکھا جا ئے تو یہ کہہ دینا آسان نہیں ہے کہ یہی منشائے الہیٰ ہے بلکہ یہ مجبور و مقہور اور غر یبوں کا استحصال ہے جو مراعات یا فتہ اور استحصالی طبقہ ازل سے کر تا آرہا ہے اور کر رہا ہے بقو ل مشہور مور خ ٹائن بی کے جب طاقتور طبقات کا ظلم و جوّر غریب اور پسماندہ طبقوں پر بڑ ھ جاتا ہے اور غر یبوں کے خون کو ارزاں سمجھا جا تا ہے تو پھر قانون قدرت (Divine Law)ضرور اپنی جگہ (Prevail)کر تا ہے ۔ پھر انارکی اور انقلاب اور نیا نظام وجو د میں آتا ہے اور انہی حالات کے جبر سے انقلا بی قیا دتیں منصہ شہود پر آتی ہیں اور طبقاتی تشکیل ایک نیا انداز اور نیا طر ز حکمرانی محروم معاشروں کو عطا کر تی ہیں ۔ حال ہی میں دیکھا جا ئے تو تمام کو ششوں کے باوجو د ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ کی قیا دت سنبھالنا صرف عالمی سیا ست ہی نہیں بلکہ پور ے عالمی معاشرے کو ایک نیا پیغام ہے ۔ کیو نکہ ایک عرصے سے امریکہ پوری دُنیا میں اپنا تسلط قائم کیے ہو ئے ہے اب معلوم ہو جا ئے گا کے بڑ ے پیما نے پر امریکہ سے تارکین وطن کی واپسی اور دیگر شعبوں اور بین الا قوامی تعلقا ت میں انقلا بی تبدیلیاں ہو ں گی ۔ حضرت ابن عباسؓ کا فرمان ہے کہ اﷲ تعالیٰ جب کسی قوم کی بھلا ئی چاہتا ہے تو اچھوں کو اُن پر مسلّط کر تا ہے اور بُروں کے اعمال کی وجہ سے اُن پر بُروں کو مسلّط کر تا ہے کیو نکہ وہ دراصل خو د یہی چاہتے ہیں ۔ کیونکہ اﷲ تعالیٰ صرف انہیں بدلتا ہے جو اپنی حالت خود بد لنا چاہتے ہیں ۔ پور ے عالمی و کائناتی