- الإعلانات -

منگل میں جنگل

جنگل میں منگل قائم کرنا پرانی کہاوت ہے جیسے بھارتی سابق وزیر کان کنی نے اپنی بیٹی کی شادی بنگلور کے فرضی محل میں کرکے جنگل میں منگل کی صورت پیداکی ہے بنگلوری وزیر بھی پاکستانی سیاستدانوں کی طر ح مال و دولت کا کچھ ہی شوقین ہے مو صوف خباردھن ریڈی تین سال جیل کی سزا کرپشن کے الزام میں کاٹ کر ابھی رہا ہوئے تو بیٹی کی شادی پر دولت کو بارش کی طرح بہا کر دنیا میں مشہور ہوئے ہیں میانوالی ضلع کا ایک گاؤں جس کا موضع 51000 کنال اراضی پر مشتمل ہے یہ خوبصورت نقشہ پر ہونے کے باوجود نام سے گندا کے نام مشہور ہے موضع گندا کالا با غ بنوں روڈ سے تقریباً 8 کلو میٹر دور دریاے سندھ کے کنارے واقع ہے گندا شہر گندا�آبادی یا گندا موضع کے لوگوں کی ایک بنیادی خوبی تھی کہ ہر فرد باریش تھا مگر اب زمانے نے گندا کو گندا کرتے ہوئے داڑھی منڈانے کی اکاد کا بیماری لگادی ہے گندا کی آبادی 10 ہزار افراد پر مشتمل ہے مگر اس دس ہزار کی آبادی میں سے دو سو لوگ بھی سرکاری ملازم نہیں ہونگے اور ان دوسو میں سے 100 پاک فوج کے ملازم ہوں گے گندا سڑک سے دور ہے مگر دریا ئے سندھ کے شرقی کنارے آباد ہے گندا سے لوگوں کا بڑا کاروبار کاشتکاری ہے ہر شخص اپنے ذاتی رقبہ سے گندم کپاس مکئی کماد ٹماٹر گوبی گاجر مولی اور تمباکو اور خربوزے تربوز کاشت کرتا ہے بلکہ گندا کا تربوز اور گندا کی مولی کسی بھی فضل کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا گندا کا تمباکو پنجاب کے ہر ضلع کے مقابلے میں اچھا ہوگا گندا کے تربوز پورے صوبہ خیبرپختونخواہ میں بلکہ افعانستان تک جاتے ہیں یہ انتہائی زرخیز علاقہ ہے جس کا ہرفرد اپنی محنت کرکے روزی کماتا ہے یہاں کے لوگ خالصتاًسچے مسلمان اور اچھے انسان ہیں یہ نہ تو ملک پر بوجھ ہیں اور نہ معاشرے کیلئے کوئی مسئلہ بلکہ گندا کے لوگ ہر سال ہزاروں ٹن گندا حکومتی مراکز میں جمع کراکر قومی ضرورت پوری کرتے ہیں گندا کے علاقہ کا ایک انچ زمین بھی بنجر نہ ہے یہ ضرورہے کہ یہ علاقہ دریائے سندھ کا پیلامیدان ہے دریائے سندھ میں جب طفیاتی اور سیلاب اونچے درجے آئے تو دریا کناروں سے باہر لکل کر اس علاقے کو زیر آب لے آتا ہے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے گزشتہ سال کے سیلاب کے متاثرین کیلئے گندا ماڈل ولیج سکیم متعارف کرائی مگراب محکمہ جنگلات نے پاکستان اٹامک کو اپنے علاقے مظفرپور دیکر موضع گندا پر نظریں جمالی ہیں کہ اس زرخیرہ علاقہ میں جنگلات کاشت کرنے کیلئے یہ علاقے خرید لیئے جائیں اعلاقہ کے مکینوں نے ڈی سی آفس میانوالی جا کر احتجاج کیاہے کہ شہر اور زراعت کو برباد کرکے جنگل اگانے والے احمق ہیں ان کا کہنا تھا کہ وہ علاقہ جو سرسبز شاداب ہے جہاں رنگا رنگ کا اناج پیدا ہوتا ہے جہاں کے لوگ لاہور کراچی والوں کیلئے غلہ پیدا کرتے ہیں جہاں کی 98 فیصد آبادی زراعت سے واپستہ ہے اس علاقہ کو جنگلات میں تبدیل کرنا سکھا شاہی قائم کرنے کے مترادف ہے ۔یقیناًجنگلات ہی سے زندگی ہے جنگلات ہی ہماری ضرورت ہیں جنگلات فضا کو صاف اور ماحول کو بہتر بناتے ہیں مگر آباداور شاداب علاقوں کو جنگلات میں تبدیل کرنا بھی احمقی کی تما م حدود پھلانگنے کے برابر ہوگا ہاں محکمہ جنگلات نے جنگلات لگانے ہیں تو نہر تھل برجیکٹ کے دونوں کنارے کروڑوں پودے لگائے جاسکتے ہیں جو ایک طرف نہر کا رسنے ولا پانی استعمال کریں گے وہیں یہ پورے نہر کے کناروں کو مضبوط بنا دیں گے اور محکمہ نہر بڑی مقدار میں شجرکاری کرنا چاہتی ہے تو موضع یاروخیل کچہ ۔ نارو والا۔ نورنگا۔ شہبازخیل کچہ۔ بلو خیل کچہ ۔گلوگارا۔ کچہ روکھڑی۔ کے درجنوں مواضع جات مرکزی حکومت نے چشمہ جھیل ۔ وپڈا کے نام کرارکھے ہیں جو مختلف قبضہ گروہوں کے قبضے میں ہیں ان علاقوں میں محکمہ جنگلات شجرکاری کرے تو دریا کا یہ علاقہ جنگلات کی پیداور بڑھانے اور ماحول میں بہتری کرنے میں بڑامعاون ثابت ہو سکتا ہے اگر اس علاقہ میں محکمہ جنگلات شجر کاری کرے تو سالانہ کروڑوں ٹن لکڑی پیدا کی جاسکتی ہے ہاں وہ محکمہ جنگلات والے زرخیزاور سرسبز وشاداب علاقوں کو جنگلات میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں تووہ احمق ہیں یا پھر ملک اور قوم کے دشمن ! اگر گندا خانے خٰل جیسے علاقوں کو زبردستی جنگلات میں تبدیل کی گیا تو ان علاقوں میں رہنے والے کسان نہ صرف اجڑ جائیں گے یہ معاشرے کیلئے مصیبت بھی بن سکتے ہیں اور پھر لاکھوں ٹن گندم اور دوسری اجناس کی بھی قلت پیدا ہوسکتی ہے اگر محکمہ جنگلات نے موضع گندا تحصیل عیسیٰ خیل کو جنگلات میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو موضع گندا کے لوگ اس سکیم کی بھرپور مزاحمت کریں گے اور وزیر سماجی بہود بیگم ذکیہ شاہنواز نیازی اس علاقے کو برباد ہونے اور مقامی لوگوں کو دربدر ہونے سے بچانے کیلئے وزیرعلیٰ